"کتابیں بچی رہیں گی، کتابوں کے ساتھ ہم بچے رہیں گے”

تحریر : پریہ درشن
ہندی سے اردو ترجمہ : رضوان الدین فاروقی
دلی کے عالمی کتاب میلے میں اتوار کو تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ یا تو ہر طرف کتابیں تھیں یا ہر طرف انہیں چھونے، پلٹنے، واپس رکھنے یا خریدنے والے ہاتھ۔ دلی کی کڑاکے کی ٹھنڈ کے باوجود کتابوں کے تئیں اتنی گرمی دیکھ کر تھوڑی حیرانی بھی ہوئی۔
ایک کتاب یاد آئی — ‘This is Not the End of the Book’۔ یہ کتاب اطالوی مفکر اور ناول نگار امبرٹو ایکو اور فرانسیسی مصنف اور فلم نویس ژاں کلود کیریئر کے درمیان گفتگو پر مبنی ہے جو کتابوں کے ماضی، حال اور مستقبل پر بات کر رہے ہیں۔ ایکو کہتے ہیں کہ گزشتہ دو ہزار سال سے کتابیں انسان کی سب سے بھروسے مند دوست رہی ہیں۔ گزشتہ دو-تین دہائیوں میں میموری کے تحفظ کے جو دوسرے ذرائع آئے — فلاپی ڈرائیو، ویڈیو کیسٹ، سی ڈی، ڈی وی ڈی، پین ڈرائیو، طرح طرح کے کمپیوٹر — سب پرانے ہوتے چلے گئے، کتاب بچی رہی۔
لیکن کتاب کیوں بچی رہی؟ اور کیا وہ مستقبل میں بھی بچی رہے گی؟ آخر گذشتہ چند سالوں میں جو تبدیلی کی خوفناک آندھی چلی ہے — جس نے پچھلے کئی ہزار سالوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے، کیا وہ کتابوں کو بھی اڑا نہیں لے جائے گی؟ ہندی کتابوں کے تناظر میں اس سوال کا ایک اور پہلو ہے۔ تعلیم و تربیت کی زبان کے طور پر ہندی مڈل کلاس گھروں سے اٹھ چکی ہے۔ اب ان گھروں کے بچے انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور انگریزی کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ ہندی کی آخری نسلیں بچی ہیں جو لکھ رہی اور پڑھ رہی ہیں۔ یعنی دیر سویر ہندی کتابیں ان گھروں سے اٹھ جائیں گی۔ ہندی بے شک بچی رہے گی، لیکن تفریح اور روزمرہ بول چال کی زبان کے طور پر۔ اس زبان میں نئی نسل بوڑھے ہوتے رشتہ داروں سے بات کرے گی، جبکہ اپنے بچوں سے انگریزی میں گفتگو کرے گی، ان کے لیے انگریزی کتابیں خریدے گی۔
یعنی مجموعی طور پر کتابوں کا — اور خاص طور پر ہندی کتابوں کا — مستقبل دھندلا لگتا ہےلیکن فی الحال کتاب میلہ اس اندیشے کو دور کرتا ہے۔ آپ جس بھی سٹال سے گزریں، آپ کو تالیوں کی گڑگڑاہٹ سنائی دے گی اور دو-چار لوگ کسی کتاب کی کاپیاں لیے اس کے اجرا میں مصروف ملیں گے۔ صبح سے شام تک جاری تقاریب اجرا کا یہ سلسلہ بتاتا ہے کہ ہندی میں کتنی بڑی تعداد میں کتابیں چھپ رہی ہیں۔ اگر نو دن میں اجرا ہونے والی کتابوں کا اندازہ لگایا جائے تو شاید وہ ہزاروں نہیں، لاکھوں میں پہنچ جائیں گی۔ یعنی کتاب لکھی جا رہی ہے تو پڑھی بھی جا رہی ہوگی۔ جو لوگ اشاعت کے کاروبار میں ہیں، انہیں بھی اپنے کاروبار کی فکر ہے تو وہ کتابیں بیچیں گے۔ تو کتابوں کا مستقبل محفوظ لگتا ہے۔
لیکن چمکتی دمکتی، کھلکھلاتی کتابوں کے ان 9 اطمینان بخش دنوں کے بعد کا سچ کیا ہے؟ جو سنائی یا کچھ حد تک دکھائی پڑتا ہے اس کے مطابق ہندی کے پبلشروں کے لیے اشاعت کا کاروبار بغیر جوکھم والا کاروبار ہے۔ بہت بڑی تعداد میں ایسے شہرت کے طالب مصنفین کی کتابیں بھی چھپ رہی ہیں جو اپنی کتابوں کے لیے پیسے دینے کو تیار رہتے ہیں۔ یعنی کتاب چھپنے سے پہلے ہی بہت سے اشاعتی ادارے اپنی لاگت اور تھوڑا سا منافع نکال چکے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں ترقی کے لیے کتابوں یا مضامین کی اشاعت کو ترجیح دینے کی پالیسی کے بعد کئی پروفیسر حضرات بھی پیسے دے کر اپنی کتابیں چھپواتے ہیں۔ لیکن ہندی میں تقریباً خود مختار ہو چکی اس صنعت میں پھر کتابیں بیچنے کی ضرورت کم ہوتی جاتی ہے۔ جو مصنف کتابیں لکھتے-چھپواتے ہیں، وہی اپنے دوستوں-رشتہ داروں اور رسائل کے مدیران میں انہیں بانٹ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جو کچھ زیادہ اسمارٹ ہوتے ہیں، وہ اس کے بعد کئی اجرا کروا لیتے ہیں، کتابوں پر لکھوا کر انہیں کہیں چھپوا لیتے ہیں اور پھر ادھر ادھر تقریبات میں بات چیت کرانے سے لے کر کچھ انعامات-اعزازات تک جُٹانے کا انتظام کر لیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ان میں سے بہت سی کتابیں بہت اوسط قسم کی یا خراب ہوتی ہیں اور انجان قارئین کسی کتاب میلے میں انہیں خرید لیتے ہیں تو وہ مایوس بھی ہوتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتابیں دراصل قارئین کو زبان سے دور کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ ان کا دوسرا اثر یہ ہوتا ہے کہ بہت سی اچھی کتابیں بحث سے باہر رہ جاتی ہیں کیونکہ ان کے مصنفین اپنی عزت نفس اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے ان کتابوں کو اس طرح مشتہر نہیں کر پاتے۔ بہرحال، زیادہ بڑے سوال پر لوٹیں۔ کیا کتابیں بچی رہیں گی؟ یقیناً بچی رہیں گی۔ ٹیکنالوجی کے تمام حملوں کے باوجود، انٹرنیٹ اور مختلف ویب سائٹس اور ای بکس کے متبادل کے بعد بھی کتابوں کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ اسے توڑنا ممکن نہیں۔ علم کے تمام ذرائع فی الحال کتابوں میں ہیں، اسکول-کالجوں کی تعلیم کا تصور کتابوں کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، دنیا بھر کی کہانیاں-شاعری ، ڈرامے سب کتابوں میں ہیں۔ سب کسی ایک بڑے کمپیوٹر میں سما بھی جائیں تو انہیں اس طرح پڑھنا ممکن نہیں ہوگا جس طرح آزاد کتابوں کو پڑھنا ممکن ہوتا ہے۔ پھر کتابوں سے جو عشق ہے، وہ صدیوں کا نہیں، ہزاروں سال کا ہے، وہ ہمارے جینز میں سمایا ہوا ہے — وہ بھی بچا ہوا ہے اور ہمیں کھینچ کر کتابوں تک لے جا رہا ہے۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ کتابیں صارفیت کے بہت زور دار حملے کے باوجود ابھی تک اس طرح کا معاشی پروڈکٹ نہیں ہیں جس طرح جوتے یا کپڑے ہوتے ہیں۔ ان کی ایک ثقافتی قدر ہے جو ان پر نقش معاشی قدر سے الگ ہوتی ہے۔ ہم اب تک کتابیں مانگنے-بانٹنے والے سماج بچے ہوئے ہیں جنہیں مانگ کر اور بانٹ کر بھول جاتے ہیں۔ ہم سب کی الماریوں میں دوسروں کی دی ہوئی کتابیں بھی ہوتی ہیں۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ انیسویں صدی تک علم اور تفریح کے ذرائع پر لسانی روایت کے علاوہ کتابوں کا جو اجارہ تھا، وہ بیسویں صدی کے بعد سے ٹوٹتا چلا گیا ہے۔ سب سے پہلے سینما نے اس اجارے کو توڑا۔ بلکہ اس کے لیے بھی اس نے کتابوں کی ہی مدد لی۔ تب بھی بیسویں صدی تک کتابوں کی روایت سلامت رہی کیونکہ سینما ہمارے گھر تک نہیں پہنچا تھا اور انٹرنیٹ اور موبائل نام کی پیش رفتوں نے انسان کی میموری اور اس کی تجرباتی دنیا میں گھسپیٹھ کرنی شروع نہیں کی تھی۔ ٹی وی-ریڈیو تھے لیکن وہ کتابوں کے ساتھی جیسے تھے۔
