کانگریس، بی جے پی، بی آرایس تمام کنٹراکٹرس کے لئے کام کر رہے ہیں تلنگانہ جاگروتی ہمیشہ سنگارینی مزدوروں کے ساتھ کھڑی رہے گی: کے کویتا

کانگریس، بی جے پی، بی آرایس تمام کنٹراکٹرس کے لئے کام کر رہے ہیں
تلنگانہ جاگروتی ہمیشہ سنگارینی مزدوروں کے ساتھ کھڑی رہے گی: کے کویتا
سنگارینی کنٹراکٹس کے معاملہ پر تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ جاگروتی دفتر میں پریس میٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ریاست میں ایک نہایت خطرناک رجحان شروع ہوچکا ہے، جہاں انتہائی غیر مقبول یوٹیوب چینلز پر شائع ہونے والے من گھڑت مواد کو سیٹلائٹ چیانلس بھی بغیر جانچ کے نشر کر رہے ہیں۔ خاص طور پر دلت خواتین کے خلاف اسی نوعیت کی خبروں پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کویتانے کہا کہ ماضی میں جب یوٹیوب چیانلس نے حد پار کی تو بی آر ایس حکومت نے ان کے خلاف کارروائی کی، جبکہ موجودہ کانگریس حکومت نے ایک قدم آگے بڑھ کر سیٹلائٹ چیانلس کے نمائندوں کو بھی گرفتار کیا۔
تاہم صحافیوں کی گرفتاری کے طریقۂ کار کی انہوں نے سخت مذمت کی اور کہا کہ صحافی دہشت گرد نہیں ہوتے، انہیں نوٹس دے کر وضاحت طلب کی جانی چاہئے تھی۔انہوں نے کہا کہ اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی آر ایس پارٹی صحافیوں کی حمایت میں کھڑی ہوئی، لیکن جب کے ٹی آر کے خلاف اسی نوعیت کی خبریں آئیں تو ان کے حامیوں نے ایک چیانل پر حملہ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ خواتین کے معاملے میں یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر ایک دلت لڑکی کے خلاف خبر آتی ہے تو اس کے ساتھ کیوں نہیں کھڑا ہوا جاتا؟کویتا نے کہا کہ ایک چیانل میں خبر آنے کے بعد اسی خبر کے پس منظر کے عنوان سے ایک اور اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی، جس کی بنیاد پر بھٹی وکرامارکا نے پریس میٹ کی۔
ان کے بعد گنٹنکا نے بھی پریس میٹ کی اور اسی کو آنکھ بند کرکے فالو کرتے ہوئے کے ٹی آر نے پریس کانفرنس کی۔ بالآخر نینی کنٹراکٹ منسوخ کرنے کا اعلان ہوا، مگر اس پورے معاملے میں کئی تضادات سامنے آئے۔انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ جاگروتی کنٹراکٹروں کے نہیں بلکہ مزدوروں کے حق میں بات کرتی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں مزدوروں کے مسائل پر کئی مرتبہ آواز اٹھانے کے باوجود نہ کانگریس اور نہ ہی بی آر ایس نے توجہ دی، لیکن جب ایک وہیل جیسے بڑے کنٹراکٹرس کو نقصان ہونے کا خدشہ ہوا تو سب آگے آگئے۔
کویتا نے بتایا کہ 2015 میں نینی بلاک الاٹ ہوا تھا، 2021 میں جب اڈانی نے 44 فیصد ایکسس پر ٹنڈر ڈالا تب بھی انہیں کنٹراکٹ نہیں دیا گیا۔ درمیان میں سنگارینی نے ایک دوسری کمپنی کو مٹی نکالنے کا ٹنڈر ڈیزل اخراجات کے ساتھ دیا، مگر اس حقیقت کو چھپایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں ایکسس ٹنڈرس نہیں دیئے گئے، یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے، کیونکہ 36، 16، 7 اور 8 فیصد ایکسس پر کئی ٹنڈرز دیئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ گنٹنکا، نمستے تلنگانہ، ٹی نیوز اور کے ٹی آر مل کر ایک چھوٹی مچھلی کو بڑا دکھا کر اصل بڑی مچھلی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سروجن ریڈی کو صرف 250 کروڑ روپئے کا کنٹراکٹ ملا، مگر انہیں وزیراعلیٰ کا قریبی رشتہ دار بتا کر اچھالا جا رہا ہے، جبکہ 25 ہزار کروڑ کے کنٹراکٹ کی کوشش میگھا کرشنا ریڈی کے لئے کی جا رہی ہے، جس پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب بی آر ایس دور میں ہی سروجن ریڈی کو کنٹراکٹ دیئے گئے تھے
، تب انہیں وزیراعلیٰ کا رشتہ دار کیوں یاد نہیں آیا؟انہوں نے کہا کہ سائٹ وزٹ کی شرط کے ذریعہ کچھ لوگوں کے مواقع متاثر ہوں گے، لیکن اصل مقصد یہ دکھانا ہے کہ میگھا کرشنا ریڈی کی کمپنی کو مٹی کھدائی کا تجربہ ہے تاکہ 25 ہزار کروڑ کا کنٹراکٹ انہیں دیا جا سکے۔
کویتا نے الزام عائد کیاکہ این ڈی او سسٹم لا کر سنگارینی کو نقصان پہنچایا گیا، جس کی وجہ سے ادارہ خسارے میں چلا گیا۔ بی آر ایس دور میں سنگارینی پر 25 ہزار کروڑ کا قرض تھا، جو کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد 50 ہزار کروڑ ہوچکا ہے۔ بجلی کمپنیوں کے بقایاجات ادا نہ ہونے کے سبب سنگارینی کو تنخواہوں کے لئے بھی قرض لینا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح نینی ٹنڈرمنسوخ کئے گئے، اسی طرح این ڈی او نظام کو بھی ختم کیا جائے، اوڈیشہ جا کر اوپن کاسٹ کانکنی کی جائے تاکہ تلنگانہ کے مزدوروں کو روزگار ملے اور ادارے کو فائدہ ہو۔ تادیچرلا جیسے اعلیٰ معیار کے بلاکس کو بھی این ڈی او کے تحت دے کر ادارے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔کویتا نے کہا کہ بی آر ایس سنگارینی کے معاملہ میں کھوکھلی سیاست کر رہی ہے اور عوام کو سچ بتانے کے بجائے جھوٹ بول رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر سی بی آئی آتی ہے؟ اس کے باوجود گنٹنکا، بھٹی کو خط نہ لکھ کر کشن ریڈی کو خط لکھنے کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی سنگارینی میں انتخابات ہونے والے ہیں، اس سے پہلے مزدوروں کے مطالبات حل کئے جائیں، بھرتیاں اور بلوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے نینی بلاک کے دورہ کے لئے ایک خصوصی وفد بھیجا جائے گا۔
کویتا نے واضح کیا کہ کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی سب کنٹراکٹروں کے لئے کام کر رہی ہیں، جبکہ تلنگانہ جاگروتی ہمیشہ مزدوروں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ان کی بات ٹی وی چینلز پر نہ دکھائی جائے، مگر سنگارینی کو 25 ہزار کروڑ کے نقصان سے بچانے کے لئے وہ بولتی رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ فون ٹیپنگ معاملہ ایک مذاق بن چکا ہے، دو برسوں سے اسے طول دیا جا رہا ہے اور متاثرین کو کوئی انصاف نہیں مل رہا ہے۔ فون ٹیپنگ دہشت گردوں کے لئے ہونی چاہیے تھی، مگر تمام حکومتیں اس کا غلط استعمال کر رہی ہیں، اور یہ سب کچھ میونسپل انتخابات کے لئے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
مہیش کمار گوڑ کے تبصروں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کویتا نے کانگریس میں شامل ہونے کی افواہوں کو مسترد کردیا اورکہا کہ اس طرح کی قیاس آرائیوں کا مقصد ان کی ساکھ کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ تلنگانہ جاگروتی ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جاگروتی، کنٹراکٹرس کے بجائے ہمیشہ ورکرس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ کویتا نےاعلان کیا کہ جاگروتی کا ایک وفد جلد ہی نینی بلاک کا دورہ کرے گا۔



