جنرل نیوز

بھیمَنّا کھنڈرے کے انتقال پر آر روشن بیگ کا تعزیتی بیان

بنگلورو 17 جنوری/سینیر رہنما و سابق وزیر آر روشن بیگ نے اپنے تعزیتی پیغام میں بتایا ہے کہ ریاست کی سیاست میں بھیمَنّا کھنڈرے کا انتقال محض ایک فرد کا جانا نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی مزاج کا خاتمہ ہے جو اعتدال، وسیع النظری اور جمہوری قدروں پر استوار تھا۔ وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری سمجھ کر برتا۔

 

مرحوم کی سیاسی زندگی اصول پسندی، تحمل اور ہم آہنگی کی مثال تھی۔ وہ اختلافِ رائے کو تصادم میں بدلنے کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی سیاست میں نفرت یا تنگ نظری کو جگہ دیتے تھے۔ سیکولر اقدار ان کے لیے محض نظریاتی دعویٰ نہیں بلکہ عملی طرزِ عمل تھیں، جو ان کی گفتگو، فیصلوں اور عوامی زندگی میں نمایاں طور پر جھلکتی تھیں۔جناب روشن بیگ نے بتایا کہ بھیمَنّا کھنڈرے کی شخصیت سیاست تک محدود نہیں تھی۔ وہ تہذیبی شعور رکھنے والے، زبان و ادب سے شغف رکھنے والے اور سماجی میل جول کو اہمیت دینے والے انسان تھے۔

 

اردو زبان سے ان کا خاص تعلق تھا۔ وہ اردو کے قدر دان تھے، اردو محفلوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے اور نہایت شستہ اور فصیح اردو میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ زبان کو وہ محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب اور باہمی احترام کی علامت سمجھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب سیاست میں شائستگی، فکری وسعت اور سماجی ہم آہنگی کم ہوتی جا رہی ہے

 

بھیمَنّا کھنڈرے جیسی شخصیات کا جانا ایک ایسا خلا چھوڑ جاتا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔ ان کی زندگی اور طرزِ سیاست آنے والی نسلوں کے لیے ایک سنجیدہ مثال ہے کہ سیاست کو کس طرح وقار، برداشت اور انسان دوستی کے ساتھ برتا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button