جنرل نیوز

عوامی مسائل کو حکومت تک پہنچانے اور یکسوئی میں مراسلوں کا اہم رول -اردو اخبارات خرید کر پڑھنے کا مشورہ

ار دو گھر مغل پورہ میں جلسہ - ڈاکٹر زرینہ پروین ،صبغت اللہ شاہد اور دوسروں کا خطاب - مراسلہ نگاروں کو تہنیت

حیدراباد 13 جنوری (اردو لیکس) ڈاکٹر زرینہ پروین ڈائریکٹر دفتر اسناد و تحقیق تارناکہ حیدرآباد نے کہا کہ مراسلہ نگاری مخصوص فن اور عوام کے دلوں کی آواز ہوتی ہے مراسلہ نگار ہی ہوتا ہے جو عوام کے مسائل کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے اخبارات میں اردو اخبارات میں شائع ہونے والے مراسلوں سے عوام کو کافی فائدہ ملتا ہے۔

 

عوامی مسائل حکومت تک پہنچانے میں مراسلے اہم رول ادا کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جناب محمد صبغت اللہ شاہد کی قائم کردہ انجمن” انجمن مراسلہ نگاران حیدرآباد” کی جانب سے اردو اخبارات میں مراسلے لکھنے والے مراسلہ نگاروں کو تہنیت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ ایک ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو اردو گھر مغل پورہ میں منعقد کی گئی تھی اجلاس کی صدارت جناب سید محمود افضل پروپرائٹر اسٹینڈرڈ ٹراویلس نے کی ڈاکٹر زرینہ پروین نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نواب میر عثمان علی خان کے دور میں بھی مراسلہ نگاری کی بڑی اہمیت تھی اخبارات میں عوام کے جو مسائل شائع ہوا کرتے تھے، انہیں حکومت بڑی توجہ دیتی اوراس پر عمل کرتی تھی۔

 

انہوں نے کہا کہ آر کا یوز میں کافی قدیم ریکارڈ موجود ہے 40 ہزار سے زائد فرمان یہاں پر موجود ہیں عادل شاہی ,قطب شاہی اور بہمنی دور کےدور کے فرامین اگر کوئی مشاہدہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ریوینیو سے متعلق بھی کئی فرامین یہاں پر موجود ہیں انہوں نے بتایا کہ محکمہ آرکائیوز اپنے اندر ایک سمندر پوشیدہ رکھتا ہے ڈاکٹر زرینہ پروین نے جناب صبغت اللہ شاہد کو دلی مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے "مراسلہ نگاری” کو موضوع بناتے ہوئے ایک قابل تحسین کام انجام دیا ہے انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگیوں میں ایمانداری اختیار کریں ڈاکٹر زرینہ پروین نے مزید کہا کہ یوں تو تعلیم کی ہر دور میں اہمیت رہی ہے لیکن موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے خواتین کی ترقی کے لیے تعلیم بے حد ضروری ہے انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی اولاد کی بہتر انداز میں تربیت کریں۔

 

جناب صبغت اللہ شاہد نے کہا کہ اردو اخبارات میں لکھنے والےمراسلہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہم یہ اجلاس سالانہ کرتے ہیں اور مراسلہ نگاروں کو تہنیت بھی پیش کی جاتی ہے انہوں نے ڈاکٹر زرینہ پروین اور دیگر مہمانان خصوصی جناب سید محمود افضل اور قاری عبدالرحمن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس موضوع پر مخاطب کرنے اور مراسلہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ مراسلہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے جتنے بھی شرکا اس محفل میں شریک ہوئے ہیں ان سب کا وہ دلی خیر مقدم اور شکریہ ادا کرتے ہیں جناب صبغت اللہ شاہد نے اردو عوام سے اپیل کی کہ وہ محض واٹس ایپ پر اخبارات پڑھ لینے کے بجائے اخبار خرید کر پڑھیں اور اخبار ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری مادری زبان اردو میں ہمارا کافی مذہبی ذخیرہ موجود ہے ہزاروں کتابیں کتب خانوں میں موجود ہیں جن پر رفتہ رفتہ دھول جمتی جا رہی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اردو کتابوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں انہوں نے شرکاء سے ایک اپیل یہ بھی کی کہ پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی کریں اور تمام نمازوں کو بالخصوص فجر اور عشاء کو لازمی طور پر مساجد میں ادا کریں انہوں نے اپنے لکھے ہوئے مختلف مراسلوں کے ذریعے عوام کو ہونے والے فوائد سے بھی واقف کروایاممتاز بین الاقوامی شہرت یافتہ سنجیدہ ،مزاحیہ اور نعتیہ شاعر و ریٹائرڈ گزیٹیڈ ہیڈ ماسٹر حضرت فرید سحر نے جناب صبغت اللہ شاہد کو دلی مبارکباد دی حضرت فرید سحر جو برسوں سے اردو اخبارات میں مراسلے لکھ رہے ہیں

