تلنگانہ

انڈومان اور نکوبار کے جزائر کو "آزاد ہند” سے موسوم کرنے کویتا کی وکالت

انڈومان اور نکوبار کے جزائر کو "آزاد ہند” سے موسوم کرنے کی وکالت

دفتر تلنگانہ جاگروتی میں سبھاش چندر بوس یوم پیدائش تقریب۔ فارورڈ بلاک کے قائدین مدعو۔ کے کویتا کا خطاب

 

عظیم مجاہد آزادی نیتاجی سبھاش چندر بوس کی جینتی کے موقع پر تلنگانہ جاگروتی کے مرکزی دفتر واقع بنجارہ ہلز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے نیتاجی کی تصویر پر پھول مالا چڑھائی اور ان کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کیا۔ اس پروگرام میں آل انڈیا فارورڈ بلاک کے قائدین اور تلنگانہ جاگروتی کے رہنما شریک ہوئے۔بعد ازاں صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے آل انڈیا فارورڈ بلاک کے قائدین سے ملاقات کی

 

۔ انہوں نے انڈومان و نکوبار جزائر کا نام نیتاجی سے موسوم کرنے کے مطالبہ کی بھرپور حمایت کی۔ اس موقع پر کویتا نے واضح کیا کہ انڈومان و نکوبار جزائر کو “آزاد ہند” کا نام دیا جانا چاہئے، اسی مطالبہ کے تحت انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی جینتی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ آج آل انڈیا فارورڈ بلاک پارٹی کے قائدین کو مدعو کیا گیا جو طویل عرصے سے انڈومان و نکوبار جزائر کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈومان کو “آزاد ہند” کا نام دیا جانا چاہئے اور تلنگانہ جاگروتی بھی اس مطالبہ کی مکمل تائید کرتی ہے۔کویتا نے اعلان کیا کہ 26 جنوری کو ٹویٹر پر ایک ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی اور اپنے نیٹ ورک کے ذریعہ ملک بھر کی تمام ریاستوں میں اس مطالبہ کو عوامی سطح پر پیش کیاجائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ دراصل انڈومان و نکوبار کا موجودہ نام انگریزوں نے رکھا تھا، اس لئے برطانوی ناموں کو برقرار رکھنے کے بجائے ہمارے عظیم ہیرو نیتاجی کے نام سے ان جزائر کو موسوم کیا جانا چاہئے۔ اسی سلسلہ میں وزیر اعظم کو بھی مکتوب تحریر کیا جا رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ بی جے پی حکومت نیتاجی کے احترام میں 26 جنوری کو انڈومان کا نام تبدیل کرے گی۔

 

کویتا نے نیتاجی کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ آزادی مانگنے سے نہیں ملتی بلکہ چھیننی پڑتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا تھا کہ تم مجھے اپنا خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا۔ اعلیٰ خاندان میں پیدا ہونے اور اچھی زندگی گزارنے کے باوجود نیتاجی نے آزادی کی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے آئی اے ایس کا امتحان بھی پاس کیا اور اس وقت چھ آسامیوں میں چوتھا رینک حاصل کیا، مگر انہوں نے یہ کہہ کر ملازمت چھوڑ دی کہ وہ انگریزوں کے لئے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو پریشان نہیں کر سکتے۔نیتاجی نے آئی اے ایس چھوڑ کر آزاد ہند فوج تشکیل دی اور ملک سے باہر بھیجے جانے کے بعد بھی بیرون ملک رہتے ہوئے آزادی کی لڑائی جاری رکھی

 

۔ کویتا نے کہا کہ نیتاجی صرف جوشیلے ہی نہیں تھے بلکہ سفارتی طور پر بھی نہایت ذہین تھے، انہوں نے بیرون ملک رہتے ہوئے برطانوی حکومت کے خلاف عالمی سطح پر حمایت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ جن قائدین میں مقصد کی پاکیزگی اور نیت کی سچائی ہو، انہیں نیتاجی کو اپنی تحریک بنانا چاہئے۔

 

کویتا نے کہا کہ آج کی حکومتیں خواتین کو سڑکوں پر اترنے کے بعد بھی 33 فیصد ریزرویشن دینے میں ناکام رہیں، جبکہ نیتاجی نے اپنے دور میں جھانسی لکشمی بائی رجمنٹ کے ذریعہ خواتین کو فوج میں شامل ہونے کا موقع دیا اور انہیں ہتھیار تھما کر جدوجہد کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتاجی ہمارے ملک کا فخر اور بیش قیمت اثاثہ ہیں اور ہر ایک کو ان سے تحریک لینی چاہئے

 

۔انہوں نے یاد دلایا کہ آزادی سے قبل برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے بھی نیتاجی کی عظمت کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ آزاد ہند فوج نے برطانوی حکومت کو خوف زدہ کر دیا تھا۔ ایسے عظیم قائدین کے احترام کے لئے ان کے نام کو زندہ رکھا جانا ضروری ہے۔

 

کویتا نے کہا کہ گزشتہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی جے پی نے حیدرآباد کا نام بھاگیہ نگر رکھنے کا اعلان کیا تھا، مگر وہ محض سیاسی مفادات کے لئے عارضی اقدام تھا۔ نیتاجی جیسے عظیم رہنماؤں کی وراثت کو محفوظ رکھنے کے لئے انڈومان و نکوبار جزائر کو لازمی طور پر “آزاد ہند” کا نام دیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button