ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں ہیں۔ ادباءکو اپنے موضوعات کو جدید تقاضوں میں ڈھالنا چاہئے۔ ایس اے شکور

کے این واصف
کہنہ مشق افسانہ نگار محترمہ ثریا جبین کے تصانیف کی رسم اجراء بصدارت معروف فکشن نگار محترمہ قمر جمالی انجام پائی۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر دائرہُُ المعارف جامعہ عثمانیہ، ڈاکٹر سید مصطفی کمال ایڈیٹر ماہنامہ شگوفہ، پروفیسر آمنہ تحسین صدر شعبہ مطالعات نسواں مانو، نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی۔ جبکہ محترمہ آمنہ سحر، محترمہ رفعیہ نوشین اور ڈاکٹر غوثیہ بیگم نے ثریا جبین کے فن، شخصیت اور تصانیف پر سیر حاصل تبصرے پیش کئے۔
مہمان خصوصی پروفیسر ایس اے شکور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگ اختصار پسند ہوگئے ہیں۔ نیز ہم مصنوعی ذہانت کے عہد میں جی رہے ہیں۔ کہانی کار اور افسانہ نگارون کی تخلیقات دور حاضر کے مسائل و موضوع سے ہم آہنگ ہونے چاہین۔ انھون نے یہ بھی کہا کہ آج لائبرریز ویران ہورہی ہیں، اردو کے نئے پڑھنے والون کی تعداد اضافے کی طرف بھرپور توجہ وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ پروفیسر شکور نے ثریا جبین کی چار تصانیف “ایک رنگ وفا ہی بھی”، “یہ شام کی تنہائیاں”، “احساس کی مہک” اور “اہتمام چراغاں” کی ایک ساتھ رسم اجراء کو ایک منفرد تقریب قرار دیا۔
محفل کے دوسرے مہمان خصوصی اور ادب کی سینئر ترین و متحرک شخصیت ڈاکٹر سید مصطفٰی کمال نے کہا کہ کہانی یا افسانگارون کی تخلیقات کی بنیاد گوکہ فرضی ہوتی ہیں مگر وہ سماج کو آئینہ دیکھاتی ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے اردو کے معروف خاتون افسانہ نگارون کے ابتداء سے اب تک کے نام گنواتے ہوئے کہا کہ ثریا جبین کو اس سلسلے کی ایک کڑی اور ادبی روایات کی پاسدار قرار دیا جو “مردانہ وار” لکھ رہی ہیں اور اب تک اپنے کے دس مجموعے منظر عام پر لاچکی ہیں۔ انھون نے محفل میں نوجوان نسل کے نمائیندون کی اکثریت پر مسرت کا اظہار کیا۔
پروفیسر آمنہ تحسین نے کہا افسانہ نگار نہ صرف اپنی تخلیق کے ذریعہ سماج کو آئینہ دیکھاتا ہے بلکہ ان کے پیچھے اس کے خواب ہوتے۔ اور قارئین جب انھین پڑھتے اور سراہتے ہیں تو تخلیق کار کا خواب پورے ہوتے ہیں۔ انھون نے اس بات کی تلقین بھی کی اردو کی کتابین خرید کر پڑھی جائیں۔ زبان کی بقاء اور ترویج کا یہ اہم تقاضہ ہے۔ انھون نے کہا کہ ثریا جبین نے اپنی تحریروں کے ذریعہ سماجی درد کو پیش کرنے، معاشرتی مسائل اجاگر کرنے اور خواتین کے تئن سماج سدھار کی ذمہ داری کو پورا کیا۔
تقریب کا آغاز ماسٹر ذاکر کی تلاوت کلام پاک سےہو۔ ڈاکٹر سمینہ بیگم نے نعتیہ کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ تقریب کے انتظام و انصرام کے روح رواں ڈاکٹر جاوید کمال ایڈیٹر ریختہ نامہ نے اپنے رویتی پر اثر انداز میں خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مصنفہ کی دیرینہ ادبی خدمات کا احاطہ کیا اور حاضرین کے بھاری تعداد میں حاضر محفل ہونے کی ستائس کی اور دلی خیرمقدم کیا۔
ڈاکٹر سمیہ تمکین نے مصنفہ کا تعارف پیش اور ادبی تقاریب کی معروف آئنکر ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی نے بڑے پراثر اور دلچسپ انداز میں بر موقع و برجستہ اشعار پیش لگتے ہوئے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ محترمہ قمر جمالی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ کسی بھی افسانے کے مرکزی کردار قاری یا عوام ہوتے ہیں۔ قمر جمالی تخلیق کاروں سے کہا کہ پڑھنے والوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد سے مایوس ہوئے بغیر لکھنے کا عمل جاری رکھنین۔ یہ انٹرنٹ کا زمانہ ہے۔ آج ایک بڑی تعداد تخلیقات نٹ پر پڑھتے ہیں۔ لکھنے والے اپنی تخلیقات نٹ پر اپلوڈ کرین ان کو بین الاقوامی سطح پر قارئین ملین گے۔ قمر جمالی نے مشورہ دیا کی افسانہ نگار صرف کھڑکی سے نظر آنے والے سماجی مسائل نہین بلکہ اپنی نگاہ بلند کرین اور آفاقی مسائل پر قلم اٹھائیں۔ انھون نے ثریا جبین کی ادبی خدمات اور ان سے اپنے دیرینہ مراسم کا بھی ذکر کیا۔
ابتداء میں ثریا جبین اور نوید احمد نے شہ نشین پر تشریف فرما تمام مہمانون کو شال اور گلدستے پیش کرتے ہوئے تہنیت پیش کی۔ زمریس کنونشن ھال میں منعقد اس تقریب کے آخر میں میزبان محفل ثریا جبین نے ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے کہا مین افسانے لکھتی نہین بلکہ سماج کے تکلیف دہ مسائل پر میرا قلم آنسو بہاتا ہے۔ قلم میرا ہتھیار ہے اور مین سماجی برائیوں کے خلاف جہاد کرتی رہونگی۔ ثریا جبین کے ہدیہ تشکر پر اس پر اثر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔



