تلنگانہ

بی جے پی کی جانب سے نظام آباد ضلع کے نام کو اندور کہنے پر مجلس کا شدید احتجاج – بلدی ووٹر لسٹ کل جماعتی اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر 

بی جے پی کی جانب سے نظام آباد ضلع کے نام کو اندور کہنے

پر مجلس کا شدید اعتراض

بلدی ووٹر لسٹ کل جماعتی اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر

نظام آباد:5/جنوری (اردو لیکس) نظام آباد میونسپل کارپوریشن کمشنر دلیپ کمار کی جانب سے آج دفتر بلدیہ میں بلدی انتخابات کے ووٹر لسٹ و فائنل ڈرافٹ کے اعلان سے قبل کل جماعتی سیاسی پارٹیوں پر مشتمل خصوصی اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہوکر رہ گیا۔ اجلاس میں صدر ضلع بی جے پی دنیش کمار کی جانب سے نظام آباد کو اندور کے نام سے مخاطب کرنے پر مجلسی قائدین نے اعتراض کیا اور کہاکہ یہ نظام آباد ہے اندور نہیں۔ جس پر بی جے پی صدر و قائدین چراغ پا ہوگئے اور کہاکہ ہم نظام آباد کو اندور ہی کہیں گے تم کو اگر نظام آباد کہنا ہو تو کہہ لیں۔ جس پر اجلاس میں نعرے بازی ہونے لگی۔ بی جے پی قائدین جے ایس آر اور وندے ماترم کے نعرے لگانے لگے ادھر مجلسی قائدین نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صدائیں دینے لگے۔ مجلسی قائدین ضلع صدر محمد فیاض الدین، ٹاؤن صدر مجلس شکیل احمد فاضل، معتمد شہباز احمد نے کہاکہ یہ سرکاری طورپر طلب کیا گیا خصوصی اجلاس ہے۔

 

مجلسی قائدین نے کمشنر بلدیہ دلیپ کمار سے کہاکہ وہ صرف سیاسی پارٹیوں کے دو یا تین نمائندوں کو ہی مدعو کرتے ہوئے مسائل و اعتراضات کی سماعت کریں غیر ضروری طورپر سب کو مدعو کرنے سے مسائل پیدا ہورہے ہیں اور قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیاجارہا ہے جو مناسب نہیں ہے۔ جس سے کمشنر بلدیہ نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے چمبر میں سیاسی پارٹیوں کے دو نمائندے صدر اور سکریٹری کو مدعو کرتے ہوئے ووٹر ڈرافٹ فائنل لسٹ کو قطعیت دیں گے اور 10/جنوری کو الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق فائنل ڈرافٹ نوٹیفکیشن ووٹر لسٹ کا اعلان کریں گے۔

 

قبل ازیں دفتر بلدیہ نظام آباد میں آج کل جماعتی خصوصی پارٹیوں پر مشتمل اجلاس 2بجے دن شروع ہوا۔ اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے کمشنر بلدیہ دلیپ کمار نے کہاکہ ووٹر لسٹ ڈرافٹ مسودہ کی فہرست ڈویژن سطح پر جاری کی گئی تھی جس میں غلطیاں ہونے اور بے حساب زائد ناموں کے اندراج ہونے کی ہر ایک سیاسی پارٹی نے اعتراض کرتے ہوئے غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نظام آباد میں اسمبلی اور پارلیمنٹ کے پولنگ اسٹیشن کی تعداد صرف (336) تھی لیکن بلدی انتخابات میں پولنگ اسٹیشن کی تعداد (413) ہوگئی ہے۔ اور پولنگ اسٹیشن میں ووٹرس کی تعداد (800) تک رہے گی

 

۔ اس موقع پر صدر ضلع اقلیتی سیل ٹی آر ایس نوید اقبال اور بی جے پی ضلع صدر دنیش کمار، قائد کانگریس نرالا رتناکر اور مجلسی صدر شکیل احمد فاضل، اور صدر ضلع مجلس فیاض الدین نے اعتراضات کرتے ہوئے کہاکہ بغیر بی ایل او، ریونیو اور ٹاؤن پلاننگ عہدیدار وں کے فیلڈ پر سروے کئے بغیر ڈویژنوں کی حد بندی کرنے سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ان کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے ووٹر فائنل ڈرافٹ کرنے سے تمام شکایتیں دور ہوجائیں گی۔ اور غلطیوں سے پاک فائنل ڈرافٹ لسٹ تیارکریں۔ جس سے کمشنر بلدیہ نے اتفاق کیا اور 10/جنوری کو ووٹر لسٹ ڈرافٹ فائنل کی اشاعت و اعلان سے قبل 9/جنوری کو کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے فائنل ڈرافٹ کاجائزہ لیا جاسکتا ہے۔

 

یہاں تک تو اجلاس پرامن طورپر جاری رہا۔ اس کے بعد ہی صدر ضلع بی جے پی دنیش کمار نے نظام آباد کو اندور کہنے پر اعتراض کیا گیا اور اجلاس میں افراتفری پھیل گئی اور اجلاس کو کمشنر بلدیہ کے چمبر میں منتقل کردیا گیا۔ اس اجلاس میں کانگریس سٹی صدر راما کرشنا، نرالا رتناکر، بی جے پی قائدین نیالم راجو، آکولہ سرینواس، سائی وردھن، مجلسی قائدین محمد سلیم، محمد مستحسین، خلیل احمد، عبدالغفور، امرفاروق، عبدالعلی، ریاض احمد، ارشد پاشاہ، سرفراز خان، عزیز راہی، ٹی آر ایس قائدین محمد امتیاز، سرپاراجو، دنڈوشیکھر، سی پی آئی رمیش بابوکے علاوہ تمام پارٹیوں کے قائدین وکارکنوں کے علاوہ بلدی عہدیداروں نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button