جمہوریت، آئین اور سماجی ہم آہنگی کا گہرا ہوتا بحران

جاوید جمال الدین
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے حال میں ایک متنازعہ بیان دیاہے،جس نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی۔ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو "میاں مسلمان” کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے کہا کہ انہیں "جس طرح بھی ممکن ہو پریشان کریں”۔ مثال کے طور پر، انہوں نے رکشہ والے مسلمان سے 5 روپے کرایہ مانگنے پر 4 روپے دینے کی تجویز دی اور کہا کہ "وہ بہت سے بہت کیا کریں گے؟ پولیس میں شکایت؟ آسام پولیس دیکھ لے گی”۔ اس کے علاوہ، ٹھیکیداروں کو ہدایت دی کہ "میاں مسلمانوں” کو ملازم رکھنے کے بجائے مقامی آسامیوں کو نوکری دیں، ووٹر لسٹ سے ان کے نام کاٹنے کا اعلان کیا اور کہا کہ "میاں مسلمانوں کو بنگلہ دیش میں ووٹنگ کرنی چاہیے”۔ انہوں نے فارم نمبر 7 کے ذریعے ان ناموں کو چیلنج کرنے کی بھی ترغیب دی، جبکہ دعویٰ کیا کہ
(Special Intensive Revision )
سر دوران 4 سے 5 لاکھ "میاں مسلمانوں” کے نام کاٹے جائیں گے۔یہ بیان آسام کی متنازعہ تاریخ،جہاں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ حساس ہے،کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ہیمنت بسوا شرما نے اپنی صفائی میں کہا کہ "میاں مسلمان” سے مراد غیر قانونی بنگلہ دیشی مسلمان ہیں، اور "میں اور بی جے پی یہاں میاں مسلمان کو پریشان کرنے کے لیے ہی ہیں”۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ Bبی کے پی کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے جو مقامی آسامیوں کی ناراضگی کو مسلمانوں کے خلاف موڑ رہی ہے، لیکن اس کے سماجی، قانونی اور سیاسی نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
معروف سماجی کارکن، مصنف اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے فوری ردعمل میں دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی اور بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) 2023 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ شکایت میں دفعہ 196 (نقض امن اور سماج میں نفرت پھیلانا)، 197 (ملک کی سالمیت کے لیے نقصاندہ بیان)، 299 (مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے بدنیتی پر مبنی عمل)، 302 (مذہبی جذبات مجروح کرنے کی کوشش) اور 353 (عوامی سطح پر شرارت کا باعث بننے والی بیان بازی) کا حوالہ دیا گیا۔ یہ دفعہ قابل گرفت(cognizable) ہیں، یعنی ایف آئی آرفوری درج ہونی چاہیے۔ہرش مندر کی یہ اقدام ان کی سماجی جدوجہد کی تسلسل ہے، جو کمزور طبقات کے حقوق کی بات کرتے رہے ہیں۔ آسام پولیس جو بی جے پی حکومت کے ماتحت ہے،اس میں مزیدتاخیر کر سکتی ہے، جو عدالتی مداخلت کا دعویٰ جنم دے گی۔
بھارتیہ نیائے سنہیتا اور آئینی خلاف ورزی ہرش مندر کی شکایت بی این ایس کی ان دفعہ پر مبنی ہے جو آئی پی ایس کی جگہ لے چکی ہیں اور نفرت پھیلانے والے بیانات پر سخت سزائیں رکھتی ہیں۔ دفعہ 196 (IPC 153A کا متبادل) مذہبی یا لسانی بنیاد پر دشمنی پھیلانے پر 3 سے 5 سال قید اور جرمانہ مقرر کرتی ہے، خاص طور پر مذہبی جگہوں کے قریب۔ دفعہ 197 ملک کی سالمیت کے خلاف نقصاندہ بیانات (جیسے "بنگلہ دیش میں ووٹنگ”) کو ہدف بناتی ہے۔ دفعہ 299 (IPC 295A) مذہبی جذبات مجروح کرنے کی بدنیتی پر 2 سال قید یا جرمانہ دیتی ہے، جبکہ دفعہ 302 (IPC 298) زبانی طور پر جذبات ٹھیس پہنچانے کی سزا ہے۔ دفعہ 353 عوامی دھمکی یا شرارت (جیسے "پریشان کرو”) پر 3 سال تک قید رکھتی ہے۔یہ دفعہ براہ راست وزیر اعلیٰ کے بیان پر نافذ ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی حیثیت ریاستی اختیار دیتی ہے جو آئین کے آرٹیکل 163 کے تحت وفاداری کا حلف اٹھاتی ہے۔
سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے برابری)، 15 (مذہبی امتیاز سے منع) اور 21 (عزت نفس کا تحفظ) کی خلاف ورزی پر زور دیا۔ سپریم کورٹ کے این آر سی فیصلوں (2019-2024) میں مذہب کی بنیاد پر شہریت کی تفریق ممنوع ہے، جو بسوا سرما کے "میاں مسلمان” کو نشانہ بنانے کو آئینی طور پر غلط ثابت کرتا ہے۔ اگر عدالت نے suo motu) نوٹس لے تو شرانگیزیhate speech کیسز (جیسے 2020 کا امیت شاہ کیس) کی طرح سزا ممکن ہے، جو بی جے پی کے لیے قانونی چیلنج بنے گا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہیمنت بسوا سرما سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ "ملک کے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش” ہے، جو آئین اور جمہوریت کی بنیاد کے خلاف ہے۔ ماتھر نے خبردار کیا کہ "وزیر اعلیٰ کا بیان ریاستی حکم کا درجہ رکھتا ہے” اور ایسی بیان بازی "خوف، محرومی یا نفرت” کو فروغ دے کر آئینی اخلاقیات کو کمزور کرتی ہے۔ ان کی آواز عدالتی حلقوں میں وزن رکھتی ہے اور سیاسی دباؤ بڑھاتی ہے۔
مذکورہ بیان آسام کی 2026 اسمبلی انتخابات کو سامنے رکھ کر دیکھاجارہاہے۔ پہلے سے بی جے پی کی حکمت عملی ہے، جہاں پارٹی پچاس فیصداین ڈی اے کے ووٹ اور 103 سیٹوں کا ہدف رکھتی ہے۔ سرمیں 4-5 لاکھ "میاں” ووٹروں (بنگالی مسلمان، آسام کی 34فیصد آبادی) کے نام کاٹنا این آر سی – سی اے اےکی تسلسل ہے، جو مقامی آسامیوں (86 BJP سیٹیں 2021 میں) کو مطمئن کرتا ہے۔ بسوا سرما کا 50فیصدمقامی روزگار کا حکم "آتما نربھر آسام” مہم کا حصہ ہے، جو ہندوتوا اور مقامی شناخت ملاوٹ ہے۔اپوزیشن،ٹی ایم سی اورکانگریس—وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر حملہ کر رہی ہے۔ مہوا موہنترا نے کہاہےکہ "وزیر اعظم خاموش کیوں؟ شاید وہ خود اسی جرم کے مرتکب ہیں” اور عدالتوں کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ یہ مسلمان ووٹرز کو بنگالی بیلٹ میں اکٹھا کر سکتا ہے، جیسا 2021 میں ہوا۔ سیاسی طور پر، بی جے پی شمال مشرق میں تنہا ہو سکتی ہے (قبائلی اتحادی)، اور قومی سطح پر زہر افشانی کےالزامات بڑھیں گے۔ لمبے عرصے میں، فرقہ وارانہ تناؤ (2012 ککڑ جھیل فسادات جیسا) بڑھ سکتا ہے۔ مودی کی خاموشی مرکزی-ریاستی بی جے پی کی ہم آہنگی ظاہر کرتی ہے۔ہیمنت بسوا سرما نے اس بیان پر اپنادفاع کیاہے،لیکن یہ ان کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔بسوا سرما نے کہا کہ "میاں” لفظ غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے لیے ہے اور سپریم کورٹ کے این آر سی فیصلوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ بی جے پی کی مقامی ووٹ بینک مضبوط کرنے کی کوشش ہے، لیکن مذہبی بنیاد اسے خطرناک بناتی ہے۔اثرات اور خدشات: سماجی اور جمہوری سماجی طور پر، مسلمان مزدور محروم ہوں گے، معاشی غربت بڑھے گی۔ جمہوری اعتبار سے، یہ آرٹیکل 21 پر حملہ ہے۔ ہائی کورٹ،سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی چاہیے۔ سیاسی طور پر، اپوزیشن اسے استعمال کرے گی۔
زہر افشانی آسام کی تاریخ کو نظر انداز کرتی ہے۔ ہرش مندر اور گووند ماتھر کی آوازیں امید دیتی ہیں۔ وزیر اعظم کو مداخلت کرنی چاہیے، ورنہ جمہوریت کمزور ہو گی۔ آسام کو متحد رہنا چاہیے اورنفرت سے پاک کرناچاہئیے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741



