پرانا پل واقعہ – پولیس کی موجودگی میں نشان مبارک اور قبور کی بے حرمتی کے ویڈیو وائرل ہونے کے باوجوداشرار کی عدم گرفتاری : مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ

پرانا پل واقعہ – پولیس کی موجودگی میں نشان مبارک اور قبور کی بے حرمتی کے ویڈیو وائرل ہونے کے باوجوداشرار کی عدم گرفتاری
مجرمین کی پشت پناہی افسوس کی بات -فوری کاروائی کے لیے مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ کا مطالبہ
حیدرآباد 17 جنوری( پریس نوٹ) امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے پرانا پل دروازہ کے پاس پیش آئے ناخوشگوار واقعہ پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس کسی نے بھی مندر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی وہ انتہائی قابل مذمت بات ہے مندر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کے بعد وہاں جو حالات ہوئے اس وقت تک پولیس وہاں پہنچ چکی تھی اور پولیس کی موجودگی میں نشان مبارک کی بے
حرمتی کی گئی قبور مسمار کیے گئے اور حد تو یہ کہ راہ چلتے والے بے قصور اقلیتی افراد کو نشانہ بنایا گیا اور اطلاعات کے مطابق جنونیوں وشر پسندوں نے پولیس کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا اور اشرار کی سنگاری میں کچھ پولیس ملازمین بھی زخمی ہوئے کمشنر ٹاسک فورس اور دیگر پولیس عہدیداروں نے اخبارات کے ذریعے عوام کو بتایا ہے کہ جس شخص نے مندر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی وہ نشے کی حالت میں تھا اور مندر کو کوئی اندرونی نقصان بھی نہیں پہنچا ہے لیکن اس کے بعد جو واقعات ہوئے یعنی پولیس کی موجودگی میں نشان مبارک کو نقصان پہنچانااور قبور کو مسمار کرنا یہ مکمل سوچی سمجھی منصوبہ بند حرکات ہی ہو سکتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شر پسند عناصر کسی موقع کےمنتظر ہی تھے مولانا نے کہا کہ شر پسندانہ حرکات میں جو اشرار ملوث ہیں ان کو حکومت نے ابھی تک گرفتار نہیں کیا ہے اور اگر رسمی طور پر گرفتار بھی کیا ہے تو پولیس نے ابھی تک صحافت کے ذریعے اس کی اطلاع بھی نہیں دی ہے مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ جن شر پسندوں نے سارے امن و امان کو غارت کیا ان ان کے ویڈیوز اب تک بھی سوشل میڈیا پر عام ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ پولیس کو بھی یہ ویڈیوز موصول ہو چکے ہوں گے لیکن اس کے باوجود اب تک کوئی کاروائی نہ کرنا اور کسی کو گرفتار نہ کرنا آخر کیا معنی رکھتا ہے
آخر ہر بار پولیس، مجرمین کی پشت پناہی کیوں کرتی ہے یہ سمجھ سے باہر ہے مولانا جعفر پاشاہ نے مزید کہا کہ شرپسند انہ حرکتوں اور تشدد کے ویڈیوز عام ہونے کے باوجود پولیس کاشر پسندوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ ناقابل فہم ہے پولیس عہدیداران لاکھ وضاحتیں کریں لیکن جب تک حقیقی مجرمین کو گرفتار نہیں کیا جائے گا یہ پولیس کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہی رہے گا
مولانا نے چیف منسٹر سے بھی خواہش کی کہ وہ اس جانب توجہ دیں چیف منسٹر انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے باعث پولیس عہدیداران من مانی کر رہے ہیں اور حقیقی مجرمین کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں چیف منسٹر ہر بار کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد یا اس قسم کی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا لیکن پولیس عہدیداران کے طرز عمل سے محسوس ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کی پولیس پر گرفت مزید مضبوط ہونا ضروری ہے



