جنرل نیوز

نئے زمانے کے چیلنجز کے لئے طالبات اپنا کردار پیش کریں۔جامعہ ریاض الصالحات اعظم پورہ کے جلسہ تقسیم اسنادسے امیر حلقہ تلنگانہ جناب محمد اظہر الدین ودیگر کا خطاب

 

بتاریخ : 30جنوری،2026

صالح معاشرہ افراد سے ہی وجود میں آتا ہے، اسلامی معاشرہ عدل، رحمت اور اخوت پر قائم ہوتا ہے۔ دینی جامعات ان اصولوں کونسل در نسل منتقل کرتی ہیں، یہ جامعات باطل نظریات کے مقابلے میں حق کی آواز بلند کرتے ہیں ۔ انقلاب فکری، اخلاقی اور روحانی تبدیلی کا نام ہے ۔ جامعہ سے فارغ ہونے والی طالبات اپنے آپ کو علم و عمل کے میدان میں سرگرم عمل رکھیں، جامعہ میں پڑھنے والی طالبات اور دوسرے طالبات کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے، جامعہ کی طالبات اپنے اخلاق اور علم کے ذریعہ اپنی تربیت، اور اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں،

 

ان خیالات کا اظہار امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند،حلقہ تلنگانہ جناب محمد اظہر الدین صاحب نےآفیسرس میں فنکشن ہال میں منعقدہ جامعہ ریاض الصالحات کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کے دوران کیا۔ امیر حلقہ نے کہا کہ اس وقت خوشی ہوتی ہے جب مختلف اضلاع کے دوروں کے موقع پر جامعہ ریاض الصالحات کی طالبات اپنا داعیانہ کردارادا کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ، آپ نے کہا فارغ ہونے والی طالبات سے امت مسلمہ کو بڑی توقعات وابستہ ہیں، طالبات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان توقعات پر پورا اتریں۔ مولانا محمود خاں عمری ،سر پرست جامعہ نے اپنے تقریر میں طالبات کو محنت اور مشقت کے عادی بنے کی نصیحت کی ، آپ نے کہا کہ علم عمل کے بغیر ایسا ہے جیسے بغیر پھل کے درخت، آج معاشرہ کو آپ طالبات کی ضرورت ہے، آج گھر بکھر رہے ہیں

 

رشتہ ٹوٹ رہے ہیں ، احترام انسانیت ختم ہوتا جارہا ہے، طالبات کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ داعیانہ کردار ادا کریں، مولانا اعجاز محی الدین وسیم صاحب، نائب صدر جامعہ ہذا نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اللہ سبحانہ تعالی نے ہر انسان کے وجدان میں چار چیزیں رکھ دی ہیں ، معرفت الہی ، نیکی اور برائی کے درمیان تمیز کرنا، تمام چیزوں کا علم ، اور بیان کی صفت سے متصف کیا، اور تین اہم چیزیں عطا کی گئیں ، سماعت ، بصارت اور فیصلہ کرنے سونچنے سمجھنے کے لئے دل، انسان جب علم حاصل کرتا ہے تو علم سے دور استے نکلتے ہیں ایک راستہ جہالت کا دوسرا راستہ ہدایت کا ، انہوں نے طالبات سے کہا کہ اپنے علم کو جامد ہونے سے بچایں، علم حاصل ہوتا ہے دیکھ کر، استاذ سے سیکھ کر، اور غور فکر کے ذریعہ، جب طالبات غور و فگر چھوڑ دیتے ہیں تو پھر علم جامد ہونے لگتا ہے ۔

 

آج ضرورت ہے ایسی طالبات کی جو اپنے آپ کو اشتغال فی الدنیا سے بچا کر نئے زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے والی ہوں۔ جناب مرزا محمد اعظم علی بیگ صاحب سکر یٹری جامعہ ریاض الصالحات اعظم پورہ نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں جامعہ کے قیام اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔آپ نے کہا کہ یہ جامعہ جماعت اسلامی ہند ،عظیم ترحیدر آباد کی نگرانی میں پچھلے سترہ برس سے اپنے مقاصد کے حصول میں سرگرم عمل ہے، یہاں کی فارغ طالبات علم وعمل کے مختلف میدانوں میں ترقی حاصل کر رہی ہیں، اس موقعہ پرسابق صدر جامعہ مولانا احمدمحی الدین نظامیؒ کی کوششوں اور کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی ۔ طالبات نے تعلیمی مظاہرہ پیش کیا محترم حمیر انشاط صاحبہ پرنسپل جامعہ نے رپورٹ پیش کی ، اس موقعہ پر جماعت اسلامی ہندشعبہ خواتین کے ذمہ داران محترمہ آسیہ تسنیم،محترمہ خدیجہ مہوین ، ڈاکٹر اسماء زرزری ،محترمہعائشہ نسرین کے علاوہ جناب سید محمد عبد القدر ناصر،محمد مجیب الاعلی،انتظامی کمیٹی

 

کے ارکان، محترم علی احمد صابر تربیہ ٹریز کے علاوہ اولیاء طلبہ ومعززین شہر موجود تھے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button