آج کے دور میں بچوں کی تعلیم میں اساتذہ اور والدین کا کردار

تحریر :حاجی محمد فضل الحق صدیقی( معلمِ )
یاسر اردو ہائی اسکول، سیلو
ضلع پربھنی، مہاراشٹر-

+91-9970011948
آج کا زمانہ تیز رفتار ترقی، سائنسی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ اس بدلتے ہوئے دور میں بچوں کی تعلیم کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ ماضی میں تعلیم کا ذریعہ صرف استاد، کتاب اور درسگاہ ہوا کرتی تھی، لیکن آج تعلیم ڈیجیٹل دنیا سے جڑ گئی ہے۔ موجودہ دور میں بچوں کی تعلیم نہ صرف ان کے ذاتی مستقبل بلکہ قوم اور ملک کی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
تعلیم کی اہمیت
تعلیم انسان کو شعور، سمجھ بوجھ اور صحیح و غلط میں تمیز سکھاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بچہ آگے چل کر ایک ذمہ دار شہری بنتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی انسان اپنے حقوق و فرائض کو پہچانتا ہے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ آج کے دور میں تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور ناممکن ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم
موجودہ دور میں ٹیکنالوجی نے تعلیمی نظام کو یکسر بدل دیا ہے۔ آن لائن کلاسز، اسمارٹ کلاس رومز، ڈیجیٹل بورڈز، ای لرننگ ایپس اور انٹرنیٹ نے تعلیم کو آسان اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ بچے اب چند لمحوں میں دنیا بھر کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم، ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے بچوں میں توجہ کی کمی، وقت کا ضیاع اور اسکرین کی لت جیسے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں، جن سے بچاؤ ضروری ہے۔
تعلیم کا اصل مقصد
تعلیم انسان کی زندگی کا ایک نہایت اہم اور بنیادی ذریعہ ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف کتابی معلومات حاصل کرنا یا اچھی نوکری پانا نہیں بلکہ انسان کی مکمل شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کے علم کے ساتھ اس کے کردار کو بھی سنوارے۔تعلیم انسان کو شعور عطا کرتی ہے اور اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض سے بھی واقف ہوتا ہے۔ وہ معاشرے میں امن، عدل اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ اسی لیے تعلیم کو قوموں کی ترقی کی بنیاد کہا جاتا ہے۔
تعلیم کا ایک اہم مقصد اخلاقی تربیت ہے۔ سچائی، ایمانداری، احترام، برداشت، صبر اور خدمتِ خلق جیسی اقدار تعلیم کے ذریعے ہی مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر تعلیم اخلاق سے خالی ہو تو وہ انسان کو فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔تعلیم انسان میں خود اعتمادی، مثبت سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ یہ انسان کو خود مختار بناتی ہے اور اسے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
والدین کا کردار
بچوں کی تعلیم میں والدین کا کردار نہایت اہم اور بنیادی ہوتا ہے۔ بچے کی پہلی درسگاہ اس کا گھر اور پہلے استاد اس کے والدین ہوتے ہیں۔ اگر والدین تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر توجہ دیں تو بچے کی تعلیمی کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کریں اور ان میں سیکھنے کا شوق پیدا کریں۔ بچوں کو وقت پر اسکول بھیجنا، ہوم ورک میں رہنمائی کرنا اور ان کی تعلیمی کارکردگی پر نظر رکھنا والدین کے فرائض میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی کامیابی پر تعریف کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں بلکہ تربیت بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ والدین بچوں میں اخلاقی اقدار جیسے سچائی، ایمانداری، ادب، نظم و ضبط اور احترام پیدا کرتے ہیں۔ والدین کا عملی نمونہ بچوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔آج کے دور میں جب موبائل فون اور انٹرنیٹ عام ہو چکے ہیں، والدین کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ بچوں کے اسکرین ٹائم پر نظر رکھنا، انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف مائل کرنا اور منفی اثرات سے بچانا والدین کا اہم فرض ہے۔
اساتذہ کی ذمہ داریاں
اساتذہ معاشرے کے معمار اور قوم کے مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ کا کردار نہایت اہم، باوقار اور ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ کردار سازی بھی کرتا ہے۔اساتذہ کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ طلبہ کو معیاری اور درست علم فراہم کریں۔ انہیں چاہیے کہ مضمون کو آسان، دلچسپ اور مؤثر انداز میں پڑھائیں تاکہ طلبہ سمجھ کر سیکھیں، رٹنے کے بجائے غور و فکر کریں۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تدریسی طریقوں میں جدت لانا بھی اساتذہ کی اہم ذمہ داری ہے۔اساتذہ کی ایک بڑی ذمہ داری طلبہ کی اخلاقی تربیت ہے۔ سچائی، ایمانداری، نظم و ضبط، احترام اور برداشت جیسی اچھی عادتیں اساتذہ کے کردار اور رویّے سے طلبہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ استاد کا عمل طلبہ کے لیے سب سے مؤثر سبق ہوتا ہے۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ہر طالب علم کی صلاحیت کو پہچانیں اور اس کے مطابق رہنمائی کریں۔ کمزور طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ذہین طلبہ کی صحیح سمت میں رہنمائی استاد کی ذمہ داری ہے۔ طلبہ کے ساتھ شفقت، صبر اور انصاف کا برتاؤ تعلیمی ماحول کو خوشگوار بناتا ہے۔
آج کے دور میں اساتذہ پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ کو ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی تعلیم دیں اور انہیں منفی اثرات سے آگاہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین سے رابطہ رکھنا اور طلبہ کی مجموعی کارکردگی سے انہیں آگاہ کرنا بھی اہم ہے۔آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مخلص، باعلم اور بااخلاق استاد ہی ایک کامیاب نسل تیار کر سکتا ہے۔ تعلیم میں اساتذہ کی ذمہ داریاں جتنی بڑی ہیں، ان کا مقام بھی اتنا ہی بلند ہے
درپیش مسائل اور چیلنجز
آج کے تعلیمی نظام میں کئی مسائل بھی موجود ہیں، جیسے امتحانی دباؤ، مقابلے کی دوڑ، نصاب کا بوجھ اور اخلاقی تعلیم کی کمی۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی تعلیم پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے متوازن تعلیمی نظام کی اشد ضرورت ہے۔
نتیجہ
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کے دور میں بچوں کی تعلیم ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر جدید تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت، والدین کی رہنمائی اور اساتذہ کی محنت شامل ہو جائے تو بچے نہ صرف کامیاب بلکہ باکردار انسان بن سکتے ہیں۔ یہی بچے آگے چل کر ایک مضبوط، بااخلاق اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔



