مضامین

ہم حیدرآبادی ……”بیگن کے باتاں“ نئیں سنتے

از: میر فاروق علی

میں مخاطب ہوں این آر آئیز اور بیرون ملک میں بسنے والے حیدرآبادی ناصحین اور انفلوئنسرس سے۔حیدرآباد کے تعلق سے بہت سی منفی اور مثبت دونوں طرح کی باتیں ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ مثبت باتیں جیسے یہاں کی زبان۔ تہذیب۔ لباس۔ غذائیں وغیرہ وغیرہ۔ ویسے ہی بہت سے منفی باتیں جیسے یہاں کی Extravagant شادیاں۔ دلہا دیر سے آتا ہے۔ لوگ خوب کھاتے ہیں۔ دیر تک جاگتے ہیں۔ صبح دیر تک سوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

 

حیدرآباد اور حیدرآبادیوں کا موازنہ دیگر ملکوں اور شہروں میں جابسے حیدرآبادی اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں۔ یہ دراصل ایک عادت اور فیشن بن گیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں یہ کثرت سے دیکھا جارہا ہے کہ لوگ مختلف جگہوں جیسے امریکہ۔ کناڈا۔ سعودی عرب۔ آسٹریلیا۔ یو کے وغیرہ سے حیدرآباد چھٹی پر آرہے ہیں۔ یہاں قیام کرتے ہیں۔ یہاں کی دعوتیں اٹینڈ کرتے ہیں اور بڑے شوق سے کرتے ہیں اور واپس جاکر اپنے ہی شہر اور لوگوں کے بارے میں ریلس (ویڈیوز) بنارہے ہیں اور اصلاح معاشرہ کے لکچرس جھاڑ رہے ہیں۔

 

یہ وہ لوگ ہیں جو دراصل یہاں (حیدرآباد) میں دعوتوں کھانوں اور اثاثے خریدنے اور ان کا جائزہ لینے کے لئے آتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر‘دن بھر اپنی ٹارگیٹیڈ مصروفیات میں رہتے ہیں اور شام ہوتے ہی انہیں دعوتیں اور بہترین غذائیں پسند ہوتی ہیں۔ ٹھیک ہے۔! اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ حیدرآباد آپ کی مہمان نوازی کیلئے تیار اور مشہور ہے۔

 

کوئی کہہ رہا ہے کہ آج کل حیدرآباد میں ہر کوئی نظام (حضور نظام) ہوگیا ہے۔ ہر کسی کے پاس گاڑی ہے۔ بہترین کھارہے ہیں وغیرہ۔ کوئی کہتا ہے حیدرآبادی ایسے ہیں ویسے ہیں۔کوئی حیدرآباد سے واپس جاتا ہے اور وہاں جاکر اپنے دوستوں میں مذاقیہ اور طنزیہ ویڈیو بناتے ہیں۔ یہ طریقہ دراصل ایک بیماری کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔

 

ابھی ایک ویڈیو میری نظر سے گزرا جس میں وہ صاحب کسی ڈاکٹر کا حوالہ دے کر کہہ رہے ہیں کہ حیدرآباد میں بچے دس بارہ سال میں پری میچور بڑے ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ یہاں کا کھانا پینا اور دعوتیں ہیں۔ ایسا نہیں ہے میرے بھائی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اُس ملک کے بارے میں (جہاں رہ کر وہ پیسہ کمارہے ہیں) وہاں کے حکمرانوں وہاں کے لوگوں وہاں کی خرابیوں کا ذکر نہیں کرتے لیکن ہمیں لکچر جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف حیدرآباد میں ہی لوگ بے تحاشہ کھا پی رہے ہیں۔؟ سوال یہ ہے کہ کیا صرف حیدرآباد میں ہی بچے پری میچور بڑے ہورہے ہیں۔؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا Inflmation اور Heart Attack سے اموات صرف حیدرآباد میں ہی ہورہی ہیں۔؟ میرے اپنے بچے ہیں۔ میرے بھانجے بھتیجے اور دیگر کئی بچے ہیں جو وقت پر بڑے ہورہے ہیں۔ وہ نارمل بڑھ رہے ہیں۔ الحمد للہ۔

 

یہاں دعوتیں ضرور بہت ہوتی ہیں اور بہت لذیذ شاندار پکوان اور غذائیں سجتی ہیں۔ بڑی بڑی دعوتیں ہوتی ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک۔ حیدرآباد میں دعوتوں کا مخصوص سیزن ہوتا ہے۔ اگر یہ سیزن نہ بھی ہو تب بھی گھروں میں بہترین غذائیں اور پکوان بنتے ہیں اور الحمدللہ سب اچھا کھا پی رہے ہیں۔ اگر گھر میں دل نہ کرے تو یہاں کی دنیا بھر میں مشہور ہوٹلس اور ریسٹورنٹس موجود ہیں۔ جب دل چاہے چلے جاتے ہیں۔ حیدرآبادیوں کو دعوتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ جب چاہے جہاں چاہے دعوت کرلیتے ہیں۔ پھر وہ گھر ہو۔ شادی خانہ ہو۔ ہوٹل یا فارم ہاوز۔

 

ہم حیدرآبادیوں کو اپنی خوبیاں اور خامیاں اچھی طرح سے معلوم ہے۔ ہمارے ہاں اصلاح معاشرہ اور شعور بیداری متحرک اور مستعد ہے۔ آپ (این آر آئیز) کے تجربات (لکچرس) سے بھی ہم ”مستفید“ ہورہے ہیں۔ ہم کو معلوم ہے کہ ہمارا لائف اسٹائل درست نہیں ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ راتوں میں جاگنا اور دیر سے کھانا غلط ہے۔ ہم وقت پر نہیں پہونچتے خاص طور پر دعوت میں دلہا اور دلہن ’ہمیشہ دیر کردیتے‘ ہیں۔ دکھاوا بہت کرتے ہیں۔ بیجا اصراف کرتے ہیں۔شادیاں سادگی سے نہیں کرتے۔ صبح جلد جاگنا اور صحت و تندرستی پر ہماری توجہ جیسی ہونی چاہیے ویسی نہیں ہے۔ سستی۔کام کو ٹالنا۔ عین وقت تک بھاگ دوڑ۔ یہ سب چلا آرہا ہے۔

 

حیدرآباد ایک برانڈ ہے۔ چاہے وہ یہاں کا اسلوب زبان کلچر غذائیں ہوں یا پھر آج کی ترقی کی رفتار میں دوڑتا دندناتا یہ شہر۔ یہ شہر بہت بدلا ہے اور لوگ بھی بدلے ہیں اور بہت بدلنا ابھی باقی ہے۔ ہم کو بدلنے (اصلاح)کی ضرورت ہے۔ یہ ایک مسلسل اور مستقل سفر ہے جو جاری رہے گا اور جاری رہنا چاہیے۔ ہاں! مگر ہم دباکے کھانا نہیں چھوڑتے۔ تمہارے بیگن کے باتاں نہیں سنتے۔ یہاں سب ”بیگن کو بولو“ بولتے۔!

 

متعلقہ خبریں

Back to top button