جنرل نیوز

خواتین اور تخلیق علم کو عصری مباحث سے پرے نئی افق کی تلاش۔مانو میں دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس سے پروفیسر دیپک کمار، پروفیسرعذرا عابدی، پروفیسر سیدعین الحسن ودیگر کاخطاب

حیدرآباد (پریس نوٹ) علم کو سافٹ علم اور ہارڈ علم میں منقسم نہیں کیاجاسکتا ہارڈاورسافٹ نالج کا امتیازٹھیک نہیں ہے کیونکہ علم نہ مونث ہے اور نہ ہی مذکر ہے بلکہ علم بس علم ہی ہے۔

 

یہ کسی ایک جنس کی میراث نہیں ۔ان خیالات کا اظہار ملک کے مشہوروقابل اعتماد مورخ پروفیسردیپک کمارنے موناآزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے شعبہ تعلیم نسواں اوردہلی کے سنٹرفاراسٹڈی اینڈ ریسرچ کے اشتراک سے منعقدہ دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس سے بطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس دوروزہ کانفرنس کا عنوان ” خواتین کی خودمختاری اور تخلیق علم : عصری مباحث میں سماجی ومذہبی تناظرکی بازیافت ” تھا۔انہوں نے اپنے خطاب میں تاریخ میں علم کے حوالے سے نمایاں نقوش چھوڑنے والی خواتین کی خدمات کواجاگرکیا

 

خاص کر آج سے ایک سوپچیس برس قبل بنگال میں تعلیمی خدمات شروع کرنے والی رقیہ سخاوت حسین کاذکرکرتے ہوئے رقیہ سخاوت کے فنی تخیل شمسی توانائی اورڈرون ٹیکنالوجی کے نظریہ کوموجودہ ترقی یافتہ دور کی بنیاد قراردیا۔۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے شعبہ سماجیات کی صدر پروفیسرعذرا عابدی نے کلیدی خطاب میں سماج میں پائے جانے والے خواتین کےتمام پہلوں پرگہرائی سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ سماج میں عورت کے علم کو وہ مقام نہیں دیاگیا جس کی وہ حقدار ہے۔انہوں تمام مذاہب کی کامیاب خواتین کابھی حوالہ دیااورکہاکہ ان خواتین کی کامیابی آج کے سماج کیےلیے مثالی ہے۔

 

سی ایس ار کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد رضوان نے یورو سینٹرک فریم ورک سے اگے جا کر اور حقوق نسواں اور روایتی بحثوں سے پرے ہو کر ایک ایسے علمی نظام کی تشکیل پہ زور دیا جو موجودہ فریم ورک کے اگے جا کر سوچنے کی قوت رکھتا ہو آپ نے سی ایس آر کے حوالے سے یہ بتایا کہ سی ایس ار اسی نظام علم کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے جو بامقصد، مجموعی اور مبنی بر اقدار ہو۔۔۔شیخ الجامعہ جناب پروفیسرسیدعین الحسن نےاپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ آج دنیاتیزی سےبدل رہی ہے مردوں کی اکثریت خواتین کی صرف ستائش نہیں بلکہ ان کی قابلیت کوتسلیم کررہی ہے

 

انہوں نے مردوں کی جانب سےتحریرکردہ دو مختصر کہانیوں کوپیش کرتے ہوئے کئی سنجیدہ سوالات کوغوروفکرکیے لیےچھوڑا۔صدرشعبہ تعلیم نسواں و کانفرنس کنوینر ڈاکٹر شبانہ کیسر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ڈاکٹر پروین قمرنے افتتاحی پروگرامیں نظامت کے فرائض انجام دیں جبکہ ڈاکٹرتبریزتاج نے اظہارتشکرکیا۔

 

کانفرنس میں ملک کے طول وعرض کے بشمول بیرون ملک کے اسکالرس نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button