جمعہ کے خطبات: مسائل کا حل یا رسمی عمل؟

تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی

ہندوستان میں یومِ جمعہ صرف ایک عبادت یا رسمی اجتماع نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے روحانی سکون، فکری رہنمائی اور اجتماعی بیداری کا سب سے بڑا موقع ہے۔ تاہم آج کے دور میں ہندوستانی مسلمانوں کو متعدد محاذوں پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے دینی، سماجی اور آئینی حقوق مسلسل خطرے میں ہیں، مساجد، مکاتب، مدارس اور قبرستانوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، اور ان کے قیمتی وقت اور آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں پر زائد طاقت کے مظالم، مذہبی آزادی کی پامالی، ان کی عزت و آبرو پر حملے اور ان پر نفرت انگیز رویّے نہ صرف ان کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔ ایسے میں یومِ جمعہ کا منبر صرف عبادت یا نصیحت کے لیے محدود رہ جائے تو یہ اجتماع حقیقی معنوں میں امت کے لیے فائدہ مند نہیں رہتا۔ منبرِ جمعہ کو مسلمانوں کو ان کے حقوق، آزادی، حفاظت، اور عصری چیلنجز سے باخبر کرنے کا پلیٹ فارم بنایا جانا چاہیے۔
ہندوستان میں یومِ جمعہ کے منبر آج بھی اکثریت کی نظر میں صرف رسمی عبادت یا نصیحت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ زیادہ تر مساجد میں خطبات میں پرانی کتابوں اور دہائیوں پرانی مثالوں کا سہارا لیا جاتا ہے، اور موجودہ معاشرتی، سماجی اور قانونی چیلنجز پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اس دوران مسلمانوں کی نوجوان نسل اور بوڑھے دونوں دیکھ رہے ہیں کہ ان کے مساجد، مدارس اور قبرستانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے، اور مذہبی آزادی میں مداخلت کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ مسلمان نوجوان، جو اپنے دین، تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے حساس ہیں، منبر پر یہ دیکھ کر کبھی کبھی مایوسی محسوس کرتے ہیں کہ وہ مسائل جن کا سامنا وہ روزمرہ زندگی میں کر رہے ہیں، ان پر خطبوں میں کم گفتگو ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شعور اور عملی رہنمائی کی کمی پیدا ہوتی ہے، اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ عبادت کے دوران ان کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
منبرِ جمعہ کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ائمہ مساجد نہ صرف دینی اصول بیان کریں بلکہ عوام اور نوجوانوں کو یہ شعور دیں کہ ان کے مساجد، مدارس اور قبرستانوں پر قبضے، حقوق کی پامالی اور مذہبی آزادی پر حملے کس طرح غیر قانونی اور غیر جائز ہیں۔ خطبے میں اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ مسلمان اپنے حقوق کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں اور کس طرح معاشرتی اور قانونی طریقوں سے اپنی کمیونٹی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مزید برآں، خطباء کو چاہیے کہ وہ منبر کو نوجوانوں کے لیے ایک فکری اور عملی تربیت کا مرکز بنائیں، جہاں انہیں یہ سکھایا جائے کہ موجودہ سماجی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود وہ کس طرح متحد رہ کر اپنے حقوق اور مقدسات کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں یہ شعور پیدا ہونا ضروری ہے کہ ان کے اعمال اور اجتماعی کوششیں امت کی بقاء اور حفاظت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اگر منبرِ جمعہ صرف پرانی روایت اور کتابی مواد تک محدود رہے، تو یہ قیمتی پلیٹ فارم اپنی اصل افادیت کھو دیتا ہے۔ مگر اگر ائمہ خطبات میں حالیہ چیلنجز، حقوق کی پامالی، مذہبی آزادی اور اجتماعی اتحاد جیسے موضوعات شامل کریں، تو یہ منبر نہ صرف دینی تعلیم کا ذریعہ بنے گا بلکہ امت کی فکری بیداری اور عملی رہنمائی کا بھی مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس طرح یومِ جمعہ کے منبروں پر موجود روایتی جمود کو توڑ کر مسلمانوں کے لیے ایک حقیقی، معلوماتی اور عملی پلیٹ فارم بنایا جا سکتا ہے، جو امت کو متحد، محفوظ اور شعوری طور پر مضبوط بنائے۔
یومِ جمعہ کا اجتماع نوجوان مسلمانوں کے لیے محض عبادت کا موقع نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں انہیں اپنے اندر قیادت، خود اعتمادی اور فکری صلاحیتیں پیدا کرنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔ ہندوستانی نوجوان مسلمان آج مختلف چیلنجز، جیسے تعلیمی دباؤ، معاشرتی تنقید اور اپنی کمیونٹی میں اثر ڈالنے کی ضرورت، کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن اکثر منابر اس موقع کو صرف روحانی نصیحت تک محدود رکھ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں عملی قیادت اور اجتماعی سوچ کی کمی رہ جاتی ہے۔ منبرِ جمعہ نوجوانوں کے لیے ایک عملی تربیت گاہ بھی بن سکتا ہے، جہاں انہیں یہ سمجھایا جائے کہ قیادت صرف بلند آواز میں تقریر کرنا یا حکم صادر کرنا نہیں، بلکہ دوسروں کی رہنمائی، مشترکہ فیصلوں میں حصہ لینا اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھانا بھی قیادت کا حصہ ہے۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر تنقیدی سوچ، منصوبہ بندی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں تاکہ وہ معاشرت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ یومِ جمعہ کے خطبات میں نوجوانوں کو یہ بھی بتایا جا سکتا ہے کہ قیادت کے لیے صرف ذاتی کامیابی کافی نہیں، بلکہ اجتماعی فلاح، کمیونٹی کی ترقی اور ایک مضبوط اخلاقی معیار کو قائم رکھنا بھی لازمی ہے۔ نوجوانوں کو عملی مثالوں کے ذریعے یہ سمجھانا ضروری ہے کہ چھوٹے منصوبے، سماجی خدمت اور کمیونٹی کی رہنمائی مستقبل کی قیادت کی بنیاد رکھتی ہے۔
منبر پر اس بات پر بھی زور دینا چاہیے کہ قیادت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں اعتماد، تحمل، اور مسائل کے حل کے لیے صبر و حکمت پیدا ہونا ضروری ہے۔ کسی بھی معاشرتی یا دینی کام میں مستقل مزاجی اور ذمہ داری کا جذبہ نہ ہو تو قیادت کا تصور محض لفظی رہ جاتا ہے۔ خطباء کو چاہیے کہ نوجوانوں میں یہ شعور پیدا کریں کہ حقیقی قیادت عمل، اخلاق اور مثبت اثرات سے جڑی ہوتی ہے، نہ کہ صرف درخشاں تقریر یا عوامی پذیرائی سے۔ اگر منبرِ جمعہ نوجوانوں کو اس نقطے پر روشناس کرائے کہ کس طرح اپنی صلاحیتوں، اخلاقی معیار اور سماجی شعور کو بڑھا کر وہ اپنی کمیونٹی میں مؤثر قیادت قائم کر سکتے ہیں، تو یہ دن نہ صرف روحانی سکون کا ذریعہ ہوگا بلکہ نوجوانوں کی فکری، عملی اور سماجی تربیت کا ایک قیمتی موقع بھی بن جائے گا۔ یہی یومِ جمعہ کا اصل فائدہ اور نوجوانوں کے لیے ضائع نہ ہونے والا موقع ہے۔