 

جس کا عوام کو بھی کافی فائدہ ہو رہا ہے ، نے انکشاف کیا کہ مذہبی اور سماجی انداز میں لوگوں کی مراسلوں کے ذریعےاصلاح کرنے پر کئی زندگیوں میں انقلاب بھی آیا ہے سماجی موضوعات پر لکھنے سے عوام کی ایک بڑی تعداد مراسلہ نگاروں سے اظہار تشکر بھی کرتی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارےمراسلے جب شائع ہوتے ہیں تو بعض لوگ اس پر رد عمل بھی ظاہر کرتے ہیں جس پر بڑی خوشی ہوتی ہے اور بعض لوگ مراسلوں کا تنقیدی اور تحقیقی جائزہ بھی لیتے ہیں یہ مراسلہ لکھنے والوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کی بات ہوتی ہے انہوں نے اس موقع پر ایک مزاحیہ نظم بھی سنائی جسے سامعین نے بے حد پسند کیاصدر جلسہ جناب محمود افضل پروپرائٹر اسٹینڈرڈ ٹراویلس پرانی حویلی، قاری عبدالرحمن ڈائریکٹر ایس آر کمپنی ،ڈاکٹر ناظم الدین سلیم، اور جناب سلیم احمد فاروقی بانی اردو اکیڈمی جدہ نے بھی مراسلہ نگاروں کو تہنیت پیش کرنے پر جناب صبغت اللہ شاہد کے اقدام کو مثالی اور قابل تقلید قرار دیا اس موقع پر جناب شبیر خان اسمارٹ نے مزاحیہ لطائف سنائے ڈاکٹر زرینہ پروین، قاری عبدالرحمن اور جناب صبغت اللہ شاہد نے حضرت فرید سحر، جناب شمس الدین مغربی، جناب نصر اللہ خان، صاحبزادہ میر برکت علی خان ،خواجہ معین، نصر اللہ خان ، ڈاکٹر ایم اے نعیم، جناب سید مسیح الدین اور ڈاکٹر ناظم علی اور جناب محمد جہانگیر علی کو مومنٹوز پیش کیے۔

 

اس موقع پر جناب نصیر بیگ ریٹائرڈ کمرشل ٹیکس اے سی ٹی او،محترمہ فہمیدہ بانو، ڈاکٹر سید میمونہ فردوس ،جناب محمد حسام الدین ریاض ،جناب بشارت حسین ہاشمی ،جناب مبشر اعظم، جناب شہاب الدین، حکیم سلیم فاروقی، ڈاکٹر فہمیدہ بیگم ،جناب محمد غوث ،جناب سید جناب سید غازی الدین ،جناب غلام احمد، جناب محمد جہانگیر علی،صاحبزادہ مبارک اللہ برکت، جناب محمد معین الدین، جناب ساجد ربانی، جناب سید مرتضی قادری، جناب محمد انور محی الدین، جناب اکبر خان اور دیگر اصحاب موجود تھے جناب صبغت اللہ شاہد نے شکریہ ادا کیا شرکا میں جناب سید مسیح الدین کی کتاب” نصر اردو” بھی تقسیم کی گئی

 

جس کا پیش لفظ مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشا امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش نے تحریر کیا ہے یہ کتاب نصر پبلشرز اعظم پورہ سے حاصل کی جا سکتی ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button