مضامین

راستہ ہمارا مشترکہ حق ہے۔اسلامی نقطۂ نظر

از:مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

توپران ضلع میدک تلنگانہ انڈیا

Mufti

اسلام ایک کامل، ہمہ گیر اور آفاقی ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی عبادات سے لے کر اجتماعی نظم، تمدنی شعور اور ریاستی ذمہ داریوں تک ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی اساس ہی اس حقیقت پر قائم ہے کہ انسان اکیلا نہیں جیتا بلکہ معاشرے میں رہتا ہے، اور معاشرے کی صحت کا دارومدار حقوق و فرائض کے توازن پر ہے۔ انہی حقوق میں ایک نہایت بنیادی مگر شدید طور پر نظر انداز کیا جانے والا حق “راستے کا حق” ہے۔ شریعتِ اسلامی کی نگاہ میں راستہ محض اینٹ، پتھر یا اسفالٹ کا نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی امانت، مشترکہ حق اور اخلاقی امتحان ہے، جس کے ذریعے کسی قوم کے تہذیبی شعور، ایمانی حرارت اور اجتماعی ذمہ داری کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

 

قرآنِ مجید نے انسانی معاشرت کی بنیاد عدلِ اجتماعی پر رکھی ہے اور ہر اس طرزِ عمل کو ممنوع قرار دیا ہے جو اجتماعی حقوق کو مجروح کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ (النحل:90) یہاں “بغی” کا مفہوم محض کھلا ظلم نہیں بلکہ ہر وہ زیادتی ہے جو کسی مشترکہ حق میں کمی یا تجاوز کی صورت اختیار کرے، اور راستوں پر قبضہ، رکاوٹ، بے ہنگم استعمال اور ایذاء رسانی اسی بغی کی نمایاں شکلیں ہیں۔ قرآن مزید تنبیہ کرتا ہے: وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ (الأعراف:85) یعنی لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کرو، اور چونکہ راستہ سب کا حق ہے اس لیے اس میں معمولی سی کمی بھی اجتماعی ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔

 

اسی طرح فرمایا: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (الأعراف:56) اور یہ حقیقت واضح ہے کہ راستوں کی بدنظمی، تجاوزات، شور و ہنگامہ، دھکم پیل اور کمزوروں کے لیے مشکلات پیدا کرنا اسی فسادِ فی الارض کی عملی صورتیں ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے راستے کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ (صحیح بخاری:2465، صحیح مسلم:2121) اور جب صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ ہمیں راستوں پر بیٹھنے کی مجبوری ہوتی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ پھر راستے کے حقوق بیان فرمائے جن میں نگاہ نیچی رکھنا، تکلیف سے بچنا، سلام کا جواب دینا اور نیکی کا حکم و برائی سے روکنا شامل ہے۔ یہ حدیث اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اسلام میں راستہ ایک اخلاقی، روحانی اور سماجی دائرہ ہے جہاں انسان کے ایمان کی عملی آزمائش ہوتی ہے۔ اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا: الإيمان بضع وسبعون شعبة…وأدناها إماطة الأذى عن الطريق (صحیح مسلم:35) یعنی راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کا حصہ ہے، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اسلام کا تصورِ ایمان خدمتِ خلق اور اجتماعی آسانی سے جدا نہیں۔ فقہِ اسلامی میں راستے کو “حقِ عام” قرار دیا گیا ہے۔

 

