تلنگانہ

17 سال بعد بچھڑا بیٹا خاندان سے جا ملا شردھا ریہیبلیٹیشن فاؤنڈیشن کی انسان دوست کوشش، اہلِ خانہ میں خوشی کی لہر ۔ سید انصار کی میڈیا سے بات چیت

عادل آباد 9/جنوری (اردو لیکس) تلنگانہ کے عادل آباد میں 17 سال قبل لاپتہ ہونے والا ایک نوجوان بالآخر اپنے اہلِ خانہ سے مل گیا، جس پر خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تفصیلات کے مطابق، عادل آباد مستقر کے محلہ خانہ پور کالونی وارڈ نمبر 32 کے ساکن شیخ محبوب کے فرزند شیخ رفیق ذہنی صحت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے 17 برس قبل گھر سے لاپتہ ہو گئے تھے۔

 

اہلِ خانہ سمیت وارڈ نمبر 32 عبداللہ چوک خانہ پور سے تعلق رکھنے والے سید انصار، پرویز احمد نے ان کی تلاش میں برسوں کوششیں کیں، تاہم کوئی ٹھوس معلومات حاصل نہ ہو سکیں۔کچھ عرصہ قبل وشاکھاپٹنم کے اے یو ڈی سی سے شدھاون ریہیبلیٹیشن سینٹر ناگپور منتقل کیا گیا تھا۔جہاں ان کا علاج و نگہداشت کی گئی اور ان کی صحت میں نمایاں بہتری آئی۔ صحت بہتر ہونے کے بعد شیخ رفیق کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر فاؤنڈیشن کے ذمہ داران راکیش موریہ نے ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بخیریت خاندان کے حوالے کر دیا۔برسوں بعد اپنے عزیز کو واپس پا کر اہلِ خانہ و اہلیان محلہ میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔

 

اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے کو برسوں بعد دیکھ کر اہلِ خانہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ اس موقع پر آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ اہلِ علاقہ نے شردھا ریہیبلیٹیشن فاؤنڈیشن کی اس انسان دوست کوشش کو سراہتے ہوئے ادارے کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا۔

 

یہ واقعہ نہ صرف انسانیت کی خدمت کی ایک شاندار مثال ہے بلکہ ان خاندانوں کے لیے امید کی کرن بھی ہے جو اپنے لاپتہ عزیزوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔اس موقع پر وارڈ نمبر 32 کے بی آر ایس لیڈر سید انصار، پرویز احمد، عبدالکلیم وارڈ 29، شیخ ظہیر، جابر احمد، شیخ مقبول و دیگر موجود تھے۔ شردھا ریہیبلیٹیشن فاؤنڈیشن کے ذمہ دار راکیش موریا اور عادل آباد کے سید انصار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس ضمن میں مزید تفصیلات بتائی۔شردھا ریہیبلیٹیشن فاؤنڈیشن کے ذمہ دار راکیش موریا نے بتایا کہ شدھاون ریہیبلیٹیشن فاؤنڈیشن، جو ذہنی مریضوں اور لاوارث افراد کی بحالی کے لیے ملک بھر میں خدمات انجام دے رہی ہے، نے ایک اور قابلِ ستائش کارنامہ انجام دیا ہے۔

 

ضلع عادل آباد، تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے شیخ رفیق نامی شخص کو، جو ذہنی بیماری کے باعث سڑکوں پر آوارہ حالت میں گھوم رہے تھے، علاج اور بحالی کے بعد ان کے اہلِ خانہ سے ملا دیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ شیخ رفیق کو 4 جولائی 2025 کو اے یو ڈی سی وشاکھاپٹنم سے شدھاون ریہیبلیٹیشن سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں 12 دسمبر 2025 کو ناگپور کے اشوک ون میں واقع شدھاون ریہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کیا گیا، جہاں ان کا مکمل طبی اور نفسیاتی علاج کیا گیا۔شدھاون ریہیبلیٹیشن سینٹر کے ماہر ڈاکٹروں کے مطابق مریض میں ممکنہ طور پر شیزوفرینیا کی تشخیص ہوئی تھی، تاہم مسلسل علاج، نگرانی اور مناسب ادویات کے بعد ان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے

 

اور اس وقت وہ مستحکم حالت میں ہیں۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ مریض کو آئندہ ایک سے دو سال تک باقاعدہ ادویات اور نفسیاتی فالو اَپ کی ضرورت رہے گی۔شدھاون ریہیبلیٹیشن فاؤنڈیشن کے عملے نے بتایا کہ ادارہ مکمل طور پر فلاحی بنیادوں پر کام کرتا ہے اور ذہنی مریضوں کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے۔یہ اقدام نہ صرف انسانیت کی خدمت کی ایک روشن مثال ہے بلکہ سماج کے ان افراد کے لیے امید کی کرن بھی ہے جو ذہنی بیماری کے باعث اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button