ایجوکیشن

اردو گھرمغلپورہ میں بچوں کا کامیاب اردوکتاب میلہ، 70ہزار کی کتابیں فروخت

کتابیں علم، اخلاق اور شعور کی بہترین رہنما،طلبہ کو کتابوں کا مطالعہ کرنے کا مشورہ : طارق انصاری

اردو گھرمغلپورہ میں بچوں کا کامیاب اردوکتاب میلہ، 70ہزار کی کتابیں فروخت

حیدرآباد(راست)کتاب انسان کو علم، اخلاق اور شعور عطا کرتی ہے،یہ خاموش مگر سچی دوست ہے،،مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا اور فکر کو وسعت دیتا ہے۔ کتابیں علم، اخلاق اور شعور کی بہترین رہنما ہیں۔ جو طالب علم روزانہ کچھ وقت مطالعہ کے لیے مخصوص کرتا ہے، وہ علم کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی حاصل کرتا ہے

 

، ان خیالات کا اظہار طارق انصاری (صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن)نے انجمن ادبِ اطفال تلنگانہ کے ز یر اہتمام ارد و گھر مغلپورہ می بچوں کے اردو کتاب میلہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں موبائل فون ایک مفید ذریعہ ضرور ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال وقت، توجہ اور ذہنی صلاحیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز(گواہ)نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اردو ہماری پہچان ہے،

 

ہماری میراث ہے، اور اس کی حفاظت و ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔چوں کے رسائل بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ رسائل نہ صرف بچوں میں مطالعہ کی عادت پیدا کرتے ہیں بلکہ ان کی تخیل، زبان اور سوچ کو بھی نکھارتے ہیں۔ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے کہا کہ کتاب سے دوستی، کامیابی کی کنجی ہے۔

 

جو طالب علم موبائل کے بجائے کتاب کو ترجیح دیتا ہے، وہی روشن مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔اردو ہماری مادری زبان ہی نہیں بلکہ ہماری تہذیب، تاریخ اور مشترکہ ثقافت کی امین بھی ہے۔ اردو نے ہمیں عظیم شعرا، ادبا اور دانشور عطا کیے جن کی تخلیقات آج بھی دلوں کو روشن کرتی ہیں

 

۔ڈاکٹر ناظم علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مادری زبان میں تعلیم و اظہار انسان کی فکری نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اردو کو صرف گھروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ تعلیم، صحافت، ادب اور جدید ٹکنالوجی کے میدان میں بھی اس کے فروغ کے لیے عملی کوشش کریں۔ڈاکٹر اسلم فاروقی(پرنسپل ظہیر آباد) نے کہاکہ بچوں کے رسائل کے ذریعے بچوں میں اچھی عادتیں، اخلاقی اقدار اور قومی و سماجی شعور پروان چڑھتا ہے۔ مادری زبان میں شائع ہونے والے بچوں کے رسائل زبان کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں اور بچوں کو اپنی تہذیب و ثقافت سے جوڑے رکھتے ہیں۔آج کے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے رسائل کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے

 

۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں کو رسائل پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ ایک باشعور، بااخلاق اور کتاب دوست نسل تیار ہو سکے۔ کتاب میلہ کا افتتاح ڈاکٹرسید اسلام الدین مجاہد وڈاکٹر فاضل حسین کے ہاتھوں عمل میں آیا۔تقریب کا آغازحافظ عبدالمعید کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر محمد توقیر عالم راہی(انچارجساوتھ ریجن قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان) ایم ایس فاروق معتمد آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، سلیم فاروقی جدہ اردو اکیڈیمی نے شرکت کی۔میلہ میں تحریری وتقریری مقابلہ،اردو کوئز،کہانی سنانے کا سیشن،میراپسندیدہ شعر جیسے مقابلہ منعقد ہوئے۔

 

بچوں کے ادیب وشعراء سے ملا قات پروگرام میں فضل احمد اشرافی، سید جاوید محی الدین اورداکٹر سید اسرار الحق سبیلی نے بچوں سے گفتگو کی اور ان کو مشورے دیئے۔اس میلہ میں قومی میں سطح کے مختلف اشاعتی ادارے (پبلشرز) نے شرکت کی جن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی،نیشنل بک ٹرسٹ دہلی،مرکزی مکتبہ اسلامی نئی دہلی،رحمانی پبلیکیشنز مالیگاوں،مصطفی پبلیکیشنز مالیگاوں،انویشی پبلیکیشنز حیدرآباد،نصر اردو پبلشرز نے شرکت کی۔میلہ میں محمدلیاقت علی،ڈاکٹرسید حبیب امام قادری،جہانگیر قیاس، ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی،ڈاکٹر عبدالقدوس،شاہد علی حسرت،محمدغازی الدین،محمدسمیع الدین،محمد محمود،محمد حسام الدین،محمد احمد،محمد شاہ عالم،محمد عبدالعزیز عزیز،مجید نور،اعجا ز علی قریشی،واحد علی خان، اورشکیل ظہیرآبادی نے شرکت کی۔

 

اس کے علاوہ مختلف اسکولس کے طلبہ میلہ میں شرکت کرتے ہوئے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا اور کتابیں خریدیں۔ اردو گھرمغل پورہ تنگ دامنی کا شکواہ کررہا تھا۔ طارق انصاری کے ہاتھوں مقابلوں میں کامیاب طلبہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ 70ہزار روپئے کی اردو کتابیں اس موقع پرفروخت ہوئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button