مضامین

نشہ آور اشیاء اور اس کے نقصانات

از قلم :مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی 

توپران ضلع میدک تلنگانہ 

Mufti

نشہ آور اشیاء کی مختلف اقسام اور ان کے انسانی معاشرتی، عقلی، روحانیی اور علمی میدانوں پر گہرے اثرات پڑ رہے ہیں ۔ اسلام میں نشہ سے مراد صرف شراب نہیں بلکہ ہر وہ شے، مادہ، مرکب یا ذریعہ ہے جو انسان کی عقل، شعور، اخلاق، اور روحانیت کو متاثر کرے۔ اسلام نے عقل کی حفاظت کو مقاصدِ شریعت میں مرکزی مقام دیا ہے، اور اسی بنیاد پر ہر قسم کے نشے کو حرام قرار دیا

 

*نشے کی اقسام اور ان کے اثرات:*

موجودہ دور میں نشہ کی شکلیں بہت متنوع ہو چکی ہیں، جن میں کلاسیکی منشیات جیسے شراب، بھنگ، گانجا، چرس، حشیش، افیون، ہیروئن، کوکین، مورفین، اور جدید کیمیائی ڈرگز جیسے آئس، ایل ایس ڈی، ایم ڈی ایم اے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو، سگریٹ، ویپ، گٹکھا، پان مسالہ اور ڈیجیٹل نشے جیسے اسکرین ایڈکشن، جُوا اور فحش مواد بھی عقل و اخلاق پر منفی اثرات ڈالتے ہیں نشہ آور اشیاء معاشرتی نظام کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ خاندانوں کو برباد، تعلیم کو متاثر، اور جرائم میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں۔ گھریلو تشدد، طلاق، اولاد کی بدتربیتی، اور صحتِ عامہ پر بوجھ نشے کے براہ راست اثرات ہیں نشہ انسان کی علمی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ یادداشت کمزور، توجہ میں کمی اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ طلباء اور پیشہ ور افراد کی کارکردگی میں واضح کمی آتی ہے نشہ روحانی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔

 

ذکرِ الٰہی، نماز اور عبادات سے دوری نشے کی حالت میں بڑھ جاتی ہے۔ دل پر ظلمت طاری ہو جاتی ہے اور روح کی لطافت ختم ہو جاتی ہے نشہ عقل کو زائل کر کے انسان کو حیوانی سطح پر لے آتا ہے۔ اخلاقی اقدار اور معاشرتی ذمہ داریاں مفقود ہو جاتی ہیں قومی سطح پر اخلاقی جرأت اور مضبوط پالیسیوں سے نشے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس مضمون میں نشہ آور اشیاء کے نقصانات کی تفصیلی بحث، معاصر مثالیں اور اصلاحی اقدامات پر روشنی ڈالی گئی ہے، تاکہ معاشرے کو ایک صحت مند، اخلاقی اور روحانی طور پر مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جاسکے یہاں نشہ سے مراد صرف شراب نہیں بلکہ ہر وہ شے، مادہ، مرکب یا ذریعہ ہے جو عقلِ انسانی کو ماؤف کرے، شعور کو معطل کرے، ارادہ و اختیار کو سلب کرے اور انسان کو اس کے فطری، اخلاقی اور دینی توازن سے منحرف کردے۔ اسلام نے انسان کو عقل و شعور کے ساتھ اشرف المخلوقات بنایا اور اسی عقل کی حفاظت کو مقاصدِ شریعت کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا۔ اسی لیے قرآن و سنت نے ہر قسم کے نشہ آور ذرائع کو تدریجاً، قطعی طور پر اور ہمہ وقتی انداز میں ممنوع قرار دیا۔ قرآنِ کریم نے ارشاد فرمایا: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا (البقرۃ: 219) اور پھر آخری اور قطعی حکم یوں نازل ہوا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ (المائدہ: 90–91)۔

 

یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ نشہ آور اشیاء فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتیں بلکہ پورے معاشرے میں عداوت، بغض، فساد اور دینی انحطاط کا سبب بنتی ہیں۔ احادیثِ نبویہ ﷺ نے اس قرآنی اصول کو ایک جامع قاعدے کی صورت میں بیان فرمایا: كل مسكر خمر وكل خمر حرام (صحیح مسلم، کتاب الأشربة) اور ایک دوسری روایت میں ہے: كل مفتر حرام (سنن ابو داؤد)۔ محدثین اور فقہاء نے ان احادیث سے یہ ابدی ضابطہ اخذ کیا کہ نشہ مائع ہو یا جامد، کم ہو یا زیادہ، قدیم ہو یا جدید، اگر وہ عقل کو متاثر کرتا ہے تو وہ خمر کے حکم میں داخل ہے۔ اسی بنا پر شراب، بیئر، وہسکی، افیون، بھنگ، گانجا، چرس، حشیش، ہیروئن، کوکین، مورفین، کیمیکل ڈرگز، نشہ آور انجیکشنز، گولیاں، سونگھنے والے کیمیکلز، حتیٰ کہ بعض نشہ آورمشروبات اور ادویاتی غلط استعمال اور دبر (بڈی ضرورت کرنے کی جگہ)کے راستے سے لیے جانے والے اشیائے نشہ بھی سب اس ممانعت میں شامل ہیں۔ معاشرتی اعتبار سے نشہ آور اشیاء خاندان کے ادارے کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ نشے کا عادی شخص نہ شوہر کی ذمہ داری نبھا پاتا ہے نہ باپ کا کردار اداکر پاتا ہے۔ گھریلو تشدد، طلاق، اولاد کی بربادی، بدکرداری اور جرائم کی جڑ اکثر نشہ ہی بنتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: الخمر أم الخبائث (سنن ابن ماجہ) یعنی شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے، اور یہ حکم ہر اس نشے پر صادق آتا ہے جو انسان کو حیوانی سطح پر لے آئے۔

 

اخلاقی سطح سے گرائے نشہ حیا، غیرت، دیانت اور مروّت کو فنا کر دیتا ہے۔ انسان جھوٹ، خیانت، بدکاری اور ظلم پر جری ہو جاتا ہے۔ امام غزالیؒ احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ عقل انسانی شہوت اور غضب کی لگام ہے، جب عقل ہی معطل ہو جائے تو انسان درندگی پر اتر آتا ہے۔ اسی لیے نشہ معاشرے میں فحاشی، جرائم اور خونریزی کو فروغ دیتا ہے۔ معاشی اعتبار سے نشہ ایک مسلسل معاشی استحصال ہے۔ نشہ آور اشیاء پر صرف ہونے والا سرمایہ گھریلو ضروریات، تعلیم، علاج اور فلاحی امور سے چھن جاتا ہے۔ غربت، قرض، چوری، ڈکیتی اور قتل تک کی نوبت آجاتی ہے۔ قرآن نے فرمایا: ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة (البقرۃ: 195) یعنی خود کو ہلاکت میں مت ڈالو، اور فقہاء نے نشہ آور اشیاء کو اس آیت کا واضح مصداق قرار دیاہے۔ روحانی اعتبار سے بھی نشہ انسان کو ذکرِ الٰہی، نماز اور اطاعتِ خدا سے دور کر دیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ شراب پینے والے کی نماز چالیس دن قبول نہیں ہوتی (صحیح مسلم)۔ صوفیائے امت نے نشے کو حجابِ اکبر کہا ہے۔ حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ جس دل میں نشہ بس جائے وہاں معرفت کا نور باقی نہیں رہتا، اور شیخ عبدالقادر جیلانیؒ غنیۃ الطالبین میں لکھتے ہیں کہ نشہ شیطان کا وہ دروازہ ہے جس سے وہ ایمان پر ڈاکہ ڈالتاہے۔

 

ائمۂ فقہ کا اس پر اجماع ہے کہ ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ سب کے نزدیک نشہ آور جامد و مائع اشیاء خمر کے حکم میں ہیں۔ علامہ ابن تیمیہؒ مجموع الفتاویٰ میں لکھتے ہیں کہ حشیش، افیون اور دیگر منشیات بعض پہلوؤں سے شراب سے بھی زیادہ خبیث ہیں کیونکہ یہ عقل کے ساتھ جسم، روح اور نسل تینوں کو بیک وقت تباہ کرتی ہیں۔ نشے کی ہمہ گیر اقسام کو لیکر یہ حقیقت بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ نشہ صرف پینے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے طریقے بھی متنوع اور زیادہ مہلک ہو چکے ہیں۔ بعض نشہ آور اشیاء انجکشن کے ذریعہ خون میں داخل کی جاتی ہیں جس سے جسمانی اعضاء فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں، بعض گولیوں، کیپسول اور نشہ آور ادویات کے ذریعہ استعمال کی جاتی ہیں، بعض سونگھنے یا سانس کے ذریعہ دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں، اور بعض خفیہ و غیر فطری طریقوں سے جسم میں داخل کی جاتی ہیں جن کا مقصد جلد از جلد نشہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ *شریعت کی نظر میں طریقۂ استعمال کی تبدیلی حکم کو تبدیل نہیں کرتی،* کیونکہ حرمت کی بنیاد مادہ اور اس کے اثر پر ہے نہ کہ اس کے استعمال کے ظاہری طریقہ پر نشہ انسانی عقل کو بتدریج مضمحل کر دیتا ہے۔