اکیسویں صدی نے اس پوری پیش رفت میں ایک بڑی ہلچل پیدا کی ہے۔ انٹرنیٹ کے بعد اسمارٹ فون اور اس کے ساتھ ڈیولپ ہونے والے سوشل میڈیا نے ہمارا بہت سارا وقت چھین لیا ہے۔ اس سے برا یہ ہوا ہے کہ ہماری یکسوئی اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ ہماری سوچ-فکر یا ہمارے شعور کے تسلسل کو توڑنے والے بہت سے ذرائع ہو گئے ہیں۔ ہم کتاب پڑھتے پڑھتے فیس بک دیکھنے لگتے ہیں، ایکس اسکرول کرنے لگتے ہیں، فلم دیکھنے لگتے ہیں، کسی سے فون پر بات کرنے لگتے ہیں، کسی سے واٹس ایپ چیٹ شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اس وجہ سے کتاب پڑھنا بس ٹلتا نہیں ہے بلکہ اس کا پورا اثر بھی ختم ہوتا ہے۔ ایک کتاب اگر ہمیں ایک خاص ذہنی حالت سے لے جا رہی ہے تو پوری کتاب اسی ذہنی حالت میں پڑھی جانی چاہیے۔ لیکن ہم اس سے دور ہوتے جاتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کسی کتاب کا پورا اثر کیسے ہمارے اندر آنے سے رہ گیا۔
یقیناً اس نے قلم کار کی چنوتی بڑھائی ہے۔ لیکن اس کے لیے جو تجاویز دی جا رہی ہیں کہ لوگ کم لکھیں، مختصر لکھیں، موٹی کتابیں نہ لکھیں — یہ سب بیکار تجاویز ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ کتابیں لائق مطالعہ صفحات کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنے متن کے معیار سے بنتی ہیں۔ ان سالوں میں بھی بہت ضخیم ناول لکھے اور پڑھے گئے۔ دوسری زبانوں کی بات نہ کریں اور ہندی میں ہی دیکھیں تو گذشتہ دنوں جو سب سے زیادہ پڑھنے کے لائق کتابیں رہیں، ان میں شیومورتی کا ناول ‘اگم بہے دریاؤ’ 600 صفحات سے زیادہ کا ہے۔ بہت سی قدیم کلاسیکی کتابیں اب بھی قارئین خوب پڑھتے ہیں۔ ‘کنسنٹریشن اسپین’ — یعنی یکسوئی ختم ہونے کی جو بات کہی جا رہی ہے، اسے خارج کرنے والی کئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ کم ہوتی یکسوئی کے انہیں دنوں میں لوگ کئی کئی سیزن کی ویب سیریز بغیر تھکے ہفتہ-اتوار دیکھتے پائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے، دلچسپی یا قابلِ مطالعہ ہونے کا عنصر ہو تو وہ باقی چیزوں کو ٹال سکتا ہے۔
کتاب میلے پر لوٹیں۔ پینتیس ملکوں کے ایک ہزار ناشرین یہاں ہیں۔ ہماری طرح کے ہندی میں رچے بسے لوگ بے شک ہال نمبر دو اور تین سے آگے نہیں جا پاتے ہوں، لیکن پھر بھی بہت سے لوگ ہیں جو اپنی اپنی دلچسپی سے مختلف ہال اور اسٹال کھنگال رہے ہیں۔ آپ بھی جائیں، کتابیں دیکھیں، ان کی خوشبو سونگھیں، ان کا نوسٹالجیا بھی بچا ہوا ہے اور ان سے امید بھی بچی ہوئی ہے۔ کتابوں نے ہمیں دیکھنا سکھایا ہے۔ کتابیں خوب خریدیں۔ یہ تجربہ عام ہے کہ ہم جتنی کتابیں خریدتے ہیں، اتنی پڑھ نہیں پاتے۔ لیکن کتابوں کا گھر میں ہونا یہ اطمینان بخشتا ہے کہ کسی بھی روز ہم چاہیں تو انہیں پلٹیں گے۔ کتابیں بھی ہمیں اپنی الماریوں سے دیکھتی رہتی ہیں۔ بے شک، کتابوں میں بھی چھٹائی ضروری ہے۔ کیونکہ جیسے دنیا میں— ویسے ہی تخلیق میں بھی— بہت سے لوگ ہیں جو محبت نہیں نفرت کی زبان سیکھ چکے ہیں۔ دنیا میں بہت سی واہیات کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بالآخر کتابیں ہمارے علم کا، ہماری حساسیت کا، اب تک بنیادی ذریعہ بنی ہوئی ہیں— ان کا ہونا ایک تسلی جیسا لگتا ہے، جیسے ہم اپنی جانی پہچانی دنیا میں ہیں اور اسے روز کچھ نیا کر رہے ہیں نئی کتابوں سے بھر رہے ہیں۔



