مضامین

یوم جمہوریہ

از مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی 

توپران ضلع میدک تلنگانہ انڈیا 

Mufti

26 جنوری ہندوستانی ریاست کے آئینی وجود کا وہ فیصلہ کن دن ہے جس نے آزادی کو محض ایک تاریخی اعلان کے درجے سے بلند کر کے ایک منظم قانونی، اخلاقی اور فکری نظام میں ڈھال دیا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب اقتدارِ اعلیٰ شخصیات، گروہوں اور وقتی خواہشات سے نکل کر اصولوں، ضابطوں اور آئینی حدود کے تابع ہوا۔ اسی دن ریاست نے یہ اعلان کیا کہ طاقت کا سرچشمہ بندوق یا ہجوم نہیں بلکہ قانون اور عدل ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے الفاظ میں: «آزادی محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ کردار کی ذمہ داری ہے» ۔ جمہوریہ کا قیام دراصل اسی ذمہ داری کا اجتماعی اعلان تھا کہ اب ریاست کا ہر فیصلہ جواب دہی اور اصول پسندی کے ساتھ جڑا ہوگا۔ یہی احساسِ ذمہ داری قوموں کو تاریخ کا بوجھ نہیں بلکہ تاریخ کا معمار بناتا ہے۔

 

آئینِ ہند محض دفعات اور شقّات کا مجموعہ نہیں بلکہ ہندوستانی سماج کی صدیوں پر محیط فکری جدوجہد، تہذیبی تنوع اور اجتماعی قربانیوں کا نچوڑ ہے۔ یہ آئین مظلوم طبقات کی امیدوں اور محروم اکائیوں کے خوابوں کا امین ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے واضح کہا تھا کہ «آئین چاہے کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اگر اس پر عمل کرنے والے اچھے نہ ہوں تو وہ ناکام ہو جاتا ہے» ۔ یہی وہ فکر ہے جو آئین کو محض کاغذی متن کے بجائے زندہ سماجی معاہدہ بناتی ہے۔ جب ریاست اس روح کو زندہ رکھتی ہے تو آئین قوم کی ڈھال بن جاتا ہے، اور جب اس سے غفلت برتی جائے تو وہ محض کتاب بن کر رہ جاتا ہے۔

 

جمہوری نظام کی روح اس وقت بیدار ہوتی ہے جب شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض سے بھی پوری طرح آگاہ ہوں۔ جمہوریت صرف اقتدار کے حصول کا نام نہیں بلکہ اخلاقی تربیت کا مسلسل عمل ہے۔ مہاتما گاندھی نے بجا طور پر فرمایا تھا: «حقوق فرائض کے بغیر ایسے ہیں جیسے پھول خوشبو کے بغیر» ۔ اگر آزادی ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ انتشار میں بدل جاتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہے جہاں اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہے اور طاقت اخلاق کے تابع ہو۔ یہی توازن قوموں کو انتشار سے بچا کر استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

 

اسی طرح ریاستی اداروں کا توازن جمہوری بقا کی ضمانت ہے۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اگر اپنی آئینی حدود میں رہیں تو نظام مضبوط رہتا ہے، اور اگر کوئی ادارہ حد سے تجاوز کرے تو پورا ڈھانچہ متزلزل ہو جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: «قانون اگر بے روح ہو جائے تو قوموں کی تقدیر قید ہو جاتی ہے» ۔ عدلیہ کی خودمختاری اسی لیے لازم ہے کہ وہ طاقت کو قانون کی زنجیر میں باندھ کر رکھے۔ جب انصاف خوف سے آزاد ہو جاتا ہے تو ریاست مضبوط اور عوام مطمئن ہو جاتے ہیں۔

 

یومِ جمہوریہ محض جشن یا رسم نہیں بلکہ قومی محاسبے کا دن ہے۔ یہ دن ریاست کو یاد دلاتا ہے کہ اقتدار ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت قوموں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نے لکھا تھا کہ «قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہیں» ۔ یہی پیغام اس دن کا حاصل ہے کہ آئین کو محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے مانا جائے۔ جب اصول تقریروں تک محدود ہو جائیں تو جمہوریت کھوکھلی اور جب عمل اصولوں کا آئینہ بن جائے تو ریاست مضبوط ہو جاتی ہے۔

 

آئینی شعور کے بغیر جمہوریت اکثریتی غلبے اور طاقت کے ارتکاز کا شکار ہو جاتی ہے۔ باشعور عوام ہی وہ قوت ہیں جو آئین کو زندگی کا ضابطہ بناتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے آئینی اصولوں کو نظر انداز کیا، وہ آزادی کے باوجود غلامی کا شکار ہو گئیں۔ حضرت علیؓ کا قول ہے: «کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں» ۔ یہی وہ ابدی اصول ہے جو ہر آئینی ریاست کی بنیاد ہے۔ یومِ جمہوریہ ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ آئین کی حفاظت صرف اداروں کا نہیں بلکہ ہر شہری کا فریضہ ہے۔ جب یہ شعور اجتماعی بن جائے تو جمہوریہ محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ، باوقار اور دیرپا حقیقت بن جاتی ہے۔

 

اخیر میں حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ آئین کسی قوم کا ماضی نہیں بلکہ اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ اگر ہم نے آئین کو سمجھا، اپنایا اور اس کی روح کے ساتھ جیا تو آزادی مضبوط ہو گی، اور اگر اسے محض رسمی کتاب بنا دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ یومِ جمہوریہ ہمیں یہی آخری اور فیصلہ کن پیغام دیتا ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، آئینی کردار سے زندہ رہتی ہیں۔

 

خلاصہ کلام

 

چھبیس جنوری محض ایک تاریخی تاریخ نہیں بلکہ برصغیر کی فکری، اخلاقی اور قانونی جدوجہد کا وہ نچوڑ ہے جس میں غلامی کے اندھیروں سے نکل کر خود اختیاری، آئینی بالادستی اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور جلوہ گر ہوا۔ یہ دن اس حقیقت کا اعلان ہے کہ کوئی قوم محض نعروں سے نہیں بلکہ اصولوں، قربانیوں اور قانون کی حکمرانی سے زندہ رہتی ہے۔ آئین محض دفعات کا مجموعہ نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کی تحریری صورت ہے جو فرد کو حق، سماج کو نظم اور ریاست کو سمت عطا کرتی ہے۔ اکابرِ ملت کے اقوال اس امر پر شاہد ہیں کہ جب قانون اخلاق سے جڑ جائے تو عدل محض لفظ نہیں رہتا بلکہ زندہ حقیقت بن جاتا ہے۔

 

اس تناظر میں چھبیس جنوری ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ آزادی کی حفاظت صرف جشن سے نہیں بلکہ ذمہ دارانہ طرزِ فکر، عدلِ اجتماعی اور مسلسل خود احتسابی سے ممکن ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل تک ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button