اردو کا جشن منانا ہے۔ چلو جشنِ اردو جانا ہےسیاسی،سماجی،ثقافتی وادبی شخصیت ڈاکٹر محمد ناصر باغبان

اورنگ آباد : اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے منعقد کیا جانے والا معروف اور کثیر المقاصد سالانہ ادبی و ثقافتی پروگرام عالمی جشن اُردو کا چوتھا ایڈیشن ممبئی میں تین روزہ ادبی و ثقافتی جشن 30 اور 31 جنوری اور یکم فروری 2026 کو ممبئی یونیورسٹی کالینہ کیمپس سانتا کروز ممبئی میں منعقد ہو گا۔
ملیہ آرٹس سائنس اور مینجمنٹ سائنس کالج بیڑ، شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر محمد عثمان باغبان(م ن باغبان، پیٹھن، پمپری راجہ اورنگ آباددکن) کہتے ہیکہ دہلی میں ریختہ اور غالب اکیڈمی اور ممبئی میں اردو کارواں ، جشن اردو اور اورنگ آباد میں ایجوکیشن ایکسپو اردو کتاب میلہ عالمی، ملکی اور ریاست کے مختلف علاقوں میں اردو کا جشن منایا جاتا ہے۔ جشن اردو مہاراشٹر کے مختلف اضلاع ، ملک کی دیگر ریاستوں، جامعات، تعلیمی اداروں اور ثقافتی تنظیموں سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں پہنچتے ہیں ۔
یہ ہمہ رنگ شرکت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اردو زبان آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور اس کی کشش پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے۔ جشن اردو کا بنیادی مقصد عوام ، خصوصاً نو جوان نسل کو اپنی زبان سے جوڑنا ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں، جب مادری زبانوں کا استعمال بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے پروگرام نئی نسل کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں نوجوانوں کو تخلیقی اظہار کے مواقع ، ادبی شخصیات سے ملاقات، کتابوں سے رغبت اور زبان کی تاریخ و روایت سے شناسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جشن ثقافتی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کا ایک حسین مظہر بھی ہے
جہاں مختلف زبانوں، شہروں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد یکجا ہو کر ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ آج کا نوجوان اگر اردو سے دور ہو رہا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ مواقع کی کمی بھی ہے۔ یہ جشن نوجوانوں کو اظہار، مکالمہ اور تخلیق کے وہ مواقع فراہم کرتا ہے جو کسی بھی زبان کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ مشاعرے، فکری نشستیں، کتابوں کی نمائش اور مکالمے نوجوان ذہنوں میں اردو کے لیے نئی دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو صرف ایک مخصوص طبقے یا ادارے کی زبان نہیں بلکہ یہ پورے سماج کی مشترکہ میراث ہے۔ اس لیے اس کی ذمہ داری بھی اجتماعی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو طبقہ اور بالخصوص نوجوان نسل اس طرح کی تقریبات کو محض ایک رسمی سرگرمی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی شناخت اور تہذیبی بقا سے جوڑ کر دیکھیں۔
شرکت، مکالمہ اور وابستگی ہی وہ راستے ہیں جن سے اردو کا مستقبل محفوظ بنایاجاسکتا ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جشنِ اردو صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ اس زبان سے وفاداری کا ، اردو چھوڑنا ترقی نہیں ، اپنی جڑوں سے کٹ جانا ہے، زبان سنبھالیں، شناخت بچائیں۔ جو قوم اپنی زبان سے رشتہ توڑ لیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنی پہچان کھو دیتی ہے۔
اُردو کو اپنائیں اور فخر کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
اردو کا جشن منائیں۔ چلو جشنِ اردو جائیں۔
(م ن باغبان )