فقہاء نے وضاحت کی ہے کہ راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنا، ذاتی سامان رکھنا، ناجائز تعمیر کرنا یا گزرنے والوں کو اذیت دینا شرعاً حرام ہے۔ علامہ ابنِ عابدین شامیؒ لکھتے ہیں کہ راستے میں رکاوٹ ڈالنا کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ حقوق العباد میں داخل ہے، اور حقوق العباد میں کوتاہی قیامت کے دن سخت مواخذے کا سبب بنے گی۔ خلافتِ راشدہ خصوصاً حضرت عمر بن خطابؓ کا دور اس حوالے سے مثالی تھا۔ منقول ہے کہ حضرت عمرؓ راستوں کی نگرانی خود فرمایا کرتے تھے اور اگر کہیں کوئی بااثر شخص تجاوز کرتا تو اس کے اثر و رسوخ کو خاطر میں لائے بغیر فوراً تجاوز ختم کروا دیتے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے: “اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ اس کا سوال عمر سے کیا جائے گا” یہ قول اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی قیادت کے نزدیک عوامی حقوق کس قدر مقدس تھے۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے: “ریاست کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں” اور راستوں پر ظلم درحقیقت اجتماعی ظلم کی بنیاد ہوتا ہے۔ اکابرِ امت نے بھی راستے کے حق کو تہذیب کا معیار قرار دیا ہے۔

 

امام غزالیؒ احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ بازار اور راستے انسان کے اخلاق کا آئینہ ہوتے ہیں، جو شخص وہاں صبر، حیا اور شرافت کا مظاہرہ کرے وہی حقیقی متقی ہے۔ حضرت جنید بغدادیؒ سے منقول ہے کہ “تصوف راستے میں کسی کو تکلیف نہ دینے کا نام ہے” یہ ملفوظ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ روحانیت کا اعلیٰ درجہ بھی حقوق العباد کی حفاظت سے وابستہ ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرمایا کرتے تھے: “اللہ تک پہنچنے کے راستے بند نہیں ہوتے، بند وہ دل ہوتے ہیں جو بندوں کو اذیت دیتے ہیں” اور بندوں کو اذیت دینے کی سب سے عام صورت راستوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے قوموں کے عروج و زوال کو نظم و ضبط سے جوڑا ہے اور نظم کا پہلا مظہر عوامی مقامات پر نظر آتا ہے۔ ان کے نزدیک وہ قوم جو راستے کا ادب نہیں جانتی وہ آزادی اور خودی کی امین نہیں ہو سکتی۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے واضح کیا کہ اسلامی ریاست کا فریضہ صرف نماز اور روزے کا نظام نہیں بلکہ شہری حقوق، عوامی سہولیات اور راستوں کی حفاظت بھی ہے کیونکہ یہی عدلِ اجتماعی کا عملی اظہار ہے۔

 

آج کے دور میں راستوں پر ناجائز تجاوزات، ٹریفک کی بدنظمی، کمزور طبقات خصوصاً عورتوں، بچوں اور معذوروں کے لیے مشکلات، شور و آلودگی اور اجتماعی بے حسی اس بات کا اعلان ہیں کہ ہم نے اسلام کے اجتماعی مزاج کو فراموش کر دیا ہے، حالانکہ اسلام نے بازار، گلی اور شاہراہ کو بھی عبادت گاہ کی طرح پاکیزگی اور وقار کا مستحق قرار دیا ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء (سنن ترمذی:1924) زمین والوں پر رحم کا پہلا تقاضا یہی ہے کہ ان کے راستے محفوظ، صاف اور باوقار ہوں۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ راستہ اسلام میں محض گزرگاہ نہیں بلکہ عدلِ اجتماعی کا پیمانہ، ایمان کی عملی شاخ اور اجتماعی امانت ہے۔ جو قوم راستوں کی حفاظت کرتی ہے وہ دراصل انسانیت، نظم اور تہذیب کی حفاظت کرتی ہے، اور جو قوم اس حق کو پامال کرتی ہے وہ اپنے اخلاقی اور سماجی زوال کی بنیاد خود رکھتی ہے۔

 

اسلامی معاشرے کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب ہم راستے کو واقعی مشترکہ حق سمجھیں، کیونکہ اسلام کی نگاہ میں راستے کی اصلاح ہی معاشرے کی اصلاح

متعلقہ خبریں

Back to top button