تلنگانہ

مساجد کی مرمت و آہک پاشی کے فنڈس میں تاخیر پر شدید تشویش، اقلیتی بجٹ کی صد فیصد منظوری و بروقت اجرائی کا بندگی پاشاہ نے کہا مطالبہ

فنڈس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ ایسے میں اقلیتی بہبود کے لیے مختص فنڈ سے مساجد کی داغ دوزی اور آہک پاشی کی خاطر درکار فنڈ کی اجرائی کو بھی جی ایچ ایم سی کے ذریعہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے مساجد کے امور اور ان کا تحفظ مستقبل میں محفوظ رہے گا۔

 

مولانا بندگی بادشاہ قادری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا کہ ماہ رمضان کے انتظامات کی رقم اس‌مہینہ کے ایک دہا نکل جانے کے بعد جاری کی جاتی ہے جو کہ انتہائی نامناسب بات ہے۔ مساجد کی آہک پاشی اور مرمت کے کام ماہ رمضان سے پہلے مکمل ہونے چاہیے لیکن چیکس کی اجرائی تک تو رمضان اپنے آخری دہے میں پہنچ چکا ہوتا ہے جس سے اس فنڈ کی اجرائی کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

 

بندگی بادشاہ نے وزیر اقلیتی بہبود سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ حکومت سے موثر نمائندگی کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کے لیے صد فیصد بجٹ کی منظوری اور لازمی طور پر اس کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ خاص کر اوقاف کے تحفظ‘ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اور اقلیتی اقامتی اداروں کے لیے خاطر خواہ فنڈس کی منظوری اور بروقت اجرائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خاص کر محکمہ اقلیتی بہبود پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ اس ادارے کا خدمات کی انجام دہی کا نظام مفلوج ہوگیا ہے

 

اور اس کا بجٹ اور پالیسی صرف کاغذ تک محدود ہیں۔ بے نتیجہ اجلاسوں کا اہتمام اور بے فیض گفتگو اس ادارے کی روش بن چکی ہے۔ اس کے برخلاف ایس سی، ایس ٹی اداروں کے تحت صد فیصد فنڈس کے استعمال کے تئیں متعلقہ عہدیداروں سے عہد لیاجاتا ہے۔ ایسے میں اقلیتوں کی بہبود کے لیے اس محکمہ کو دوبارہ کارکرد بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button