درست اعداد و شمار نہ ہوں گے تو تحفظات بھی نہیں ملیں گے : کویتا

تمام طبقات کو آبادی کے تناسب سے مواقع ملنے چاہئے
مردم شماری سے متعلق مرکزی حکومت کےدستاویز میں او بی سی کے لئے کوئی خانہ نہیں
ذات پر مبنی مردم شماری سے متعلق بی جے پی نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا
درست اعداد و شمار نہ ہوں گے تو تحفظات بھی نہیں ملیں گے
مردم شماری کے اہم مسئلہ پر کانگریس اور بی آر ایس کی معنی خیز خاموشی
ہر مذہب، ہر طبقہ مردم شماری میں مساوی شناخت کا حق دار
*تمام طبقات کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت۔ تلنگانہ جاگروتی کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس۔ کے کویتا کا خطاب*
قومی مردم شماری میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کے موضوع پر تلنگانہ جاگروتی کے زیر اہتمام ایک جامع راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کی گئی۔جس میں مختلف طبقات، برادریوں اور سماجی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ملک بھر میں اس وقت مردم شماری اور ذات پات پر مبنی گنتی کے حوالے سے ایک بڑی مشق جاری ہے۔
اصولا مردم شماری ہر دس برس میں ایک بار ہونی چاہئے تھی جو 2021 میں ہونی تھی، تاہم کووڈ وبا کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب مختلف ریاستوں سے ذات پات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ سامنے آیا تو مرکز نے اس پر آمادگی ظاہر کی جس پر خوشی ہوئی لیکن جیسے ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اس سے متعلق دستاویز جاری کی گئی اس کی نیت کھل کر سامنے آ گئی۔ دستاویز میں ایس سی اور ایس ٹی کے خانے تو رکھے گئے، مگر او بی سی کے لئے کوئی علیحدہ خانہ شامل نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ’’ذات‘‘ کا عمومی خانہ رکھا گیا،
جو عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ذاتوں کے نام ہر ریاست میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی اپنی ذات ویلما تلنگانہ میں او سی، مہاراشٹرا میں ایس سی اور آندھرا پردیش میں بی سی شمار کی جاتی ہے۔ جب ایک محدود آبادی والی ذات کے حوالے سے اتنا اختلاف ہے تو 56 فیصد آبادی رکھنے والے بی سی طبقات کے معاملے میں کس قدر انتشار پیدا ہوگا، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں اعلیٰ ذاتوں کے غریب طبقات کو ریزرویشن دیا گیا مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کس زمرے میں آئیں گے۔ آج کے راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں تمام کمیونٹیز کے نمائندے شریک ہوئے ہیں اور یہاں سے جو رائے سامنے آئے گی، وہ ریزرویشن سے متعلق مرکز کے لئے ایک رہنمایانہ دستاویز بننی چاہئے۔ کویتا نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے میں بی جے پی نے اپنے وعدے سے انحراف کیا ہے، جس پر ملک بھر میں بحث جاری ہے، اور اسی تناظر میں تلنگانہ کی رائے بھی مرکز تک پہنچانے کے لئے یہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ میں موجود تمام ذاتوں اور ان کی ذیلی ذاتوں پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے تیار کی جائے گی۔ دراصل یہ کام حکومت کا ہونا چاہئے تھا، لیکن چونکہ حکومت میں نیت کی کمی ہے، اس لئے جاگروتی نے تمام طبقات سے رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تلنگانہ تھنکس، انڈیا فالووز نیکسٹ‘‘ کے اصول کے تحت ذات پات پر مبنی مردم شماری کے معاملے میں بھی تلنگانہ کی آواز مرکز تک پہنچائی جائے گی تاکہ ہر ذات کو اس کے تمام حقوق دلائے جا سکیں۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے نام پر جاری سازش کے پیش نظر یہ ایک ہنگامی نوعیت کی میٹنگ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مردم شماری کا مطلب یہ ہے کہ ہر طبقہ اس میں شامل ہو اور بی سی، او سی، ایم بی سی سمیت تمام طبقات کی شناخت لازمی طور پر کی جائے۔ اگرچہ بی جے پی نے ابتدا میں تمام ذاتوں کی گنتی کی بات کی، مگر دستاویز میں صرف ’’ادرز‘‘ کا خانہ رکھ کر ایم بی سی، ڈی این ٹی اور او بی سی طبقات کو ایک بار پھر سرٹیفکیٹس سے محروم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری میں ذات کے ساتھ ساتھ ذیلی ذات کا اندراج بھی ضروری ہے، تبھی ہر طبقے کو حقیقی عزت مل سکتی ہے۔ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کو آئینی تحفظ حاصل ہونے کے باعث انہیں نقصان نہیں ہو رہا ہے مگر بی سی اور معاشی طور پر پسماندہ اعلیٰ ذاتیں کسی تحفظ کے بغیر چھوڑ دی گئی ہیں۔ ملک میں چار ہزار سے زائد ذاتیں موجود ہیں، ایسے میں اگر سب کو ’’ادرز‘‘ کے خانے میں ڈال دیا جائے تو درست اعداد و شمار کیسے سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2011 میں کانگریس نے 4,500 کروڑ روپئے خرچ کر کے مردم شماری میں جو غلطی کی تھی، آج بی جے پی 11 ہزار کروڑ روپئے خرچ کر کے وہی غلطی دہرا رہی ہے
اور پسماندہ طبقات کو دھوکہ دینے کی سازش کر رہی ہے۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ پہلے شناخت ضروری ہے، اس کے بعد ہی ریزرویشن ممکن ہے۔ اگر شناخت ہی نہ ہو تو ریزرویشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ذات پر مبنی مردم شماری ناممکن نہیں۔ صرف پدما شالی ذات میں ہی 23 ذیلی ذاتیں ہیں اور ہر ذات میں اسی طرح کئی ذیلی طبقات موجود ہیں۔ ان سب کو واضح طور پر درج کرنے سے ریزرویشن میں اضافہ کرنا پڑے گا،
اسی خوف کے تحت صرف ذاتوں کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس سال جدوجہد نہیں کی گئی تو او بی سی، بی سی اور ای بی سی کے خانے شامل نہیں ہو سکیں گے اور اگلے دس برس تک سرٹیفکیٹس نہیں ملیں گے۔ یہ سازش کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ پورے سماج کے خلاف ہے۔ تلنگانہ جاگروتی عوام کو اس سازش سے آگاہ کر رہی ہے اور تلنگانہ سماج سے اپیل کرتی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے سمجھے اور ہر جگہ اس پر بحث کرے۔انہوں نے کہا کہ جب تک یہ مسئلہ سیاسی ایجنڈہ نہیں بنتا، سیاسی پارٹیاں توجہ نہیں دیں گی، اسی لئے بلدی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات میں اسے ایجنڈہ بنایا جانا چاہئے۔ ایک سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر انہوں نے کہا کہ ڈیٹا ہی ہماری شناخت اور عزت ہے، اور اس عزت کو ہم سے چھیننے کی کوشش کو پہچاننا ہوگا۔
انہوں نے کانگریس اور بی آر ایس پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کے ساتھ ناانصافی کے باوجود یہ پارٹیاں خاموش کیوں ہیں۔ اقلیتوں کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے میں وہ خوف زدہ ہیں، ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ مردم شماری کے ذریعے تمام طبقات کو ان کی آبادی کے تناسب سے مواقع ملنے چاہئیں۔ اسی مقصد کے تحت تلنگانہ جاگروتی نے یہ راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کیا ہے اور مستقبل میں مزید جدوجہد کا اعلان کرتے ہوئے اجلاس کو کامیاب بنانے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔



