تلنگانہ

علامہ شبلی نعمانیؒ، مہاراجہ سر کشن پرشاد اور ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی فکری جہات پر دو روزہ عالمی سیمینار

علامہ شبلی نعمانیؒ، مہاراجہ سر کشن پرشاد اور ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی فکری جہات پر دو روزہ عالمی سیمینار

حیدرآباد(راست)شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشنل اینڈ چیرٹیبل ٹرسٹ، حیدرآباد کے زیرِ اہتمام اور شعب اردو، گورنمنٹ سٹی ڈگری کالج (A)، حیدرآباد کے تعاون سے سہ لسانی (اردو، عربی، فارسی) دو روزہ عالمی سیمینار بعنوان”علامہ شبلی نعمانیؒ، مہاراجہ سر کشن پرشاد، ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی فکری جہات“بمقام اعظم ہال آڈیٹوریم، گورنمنٹ سٹی کالج، حیدرآباد منعقد ہوا۔سیمینار کا افتتاحی اجلاس 02 جنوری 2026 کو منعقد ہوا

 

۔ سمینار کا آغاز حافظ و قاری سہیل انصاری کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ شاہنواز ہاشمی نے نعتِ رسولؐ پیش کی۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے سٹی کالج کی وائس پرنسپل ڈاکٹر شانتی نے کہا کہ اس نوعیت کے علمی سیمینار عصری اور تحقیقی شعور کو فروغ دیتے ہیں اور طلبہ و طالبات کے لیے علمی و فکری رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر عبدالقدوس نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے شبلی ٹرسٹ کے قیام، ارتقا اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ ٹرسٹ کا چوتھا بین الاقوامی سیمینار ہے

 

۔پروفیسر مظفر علی شہ میری(سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی، کرنول)نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سیمینار عالمِ اسلام کی عظیم تحقیقی شخصیت ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی فکری خدمات کو اجاگر کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے ڈاکٹر حمید اللہؒ کے قرآنی تراجم اور بین الاقوامی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔کلیدی خطبہ پروفیسر محمد محمود صدیقی (ڈین، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد)نے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ شبلی نعمانیؒ نے محض 57 برس کی عمر میں جو علمی، ادبی اور فکری سرمایہ چھوڑا وہ اردو اور اسلامی علوم کا بیش قیمت اثاثہ ہے۔

 

انہوں نے شبلیؒ کی تصانیف سیرت النبیؐ، الفاروق، المامون، شعرالعجم کو مشعلِ راہ قرار دیا اور مہاراجہ سر کشن پرشاد کو رواداری اور قومی یکجہتی کی علامت بتایا۔مہمانِ خصوصی پروفیسر سید عین الحسن (وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی) نے شبلی ٹرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشنل ٹرسٹ کو ایک عالمی سطح کا ادارہ بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سٹی کالج حیدرآباد کو اردو زبان و ادب کا عظیم علمی مرکز قرار دیا اور حیدرآباد کی علمی شخصیات کے ذاتی کتب خانوں کے تحفظ پر زور دیا۔

 

افتتاحی اجلاس سے مولانا غیاث احمد رشادی (صدر، صفا بیت المال)،پروفیسر سید راشد نسیم ندوی (ڈین، ایفلُو یونیورسٹی)،ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز (ایڈیٹر، گواہ)،ڈاکٹر راجندر کمار (شعبہ ہندی، سٹی کالج)نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پرپروفیسر محمد محمود صدیقی، پروفیسر سید راشد نسیم ندوی اور مولانا غیاث احمد رشادیکو ان کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں شبلی ایوارڈ 2026ء پیش کیا گیا۔

 

نظامت کے فرائض مولانا ڈاکٹر محمد محمد ہلال اعظمی نے انجام دیے جبکہ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر سید اسرار الحق سبیلی نے افتتاحی اجلاس کے اختتام پر اظہار تشکر کیا۔اسی رات گوگل میٹ کے ذریعے آن لائن اکیڈمک سیشن منعقد ہوا جس کی صدارت معروف ماہرِ شبلیات ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی نے کی

 

۔اس سیشن میں ملک و بیرونِ ملک سے متعدد اسکالرز نے مقالے پیش کیے جن میں لندن، سعودی عرب، کشمیر، دہلی، مہاراشٹرا، بنارس اور حیدرآباد کے محققین مولانا محفوظ لندن،نعیم جاوید سعودی عرب،ڈاکٹر سیدہ بانو کشمیر،ڈاکٹر آصفہ زینب دہلی،ڈاکٹر نجم النساء ناز کڑپا آندھرا پردیش،داکٹر اختر النساء قریشی مہاراشٹرا،ڈاکٹر محمد رفیق قاسمی بنارس،ڈاکٹر رضوانہ بیگم حیدرآباد،فرزانہ بیگم حیدرآباد، مفتی مجاہد قاسمی حیدرآباد اور دیگر نے مقالہ پیش کیے۔ڈاکٹر سید حبیب امام قادری،ڈاکٹر سمیہ تمکین،ڈاکٹر غوثیہ بانو،ڈاکٹر محمد محامد ہلال اعظمی،ڈاکٹر سید اسرار الحق سبیلی،ڈاکٹر مختار احمد فردین اور محسن خان نے شرکت کی۔ ڈاکٹر عبد القدوس نے نظامت کی۔سمینار کے دوسرے دن صبح مقالوں کا سیشن منعقدہوا۔ پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر محمد ناظم علی نے کی۔اس موقع پر 36 مقالہ نگاران نے علامہ شبلی نعمانیؒ، مہاراجہ سر کشن پرشاد اور ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی فکری جہات پر تحقیقی مقالے پیش کیے

 

۔مہمان خصوصی ڈاکٹر ایس.ایم.مذکر پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی،ڈاکٹر محمد خلیل اللہ بھتیجے ڈاکٹر محمد حمید اللہ،مولانا مصور حسین ندو ی پرنسپل طہٰ اسکول حیدرآباد رہے۔نظامت ڈاکٹر سمیہ تمکین اوار اظہار تشکر ڈاکٹر بشیر النساء نے ادا کیا۔زاہد ہریانوی نے نعت شریف پیش کی۔

 

اختتامی سیشن سے صدارتی خطاب میں پروفیسر مظفر علی شہ میری نے تمام مقالہ نگاران کو مبارک باد دیتے ہوئے حکومتِ ہند اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی شخصیت اور علمی خدمات کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کیا جائے۔ آخر میں سیمینار کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام مقالات کو ”فکری جہات“ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیا جائے گا۔ سیمینار کے اختتام پر تمام معاونین، اساتذہ، طلبہ، طالبات، کارکنان اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button