نمس میں زیر علاج ایکسائز کانسٹیبل سومیا کی کویتا نے عیادت کی ۔ عملہ کو ہتھیار فراہم کئے جائیں

*ڈرگس اور گانجہ مافیا کیخلاف فی الفور سخت کارروائی کی جائے*
نمس میں زیر علاج ایکسائز کانسٹیبل سومیا کی عیادت۔ عملہ کو ہتھیار فراہم کئے جائیں
سنتوش راؤ ہی ریونت ریڈی کا مخبر۔ کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی جانب سے حمایت ناقابل فہم : کے کویتا
نظام آباد میں گانجہ مافیا کے حملہ میں شدید زخمی ایکسائز کانسٹیبل سومیا اور ان کے افراد خاندان کی خیریت دریافت کرنے کے لئے صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے حیدرآباد کے نمس اسپتال کا دورہ کیا۔بعد ازاں کویتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نظام آباد سے تعلق رکھنے والی ایکسائز کانسٹیبل سومیا کی عیادت کی گئی اور ان کے افراد خاندان کو حوصلہ دیا گیا۔ سومیا کی حالت نازک ہے، تاہم اس میں قدرے بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایکسائز کانسٹیبل کو قتل کرنے کی ہمت اگر گانجہ مافیا کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں حکومت کا کوئی خوف نہیں رہا۔ حکومت نے ڈرگس اور گانجہ فری ریاست کا وعدہ کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے آج دیہاتوں میں بھی گانجہ اور ڈرگس آسانی سے دستیاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں تک گانجہ اور ڈرگس پہنچ رہے ہیں اور بچوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجہ میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ گھریلو تشدد کے واقعات کے پیچھے بھی گانجہ اور ڈرگس ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اب ہوش میں آ کر ڈرگس اور گانجہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ ساتھ ہی ایکسائز اور فارسٹ عملے کو ہتھیار فراہم کئے جائیں، کیونکہ انہیں تربیت کے دوران فائرنگ سکھائی جاتی ہے لیکن عملی طور پر ہتھیار نہیں دیئے جاتے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر عملہ کے پاس ہتھیار ہوں گے تو گانجہ اور ڈرگس مافیا میں خوف پیدا ہوگا۔ انہوں نے تلنگانہ جاگروتی کے قائدین اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اس لعنت کے خاتمے کے لئے سرگرم ہوں اور اگر کہیں ڈرگس یا گانجہ مافیا کی معلومات ملیں تو فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔ آخر میں کویتا نے ایک بار پھر یقین دلایا کہ تلنگانہ جاگروتی سومیا اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ گنپو میستری کا اصل خفیہ کار سنتوش راؤ ہے اور وہی شخص کے سی آر کے کھانے پینے تک کی معلومات ریونت ریڈی تک پہنچاتا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپنے اسی خفیہ کار کو سزا سے بچانے کی کوشش ریونت ریڈی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ سنتوش راؤ ہی وہ بدنام زمانہ شخص ہے جس نے کے سی آر کو جہد کاروں اور شہیدوں کے خاندانوں سے دور کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پولیس ایمانداری سے کام کرے تو سنتوش راؤ کو لازماً سزا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جن ’دیّوں‘ کا وہ پہلے ذکر کر چکی ہیں، ان میں پہلا دیّو سنتوش راؤ ہی ہے۔ کویتا نے سوال کیا کہ آخر ہریش راؤ اور کے ٹی آر سنتوش کی حمایت کیوں کر رہے ہیں، یہ بات ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ کویتا نےکہا کہ بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو جہد کاروں اور شہیدوں کے خاندانوں سے دور کرنے کا اصل سبب سنتوش ہی ہے۔ غدرجیسے عظیم رہنما گھنٹوں گیٹ کے باہر انتظار کرتے رہے اور ایٹالہ جیسے رہنماؤں کو باہر آنے تک نہیں دیا گیا، اس کے پیچھے بھی یہی شخص تھا۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر فارم ہاؤس میں آدھی اِڈلی کھاتے ہیں یا پوری، اس کی خبر تک گنپو میستری کو پہنچانے والا بھی سنتوش راؤ ہی ہے۔ اسی لئے وہ یہ یقین نہیں رکھتیں کہ ایسے خفیہ کار کو واقعی سزا ملے گی۔ اگرچہ سنتوش کو ایس آئی ٹی کے سامنے طلب کرنا ایک بہتر قدم ہے، لیکن سزا ملنے پر شکوک برقرار ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایسے شخص کی ہریش راؤ اور کے ٹی آر کیوں پشت پناہی کر رہے ہیں، یہ ناقابلِ فہم ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر قانون واقعی اپنا کام بغیر کسی دباؤ کے کرے تو اس بدکردار کو سزا ضرور ملے گی اور پولیس سے اپیل کی کہ وہ سیاسی دباؤ کو بالائے طاق رکھ کر اپنا فرض ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی انسان کا اپنا سایہ بھی اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے، مگر جہد کاروں کو کے سی آر سے دور کرنے کا گناہ کی سزا اس شخص کو ضرور ملے گی۔