مسلمانوں کو اکثر یہ علم نہیں ہوتا کہ آئینِ ہند انہیں کس حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، اور کس طرح وہ اپنے مساجد، مدارس، مکاتب اور قبرستانوں کو قانونی دائرے میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس لاعلمی کی وجہ سے کئی مواقع پر ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اور کمیونٹی کے مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ منبرِ جمعہ اس سلسلے میں ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے، جہاں مسلمانوں کو یہ سکھایا جائے کہ قانون اور آئین کے مطابق اپنے حقوق کا استعمال اور حفاظت کیسے کی جائے۔ مزید برآں، خطبات میں تعلیمی شعور بھی فروغ دینا ضروری ہے۔ نوجوان مسلمانوں کو یہ سمجھانا چاہیے کہ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت نہ صرف ذاتی ترقی کے لیے ضروری ہیں بلکہ کمیونٹی کی فلاح اور حفاظت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ منبر پر یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ تعلیم کے بغیر مسلمان اپنے حقوق کی مکمل حفاظت اور سماجی ترقی کے مواقع سے محروم رہ سکتے ہیں۔ منبرِ جمعہ کے ذریعے مسلمانوں میں معاشرتی ذمہ داری اور نظم و ضبط کے اصول بھی فروغ دیے جا سکتے ہیں۔ نوجوان اور بڑے مسلمان اس بات کو سمجھیں کہ صرف عبادت کرنا کافی نہیں بلکہ معاشرت میں اپنے کردار، حقوق کی حفاظت اور کمیونٹی کی فلاح کے لیے عملی اقدامات کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اگر یومِ جمعہ کے خطبات میں تعلیم، آئین اور قانونی بیداری کو شامل کیا جائے تو یہ نہ صرف امت کی فکری اور عملی تربیت کا ذریعہ بنے گا بلکہ مسلمانوں کو اپنے حقوق کا شعور اور معاشرتی تحفظ بھی فراہم کرے گا۔ یہ منبر ایک ایسا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے جو امت کو محفوظ، باخبر اور مستعد رکھنے میں کردار ادا کرے۔ آج کے ہندوستانی معاشرے میں مسلمانوں کو متعدد خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ شدت پسندانہ رویے، اشتعال انگیزی، اور بعض اوقات پرتشدد واقعات نے معاشرت میں مسلمانوں کی حفاظت کو ایک سنگین مسئلہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں، صرف انفرادی احتیاط کافی نہیں بلکہ کمیونٹی کی اجتماعی حفاظت اور منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ یومِ جمعہ کے منابر ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جہاں مسلمانوں کو عملی رہنمائی دی جا سکتی ہے تاکہ وہ اجتماعی چیلنجز کا سامنا بہ حکمت اور نظم کے ساتھ کر سکیں۔ منبرِ جمعہ کا ایک اہم پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ ائمہ مساجد عوام کو اجتماعی فیصلوں کی اہمیت، باہمی تعاون اور کمیونٹی کی حفاظت کے طریقے سکھائیں۔ نوجوان اور بڑے مسلمان سیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح مشترکہ منصوبہ بندی، مشاورت اور ذمہ داری بانٹ کر خطرناک حالات کا سامنا کیا جائے۔ اس سے کمیونٹی میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ اس کا کردار پورے معاشرتی نظام کے لیے اہم ہے۔ مزید برآں، منبر کے ذریعے مسلمانوں کو یہ بھی سمجھایا جا سکتا ہے کہ خطرناک حالات میں غصے یا بے سوچے ردِ عمل کے بجائے حکمت، صبر اور مؤثر مشورے اختیار کرنا ضروری ہے۔ خطباء نوجوانوں کو عملی مثالوں کے ذریعے یہ سکھا سکتے ہیں کہ کس طرح مشکل حالات میں عملی حکمت اور اجتماعی منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے خاندان، محلہ اور کمیونٹی کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔
