جنرل نیوز

ممبئی میں ڈاکٹر رفیعہ نوشین کے اعزاز میں ادبی و شعری شام کاانعقاد

ممبئی کی لوٹس کالونی، گوونڈی میں اردو ادب  ثقافت کے فروغ کے لیے ایک نہایت باوقار اور یادگار ادبی و شعری نشست منعقد ہوئی، جس کا اہتمام اردو چینل اور Office of AB @ کے اشتراک سے کیا گیا۔ یہ شام معروف سماجی جہدکار، افسانہ نگار اور شاعرہ ڈاکٹر رفیعہ نوشین کے اعزاز میں منعقد کی گئی،

 

جس میں شہر ممبئی کے ممتاز اہلِ قلم اور ادب دوست شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔نشست کی صدارت ممتاز مترجم و ادیب قاسم ندیم نے کی، جبکہ پروگرام کے روحِ رواں معروف افسانہ نگار وسیم عقیل شاہ تھے۔ آغاز میں وسیم عقیل شاہ نے رفیعہ نوشین کے ادبی سفر، فکری جہتوں اور سماجی خدمات پر جامع روشنی ڈالتے ہوئے ان کی تخلیقی وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر Office of AB@ کے ذمہ دار عادل نے شال پوشی اور ہدیہ گل پیش کر کے مہمانِ اعزازی کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں ممبئی یونیورسٹی کے پروفیسر اوراردو چینل کے بانی قمر صدیقی نے ممبئی میں اردو ادب کا موجودہ منظرنامہ کے عنوان سے مدلل خطاب کیا

 

۔ انہوں نے ممبئی کی ادبی روایت، معاصر چیلنجز اور امکانات پر گفتگو کے ساتھ اپنی دو تازہ نظمیں بھی سنائیں، جنہیں سامعین نے بے حد سراہا۔افسانوی نشست میں محتشم اکبر، شاداب رشید اور وسیم عقیل شاہ نے اپنے منتخب افسانے پیش کیے۔ مہمانِ اعزازی ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے غزہ کے حالات پر مبنی اثرانگیز افسانہ”سفرِ صمود“پیش کیا، جس نے سامعین کو فکری و جذباتی طور پر متاثر کیا، اس کے بعد انہوں نے اپنا منتخب شعری کلام بھی سنایا۔شعری نشست میں علیم الدین علیم، مقصود آفاق، رضوانہ شبنم اور محسن ساحل نے اپنا کلام پیش کیا۔ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے نشست کے انعقاد پر منتظمین اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی آ کر ادبی احباب سے ملاقات نہ ہوتی تو ایک تشنگی باقی رہ جاتی۔

 

انہوں نے پروفیسر قمر صدیقی کی رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ادب محض جزوقتی مشغلہ نہیں بلکہ ہمہ وقت، بے لوث وابستگی کا تقاضہ کرتا ہے، اور ایک تخلیق کار کے لیے قاری کا ایک سچا جملہ بھی کسی بڑے ایوارڈ سے کم نہیں ہوتا۔نشست کی نظامت محسن ساحل نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔مقصود آفاق کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔

Oplus_16908288

متعلقہ خبریں

Back to top button