مضامین

اختلاف کیوں اور کیسے پنپتے ہیں؟

منہاجُ الاسلام

کاؤنسلر اینڈ سائیکالوجسٹ

گھروں کی تقسیم اور باہمی اختلافات کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتے، بلکہ یہ نہایت مائیکرو لیول سے شروع ہو کر آہستہ آہستہ میکرو لیول تک پھیل جاتے ہیں، اور سچ کہا جائے تو یہی وہ نازک حقیقت ہے جس پر ہمارا پورا معاشرہ کھڑا بھی ہوتا ہے اور بکھر بھی جاتا ہے۔ اس کی شروعات نہ کسی بڑے جھگڑے سے ہوتی ہے، نہ ہی زمین و جائیداد کے مقدمات سے، بلکہ اکثر بچپن کی اُن چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتی ہے جنہیں ہم “بچوں کی نوک جھونک” کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں جیسے ایک بھائی کو پراٹھا ملا اور دوسرے کو پوری، ایک کو نئی کاپی ملی اور دوسرے کو پرانی، ایک کی تعریف ہو گئی اور دوسرا خاموش رہ گیا۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں دل کے کسی کونے میں ہلکی سی ٹیس، ایک ان دیکھی شکایت جنم لیتی ہے، جو اُس وقت زبان پر نہیں آتی مگر دل میں بیٹھ جاتی ہے۔

 

اگر اسی وقت گھر کے بڑے، ماں باپ، دادا دادی یا کوئی سمجھدار بزرگ یہ بات سمجھا دیں کہ برابری صرف چیزوں کی نہیں بلکہ احساس کی ہوتی ہے، کہ آج اگر بڑے کو روٹی ملی ہے تو چھوٹا بھی خوشی خوشی وہی کھا سکتا ہے، اور اگر چھوٹے کو پراٹھا ملا ہے تو بڑا بھی دل بڑا کر کے وہی کھا لے، تو یہی چھوٹی سی قربانی اور یہی معمولی سا سمجھوتہ بچوں کے دل میں ایک بہت بڑی تربیت چھوڑ جاتا ہے—کہ رشتے کھانے سے بڑے ہوتے ہیں اور محبت ضد سے کہیں اوپر ہوتی ہے مگر افسوس کہ اکثر یہ سمجھ یہیں تک محدود رہ جاتی ہے۔ بھائی بہنوں کے درمیان تو کبھی نہ کبھی کسی طرح توازن بن بھی جاتا ہے، لیکن جیسے ہی وہی بچے بڑے ہو کر چچا، تایا یا بابا کے بچوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، وہاں وہ سُہرد، وہ اپنائیت اور وہ “ہم” کا جذبہ غائب ہو جاتا ہے، اور اس کی جگہ “میں اور میرا” آ جاتا ہے۔ پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر موازنہ شروع ہو جاتا ہے کس کا گھر بڑا ہے، کس کی تعلیم بہتر ہے، کس کا کاروبار زیادہ چل رہا ہے، کس کی عزت زیادہ ہے—اور یہی سے من موٹاؤ، من بھید اور رفتہ رفتہ رنجش کی دیواریں کھڑی ہونے لگتی ہیں، جو باہر سے چاہے کتنی ہی پتلی کیوں نہ نظر آئیں، مگر وقت کے ساتھ اتنی مضبوط ہو جاتی ہیں کہ نسلیں بھی انہیں توڑ نہیں پاتیں۔

 

ایسے میں سب سے بڑی ذمہ داری گھر کے بڑوں اور سمجھدار لوگوں کی ہوتی ہے، کیونکہ وہی طے کرتے ہیں کہ خاندان جڑے گا یا ٹوٹے گا۔ وہی یہ سکھا سکتے ہیں کہ اختلاف ہونا غلط نہیں، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا سب سے بڑی غلطی ہے۔ وہی یہ یاد دلا سکتے ہیں کہ خون کے رشتے عدالتوں میں نہیں بلکہ دلوں میں مضبوط ہوتے ہیں۔ جب یہ سمجھ خاندان کے اندر نہیں بنتی، تو یہی زہر محلے تک پہنچتا ہے—آج پڑوسی سے بات بند، کل ایک دوسرے کے خلاف کانا پھوسی، پھر گروہ بندی اور پھر علاقائی تناؤ—اور آہستہ آہستہ یہی کیفیت پورے سماج پر حاوی ہو جاتی ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ایک دوسرے کو گرتا دیکھنے لگتے ہیں۔

 

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب گھر مضبوط ہوتا ہے تو خاندان مضبوط ہوتا ہے، خاندان مضبوط ہوتا ہے تو محلہ مضبوط ہوتا ہے، اور جب محلہ مضبوط ہوتا ہے تو پورا معاشرہ ایک ڈھال کی طرح کھڑا ہو جاتا ہے، جہاں کسی کو دبانا، ڈرانا یا پریشان کرنا آسان نہیں رہتا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ کوئی اکیلا نہیں ہے۔ یہ اتحاد صرف جذباتی تحفظ ہی نہیں دیتا بلکہ سماجی اور اخلاقی دفاع کو بھی مضبوط بناتا ہے، جہاں غلط کے خلاف آواز اٹھانا آسان ہو جاتا ہے اور صحیح کے ساتھ کھڑا ہونا فطری لگتا ہے۔

 

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود سے شروعات کریں—اپنے گھر سے، اپنے بچوں سے، اپنے رویّے سے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم کون سی مثال پیش کر رہے ہیں: کیا ہم بچوں کے سامنے برابری اور انصاف کی بات کرتے ہیں یا خود موازنہ اور جانبداری میں الجھے رہتے ہیں؟ کیا ہم رشتوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں یا صرف “میں صحیح ہوں” ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوں، تو ہمیں آج انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ چھوٹی قربانی بڑی یکجہتی کی بنیاد ہوتی ہے، کہ دل جیتنا زمین جیتنے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، اور یہ کہ اگر اختلاف کو محبت سے سلجھایا جائے تو وہی اختلاف سماج کو جوڑنے والی سب سے مضبوط ڈور بن جاتا ہے۔ یہی سوچ اگر گھر گھر میں زندہ ہو جائے، تو نہ صرف خاندان بکھرنے سے بچیں گے بلکہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں لوگ ایک دوسرے کی کامیابی سے جلیں گے نہیں بلکہ اسے اپنی جیت سمجھیں گے، اور شاید تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے واقعی گھروں سے اختلاف ختم کرنے کی شروعات کر دی ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button