 

سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کی قوت، یادداشت اور فہم و ادراک سب متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نشہ انسان کو علمی ترقی سے محروم، تعلیمی میدان میں ناکام اور فکری جمود کا شکار بنا دیتا ہے۔ ایک نشئی معاشرہ تحقیق، اجتہاد اور تخلیق سے عاری ہو جاتا ہے نشہ آور اشیاء طالب علموں اور اہلِ علم کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ مطالعہ میں دل نہ لگنا، توجہ کا فقدان، امتحانات میں ناکامی اور علمی انحطاط اسی کا نتیجہ ہیں۔ قوموں کی پستی میں علمی زوال بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور نشہ اس زوال کا تیز ترین ذریعہ ہے موجودہ دور میں نشہ صرف کلاسیکی منشیات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی شکلیں حیرت انگیز حد تک متنوع ہو چکی ہیں۔ ان میں شراب اور اس کی تمام اقسام، بھنگ، گانجا، چرس، حشیش، افیون، ہیروئن، کوکین، مورفین، آئس، ایل ایس ڈی، ایم ڈی ایم اے، کیمیکل ڈیزائنر ڈرگز، نشہ آور سیرپ، درد کش ادویات کا غلط استعمال، نشہ آور انجیکشنز، سونگھنے والے کیمیکلز، تمباکو، سگریٹ، ویپ، گٹکھا، پان مسالہ، اور حتیٰ کہ بعض ڈیجیٹل نشے جیسے جُوا، فحش مواد اور اسکرین ایڈکشن بھی شامل ہیں جنہیں اہلِ علم نے نشۂ معنوی قرار دیا ہے کیونکہ یہ بھی عقل، وقت اور اخلاق کو مفلوج کر دیتے ہیں نشہ آور اشیاء کا پھیلاؤ محض اخلاقی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ اکثر اس کے پیچھے منظم معاشی مفادات کارفرماہوتے ہیں۔

 

انتخابی ادوار میں شراب اور منشیات کی تقسیم نے تو اس کے خاتمے کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہر فرد، ہر خاندان اور ہر ذمہ دار شہری کو جھنجھوڑ کر یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ نشہ خواہ کسی بھی نام، شکل یا صورت میں ہو، وہ فرد کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ناسور ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دینی شعور، اخلاقی تربیت، سماجی بیداری اور قومی سطح پر سخت اقدامات کے ذریعہ اس عفریت کا مقابلہ کریں۔ والدین اپنی اولاد کی نگرانی کریں، علماء منبر و محراب سے بے لاگ حق کہیں، اہلِ قلم قلم کو محرک بنائیں اور نوجوان خود کو ایمان، علم اور مقصدِ حیات سے وابستہ کریں

 

*اصلاحی تجاویز:* نشے کی روک تھام کے لیے معاشرتی سطح پر شعور بیداری، تعلیم و تربیت، صحت کے مراکز اور قانونی اقدامات ضروری ہیں۔ قومی سطح پر اخلاقی جرأت اور مضبوط پالیسیوں سے نشے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اہل اللہ کی صحبت اختیار کریں دعوت تبلیغ کی عمومی محنت سے اپنے آپ کو جوڑیں اچھے دوستوں کا انتخاب کریں برے دوستوں اور نشے کے عادی افراد سے دوری بنائیں اور اپنے بچوں اور بچیوں کی دوستیوں پر نظر رکھیں اگر آج ہم نے نشے کے خلاف اجتماعی توبہ اور عملی جدوجہد نہ کی تو کل ہماری نسلیں

 

جسمانی، اخلاقی اور روحانی کھنڈرات کے سوا کچھ نہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقل کی حفاظت، نفس کی اصلاح اور معاشرے کی تطہیر کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button