شبِ برأت: توبہ، باطن کی بیداری اور روح کی فتح کا پیغام – مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا فکری و وجدانی خطاب
شبِ برأت: توبہ، باطن کی بیداری اور روح کی فتح کا پیغام
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا فکری و وجدانی خطاب
حیدرآباد، 30 جنوری (پریس ریلیز):
شبِ برأت وہ مقدس رات ہے جب آسمانِ رحمت کے در وا ہوتے ہیں، خطاؤں پر ندامت آنسو بن کر بہتی ہے، اور ٹوٹے ہوئے دل اپنے رب کی دہلیز پر لوٹ آنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔ یہ وہ ساعتیں ہیں جب انسان اپنی ظاہری کامیابیوں سے نظریں ہٹا کر باطن کے شکستہ آئینے میں جھانکتا ہے اور روح، اپنے اصل وطن کی یاد میں تڑپ اٹھتی ہے۔
اسی روح پرور فضا میں لسانیات کے صدر دفتر، بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12 پر منعقدہ عظیم الشان اجتماع سے خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے شبِ برأت کے موقع پر ایک نہایت فکر انگیز، وجد آفریں اور دلوں کو جھنجھوڑ دینے والا خصوصی خطاب فرمایا۔
آپ نے اپنے خطاب کا عنوان ’’سفرِ توبہ کے تین اسٹیشن‘‘ رکھا اور قرآنِ مجید کی اس پکار سے گفتگو کا آغاز فرمایا:
يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اﷲِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا
(اے ایمان والو! اللہ کی طرف خالص اور سچی توبہ کرو)
مولانا قادری نے اپنے مخصوص ادبی و صوفیانہ انداز میں حضرت ابراہیم بن ادھمؒ اور حضرت رابعہ بصریؒ کے روح پرور واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ اصل سفر قدموں کا نہیں، دل کا ہوتا ہے؛ اور جو مکان کے بجائے مکین کا طالب بن جائے، پھر کعبہ بھی اس کے استقبال کو نکل آتا ہے۔
خطاب کے دوران آپ نے قرآنِ مجید کی آیات کی روشنی میں انسان کے باطن میں جاری اس معرکہ کو نہایت مؤثر تمثیل کے ساتھ واضح کیا، جہاں روح اور نفس آمنے سامنے صف آراء ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ انسان کا دل ایک میدانِ جنگ ہے، جہاں ایک طرف جنودِ روحانیہ ہیں اور دوسری طرف جنودِ شیطانیہ۔ نفس دنیا کی رنگینیوں، شہوت، مال و جاہ اور خواہشات کے اسلحہ سے لیس ہے، جبکہ روح کا اصل اسلحہ تقویٰ، سجدہ، معرفت، محبتِ الٰہی اور اطاعتِ رب ہے—جو ہم نے خود اپنی غفلت سے کھو دیا ہے۔
مولانا قادری نے مولانا رومؒ کی مشہور تمثیل بانسری کے ذریعے روح کی جدائی، ہجر اور فراق کی دردناک داستان کو اس انداز میں بیان کیا کہ محفل پر ایک گہری خاموشی اور کیفیتِ گریہ طاری ہوگئی۔ آپ نے فرمایا کہ روح آج بھی اپنے اصل وطن کو یاد کرکے روتی ہے، مگر اس کی آواز وہی سمجھ سکتا ہے جس کا سینہ بھی فراقِ الٰہی سے زخمی ہو۔
خطاب کے اختتام پر مولانا نے سامعین کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ دنیا کی ظاہری فتوحات دراصل ایک بڑی شکست کا پیش خیمہ ہوسکتی ہیں، اگر اس کے بدلے آخرت اور قربِ الٰہی ہاتھ سے چلا جائے۔ نجات کی راہ صرف ایک ہے—تقویٰ، توبہ اور اللہ کی بندگی۔
شبِ برأت کے اس بابرکت موقع پر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا یہ خطاب حاضرین کے دلوں میں دیرپا اثر چھوڑ گیا اور سامعین اس عزم کے ساتھ لوٹے کہ وہ نفس کی غلامی سے نکل کر روح کی فتح اور رب کی رضا کے سفر کا آغاز کریں گے۔



