حضرت زینب بنت جحشؓ: اطاعتِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ اور اسلامی مساوات کا تابندہ استعارہ”مولانانفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حضرت زینب بنت جحشؓ: اطاعتِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ اور اسلامی مساوات کا تابندہ استعارہ”مولانانفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد، 8 جنوری (پریس ریلیز)
خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں امّ المؤمنین حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی سیرتِ طیبہ، تقویٰ، ایثار، اطاعتِ رسول ﷺ اور اسلامی مساوات کے درخشاں پہلوؤں پر مفصل روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا جب اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مدینہ منورہ تشریف لائیں تو نہایت وقار، سکون اور طمانیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگیں۔ قرابتِ نسب کی بنا پر آپ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت و سرپرستی میں رہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ امیمہ بنت عبدالمطلب تھیں، اس اعتبار سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور اکرم ﷺ کی حقیقی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ آپ نے بچپن سے جوانی تک رسولِ اکرم ﷺ کی شفقتوں اور تربیت کے سائے میں پرورش پائی۔
مولانا نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حسنِ سیرت و صورت دونوں سے مالا مال فرمایا تھا۔ آپ عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، خشوع و خضوع اور شب بیداری میں اپنی مثال آپ تھیں۔ کثرتِ عبادت، روزہ داری اور اللہ کے حضور گریہ و زاری آپ کی زندگی کا مستقل وصف تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے آپ کی روحانی کیفیت کو دیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ “یہ اواہ ہیں”، یعنی نہایت خاشع و متضرع بندہ۔
انہوں نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے اقوال نقل کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو دین داری، راست گفتاری، سخاوت اور اللہ کی رضا کے لیے سرگرمی میں سب سے ممتاز قرار دیا۔ اگر کبھی مزاج میں تیزی آ بھی جاتی تو فوراً ندامت و رجوع اختیار کرلیتیں، جو ان کے اعلیٰ اخلاق کی روشن دلیل ہے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے واقعۂ افک کے نازک مرحلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کٹھن آزمائش میں بھی حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے حق گوئی اور دیانت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور صاف لفظوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی گواہی دی، حالانکہ اس معاملہ میں ان کی سگی بہن شامل تھیں۔ یہ طرزِ عمل ان کے تقویٰ و للّٰہیت کا عظیم مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا اللہ تعالیٰ پر توکل غیر معمولی تھا۔ نکاح کے معاملہ میں بھی جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ سامنے آیا تو بلا تردد سرِ تسلیم خم کردیا۔ یہی وہ موقع تھا جب قرآنِ مجید کی آیت نازل ہوئی جس میں ایمان والوں کو یہ اصول عطا کیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کے بعد کسی کو اختیار باقی نہیں رہتا۔
مولانا نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی سخاوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یتیم، بیوائیں، فقراء اور مساکین آپ کی توجہ اور عنایت کا مرکز تھے۔ آپ محنت و دستکاری کے ذریعے جو کچھ کماتیں، اللہ کی راہ میں خرچ کردیتیں۔ اسی سخاوت کے سبب آپ اس بشارت کی عملی تصویر بنیں کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد سب سے پہلے آپ ہی کا وصال ہوا، جس پر مدینہ کے غریب طبقے میں بے چینی پھیل گئی۔
انہوں نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے واقعہ کو اسلامی مساوات کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے نسب، حسب اور طبقاتی تفاخر کو مٹا کر تقویٰ کو معیارِ فضیلت بنایا۔ اگرچہ یہ ازدواجی زندگی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی، تاہم اس کے ذریعے جاہلی رسمِ تبنیّت کا خاتمہ اور شریعت کے ایک اہم حکم کا عملی نفاذ مقصود تھا۔
آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ، ایثار، صبر اور حق گوئی کا حسین مرقع ہے۔ امتِ مسلمہ بالخصوص خواتین کے لیے آپ کی سیرت ایک مکمل نمونۂ حیات ہے جس سے ایمان، عمل اور کردار کی راہیں روشن ہوتی ہیں۔



