ایجوکیشن

مانو کا ڈسٹنس موڈ میں ایم بی اے پروگرام۔اردو طلبہ کیلئے زبردست سہولت

حیدرآباد، 12 جنوری (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے فاصلاتی طرز پر شروع کردہ ایم بی اے کا دو سالہ کورس پورے ملک میں اپنے نو عیت کا منفرد اور بہترین پروگرام ہے۔ جس کے لیے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو جاریہ سال سے منظوری مل چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کیا ۔ وہ آج سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ آن لائن ایجوکیشن، مانو کے دو روزہ پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے صدارتی خطاب کر رہے تھے۔

 

انہوں نے کہا کہ مانو سے ڈسٹنس موڈ میں ایم بی اے کرنے کے بعد ایک طالب علم نہ صرف روزگار سے منسلک ہوسکتا ہے بلکہ آگے کسی بھی ادارے سے تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔ یہ دو روزہ پروگرام اردو یونیورسٹی کے مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم سے جڑے ہوئے اساتذہ اور معاون تدریسی عملے کے لیے دو سال میں پہلی بار منعقد کیا جارہا ہے۔ اس پروگرام میں ریجنل سنٹرس، سب ریجنل سنٹرس اور لرنر سپورٹ سنٹرس سے وابستہ ریجنل ڈائرکٹرز، اسسٹنٹ ریجنل ڈائرکٹرز اور کوآرڈینیٹرز شرکت کر رہے ہیں۔

 

پدم شری پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ مانو فاصلاتی طرز پر ملک کے طول و عرض میں ہزاروں طلبہ کو اردو ذریعہ تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے۔ جس کے لیے لرنر سپورٹ سنٹرس بھی کام کر رہے ہیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے ملک گیر سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سنٹرس کو دی جانے والی انعامی رقم کو دوگنا کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے لیے اگرچہ اردو میں مواد فراہم کیا جاتا ہے

 

لیکن اس مواد کی تیاری کے لیے بہترین صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں اور سی ڈی او ای کے ڈائرکٹر پروفیسر رضاءاللہ خان بہترین اساتذہ اور ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کے لیے حتی المقدور معاون نصاب تیار کروا رہے ہیں۔دو روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر گھنٹہ رمیش نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ فاصلاتی تعلیم آج ملک کے تعلیمی منظرنامے کو بدلنے کے لیے اہم خدمات انجام دے رہی ہے۔ کیونکہ فاصلاتی تعلیم آسانی سے دستیاب، کفایتی اور اثر دار ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ 1980 کے دہے میں ملک کی سب پہلی فاصلاتی طرز کی یونیورسٹی بی آر امبیڈکر کے نام سے شہر حیدرآباد میں ہی شروع کی گئی تھی۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے تعلیمی سفر کا آغاز بھی فاصلاتی نظامِ تعلیم سے حیدرآباد میں ہی ہوا ہے۔ مانو کو اس حوالے سے ملک گیر سطح پر نمایاں موقف حاصل ہے کہ یہ پورے ملک کی اکلوتی اردو یونیورسٹی ہے جو فاصلاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ روایتی طرز تعلیم فراہم کر رہی ہے۔

 

اس کے علاوہ مانو کے لرنر سپورٹ سنٹرس جموں و کشمیر میں لداخ سے لے کر کیرالا تک تقریباً ہر ریاست میں قائم ہیں۔ اور مانو کا تدریسی مواد معیاری اور طلبہ کے لیے سہولت بخش ہے۔ انہوں نے ڈسٹنس موڈ کے سبھی اساتذہ اور معاون عملہ کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ برادری کو ہر ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کریں او ر انہیں اس بات کا یقین دلائیں کہ وہ ریگولر طلبہ سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں۔ انہوں نے فاصلاتی و آن لائن تعلیم کے تحت مزید نئے کورسز متعارف کروانے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

قبل ازیں پروگرام کے آغاز میں ڈائرکٹر ، سی ڈی اوای پروفیسر رضاءاللہ خان نے خیر مقدمی کلمات کہے اور کہا کہ مانو کے سی ڈی او ای کے کوآرڈینیٹرس جو لرنر سپورٹ سنٹرس چلا رہے ہیں ان کا بہت ہی اہم رول ہے۔ جس کی ستائش کی جانی چاہیے۔ پروفیسر رضاءاللہ خان کے مطابق مانو کے ڈسٹنس کورسز کی بدولت جب چار سالہ ڈگری کورس کا آغاز کیا گیا تو اس کی بدولت ملک کی کئی ریاستوں میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کا آغاز عمل میں آگیا۔

 

اس دو روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس میں وائس چانسلر کے ہاتھوں بہترین کارکردگی کے حامل 10 لرنر سپورٹ سنٹرس کے کوآرڈینیٹرس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر وسیم پٹھان نے کارروائی چلائی اور پروگرام کے آخر میں پروفیسر نکہت جہاں نے شکریہ کے فرائض انجام دیئے۔

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button