جنرل نیوز

حیدرآباد کی قدیم تہذیب اعلی اقدار، رشتوں کی اہمیت سے نئی نسل کو واقف کروائیں۔ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی کی تصنیف ”وہ بھولی داستان“ کی رسم اجراء۔اکبارین کا خطاب

حیدرآباد10/جنوری۔ حیدرآباد کی قدیم تہذیب، اعلی اقدار، رشتوں کی اہمیت سے نئی نسل کو واقف کروانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ نسل بکھر جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے ممتاز ماہر امراض چشم ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی کی کتاب ”وہ بھولی داستاں“ کی تقریب رسم اجراء میں کیا

 

جو 9جنوری کی شام میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر عابد معز نے صدارت کی۔ ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے نظامت کی، ڈاکٹر مشتاق علی، ڈاکٹر منصور علی خان لودھی، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، ڈاکٹر سید سمیع الدین کارڈیالوجسٹ (امریکہ)، حبیب بن عبد اللہ شہ نشین پر موجود تھے۔

 

مقررین نے ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی کی تصنیف کو بے مثال قلمی تخلیقی شاہکار قرار دیا۔ جس میں ڈاکٹر لودھی نے خاندان لودھی، قطب شاہی، آصف جاہی خاندان کی تاریخ، آندھرا پردیش کا قیام، تحریک تلنگانہ اور نئی ریاست کی تشکیل کی تاریخ کے علاوہ بیسویں صدی کے حیدرآباد کی یادوں کو خوبصورتی کے ساتھ سمیٹا ہے۔

 

حیدرآباد کے آستانے، بزرگان دین، محافل سماع، قوالی، شعراء کرام سے لے کر اسکولس،کالجس کے حالات، ماحول، عوامی مزاج، خاندانی رشتوں کی اہمیت کو بہت ہی دلچسپ اور دلکش انداز میں تحریر کیا۔ ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی جنہوں نے گرامر اسکول اور عثمانیہ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی ماضی میں اساتذہ کی تدریس سے دلچسپی، طلباء سے شفقت اور ان کے رعب و دبدبہ کو بھی بیان کیا۔

 

ڈاکٹر سکندر خان لودھی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ’کووڈ‘ کے دوران جب دنیا کی رفتار تھم سی گئی تھی اور ہر کوئی گھروں تک محدود ہو گیا تھا تب انہوں نے یہ کتاب لکھی۔ انہوں نے اپنے ماموں ممتاز ماہر امراض قلب ڈاکٹر نظام علی لودھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کی۔ جناب صلابت علی خان لودھی (ریاض) نے بھی خطاب کیا۔

 

اس تقریب میں ڈاکٹر زرینہ لودھی کے علاوہ جناب محمد قیصر صدر ہم ہندوستانی تنظیم، علاء الدین ذکی، اصغر حسینی اور کئی اہم شخصیات شریک تھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button