منبر پر اس بات کو بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے کہ کمیونٹی کی باوقار اور مستحکم حیثیت کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور اجتماعی مفاد میں کام کرنا ضروری ہے۔ صرف ذاتی تحفظ یا محدود اقدامات کافی نہیں، بلکہ اجتماعی سوچ، منصوبہ بندی اور عملی اقدامات امت کو مضبوط اور باوقار بناتے ہیں۔ یومِ جمعہ کے خطبات اگر اس زاویے سے استعمال کیے جائیں کہ مسلمانوں میں اجتماعی شعور، عملی حکمت اور منظم دفاع پیدا ہو، تو یہ منبر نہ صرف روحانی اور فکری تربیت کا ذریعہ بنے گا بلکہ امت کی حفاظت، استقامت اور اجتماعی طاقت کو بھی فروغ دے گا۔ یہی منبر کا اصل مقصد اور امت کے لیے حقیقی افادیت ہے۔
الغرض، یومِ جمعہ کے منابر مسلمانوں کے لیے صرف روحانی اجتماع یا نصیحت کا موقع نہیں ہیں بلکہ امت کی فکری بیداری، عملی تربیت اور اجتماعی حفاظت کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ آج کے دور میں ہندوستانی مسلمان مختلف چیلنجز، جیسے نفرت، امتیازی سلوک، حقوق کی پامالی، مساجد اور مدارس پر قبضے، اور سماجی و قانونی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں منبر کو صرف پرانی روایات یا کتابی نصائح تک محدود رکھنا امت کے لیے حقیقی فائدہ نہیں دیتا۔ ائمہ مساجد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خطبات میں نوجوانوں اور بڑے مسلمانوں کو شعوری، عملی اور اجتماعی تربیت فراہم کریں۔ انہیں چاہیے کہ:
٭حقوق اور قانونی شعور فراہم کریں: منبر پر یہ سمجھائیں کہ مسلمانوں کو آئین اور قانون کے تحت کون سے حقوق حاصل ہیں اور انہیں محفوظ رکھنے کے عملی طریقے کیا ہیں۔
٭قیادت اور خود اعتمادی فروغ دیں: نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ قیادت صرف درخشاں تقریر یا درخت کے سائے میں رہنا نہیں بلکہ عملی فہم، منصوبہ بندی، اور کمیونٹی کی خدمت بھی قیادت ہے۔
٭اجتماعی حفاظت اور حکمت عملی کی تربیت دیں: مسلمانوں کو یہ سمجھائیں کہ خطرناک اور نفرت انگیز ماحول میں صبر، حکمت، مشاورت اور منظم اقدامات کے ذریعے اپنی کمیونٹی کو محفوظ اور مستحکم رکھا جا سکتا ہے۔
٭تعلیمی اور سماجی شعور پیدا کریں: خطبات میں تعلیم، سماجی ذمہ داری اور اپنی کمیونٹی میں مثبت کردار ادا کرنے کی اہمیت اجاگر کریں۔
٭موجودہ چیلنجز اور حقائق سے آگاہ کریں: مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ ان کے مساجد، مدارس، مکاتب اور قبرستانوں پر کس طرح خطرات بڑھ رہے ہیں اور انہیں حقوق کی حفاظت، اتحاد اور مشترکہ کوشش کے ذریعے کس طرح محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
اگر ائمہ مساجد ان نکات کو منبر میں شامل کریں تو یومِ جمعہ نہ صرف عبادت کا دن ہوگا بلکہ امت کی عملی رہنمائی، اجتماعی قوت، شعوری بیداری اور محفوظ مستقبل کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بن جائے گا۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جسے بروقت استعمال کر کے امت کے نوجوان اور بزرگ دونوں میں اعتماد، شعور اور قیادت کی صلاحیتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ یعنی، اصل مغز یہ ہے کہ منبر کو محض عبادت یا رسمی نصیحت کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ امت کے ہر فرد کو باخبر، باعمل اور محفوظ بنانے کے لیے ایک مکمل رہنمائی کا مرکز بنایا جائے۔



