کر بھلا ہوگا بھالا – مسجد الحرام میں صفائی کارکن کا جذبہ ایثار جس نے دلوں کو چھو لیا

ریاض ۔ کے این واصف
ایک پرانی کہاوت ہے “کر بھلا ہوگا بھلا”۔ اس کی زندہ مثال گزشتہ روز حرم مکی میں نظر آئی۔ جس نے دیکھنے والون کے دلوں کو چھولیا۔ مکہ مکرمہ میونسپلٹی نے مسجد الحرام کے بیرونی صحنوں میں متعین صفائی کارکن کے جذبہ ایثار پر اسے گراں قدر اعزاز سے نوازا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق مسجد الحرام کے باہر ایک شخص نے بطور کار ثواب نئی جائے نمازیں لوگوں میں تقسیم کیں۔ ایک جائے نماز صفائی کارکن کو بھی ملی جس پر وہ خوش تھا مگر جب اس نے یہ دیکھا کہ اس کے قریب موجود ایک عمرہ زائرخالی ہاتھ رہ گیا، اسے جائے نماز نہ مل سکی۔
کارکن نے جب عمرہ زائر کو دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور اس نے اپنی جائے نماز عمرہ زائر کو دی تاکہ وہ اسے استعمال کرے۔جائے نمازکی تقسیم اور کارکن کی فراغ دلی کے مناظر وہاں موجود ایک شخص نے ریکارڈ کیے اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیے۔ صارفین نے صفائی کارکن کے جذبے کو سراہتے ہوئے متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ ایسے لوگ سراہے جانے کے قابل ہیں۔
میونسپلٹی حکام کو جب اس کی اطلاع ملی تو صفائی کارکن کو بلدیہ کے مرکزی دفتر لے جایا گیا، اس کے جذبہ ایثار کو سراہتے ہوئے اسے اعزاز سے نوازا گیا۔میونسپلٹی ایک عہدیدار عیسی الربیعہ کا کہنا تھا ہمارے بھائی ابوبکر نے جو کچھ عمرہ زائر کے ساتھ کیا وہ انتہائی مثالی عمل تھا۔
کارکن کے جذبات کی قدر کرتے ہیں یہ عمل اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں کام کرنے والے کارکن جذبہ ایثار و قربانی سے سرشار ہیں، جو اس معاشرے کا خاصہ ہے۔ بنگلہ دیشی کارکن ابوبکر کا کہنا تھا اللہ کا شکر ہے کہ مجھے حرم مکی میں کام کرنے کا موقع میسر آیا، خواہش ہے حرم شریف میں خدمت کرنے کا موقع ملتا رہے
میں یہاں رہ کر اللہ کے مہمانوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا خواہاں ہوں۔



