جنرل نیوز

نفرت کے بیوپاریوں پر لگام کسنا‌ ضروری ۔چیف منسٹر آسام کے بیان پرمولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ کا احتجاج 

حیدرآباد یکم فر وری (اردو لیکس) امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے آسام کے مسلمانوں سے متعلق آسام کے چیف منسٹر کی زہر افشانی اور غیر دستوری و غیر پارلیمانی اظہار خیال اور سماج کے دوطبقات کو اکسانے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں پر شدید دکھ، رنج و غم اور شدید الفاظ میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ

 

"مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا اور پھر یہ کہنا کہ میرے کہنے کا مطلب ایسا نہیں تھا ،،اب یہ ملک دشمن طاقتوں کا وطیرہ بن گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں نفرت کے چھوٹے سے لے کر بڑے تک سبھی بیو پاریوں کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی عادت سی ہوتی جا رہی ہے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک انگریزوں کے قبضے سے آزاد نہ ہوتا اگر علماء اور مسلم قائدین نے اس میں ہزاروں کی تعداد میں حصہ نہ لیا ہوتا- مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ صحافتی اطلاعات کے مطابق آسام کے چیف منسٹر نے مسلم دشمنی میں یہاں تک کہہ دیا کہ "میاؤں کو یہاں قانونی طور پر ووٹ کا حق نہیں ہونا چاہیۓ ،،انہوں نےعوام سے کہا کہ وہ میاں لوگوں کو ستائیں کیونکہ مشکل ہونے پر ہی وہ آسام کو چھوڑیں گے

 

مولانا جعفر باشاہ نے کہا کہ اتنا سب کچھ واضح انداز میں مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود جب کوئی اس طرح کی بے ہودہ گفتگو کرنے والوں کو توجہ دلاتا ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ،” میری بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے میرے کہنے کا مطلب ایسا نہیں تھااگر میرے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معافی چاہتا ہوں ،،مولانا جعفر پاشا نے کہا کہ پہلے تو من میں جو آیا یا وہ کہہ دیتے ہیں اور پھر بعد میں کہتے ہیں اگر ہمارے الفاظ سے کسی کی دل ازاری ہوئی ہے تو معافی چاہتے ہیں مسلم دشمن طاقتوں نے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے اوراس طرح کا معمول ہم ہمارے ملک میں کئی مقامات پر دیکھتے ا رہے ہیں

 

انہوں نے کہا کہ آسام کے چیف منسٹر نے خود کہا ہے کہ میں نے بڑے پیمانے پر اعتراضات داخل کرتے ہوئے فارم 7 کے ادخال کی ذمہ داری قبول کی اور یہ فارم ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ میں کسی نام کی مخالفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اسام کے مخالف دستور ہند چیف منسٹر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ میاں لوگ اگر رکشے کا کرایہ پانچ روپے مانگیں تو چار روپے دیں یہ بات تو انسانیت سے گری ہوئی ہے آسام کے چیف منسٹر میں انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور بہت ممکن ہے کہ بہت سارے لوگوں نے ان کی غیر اخلاقی اور غیر معیاری اور غیر دستوری باتوں کو بری طرح مسترد بھی کر دیا ہوگا ہندوستان تمام مذاہب کے لوگوں کا وطن ہے ہر کسی کو اپنے ملک سے پیار ہوتا ہے اور سب سے بڑا پیار انسانیت سے محبت ہے لیکن آسام کے چیف منسٹر نے غیر انسانی رویوں کی تمام حدود پار کر دیے ہیں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام انسانیت نواز تنظیم افراد اور سیکولر جماعتیں چیف منسٹر آسام کے غیر جمہوری و غیر پارلیمانی رویہ کے خلاف کھل کر اواز اٹھائیں زہریلی تقاریر سے نہ کسی قوم کا فائدہ ہو سکتا ہے نہ ملک کا فائدہ ہو سکتا ہے

 

اس سے صرف افرا تفری اور انتشاری کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اگر اس سلسلے میں صدائے احتجاج بلند کیا جاتا ہے تو پھر اس کی ساری ذمہ داری آسام کے چیف منسٹر پر ہوتی ہے مولانا جعفر پاشانی سپریم کورٹ سے بھی خواہش کی کہ وہ چیف منسٹر آسام کی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا از خود نوٹس لیے مولانا جعفر پاشاہ نےکہا کہ اس طرح سے اگر کوئی مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قانون کا سہارا لیں قانون کے مطابق کاروائی ہی بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ شکر ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ کی طرح صبر کا دامن تھامے رکھا ہے مسلمان صبر و استقامت کے ساتھ ہی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں

 

آخر میں مولانا جعفر پاشاہ نے امید ظاہر کی کے سابق میں جس طرح سپریم کورٹ نے انسانیت کے اقدار کو بچانے کے لیے جس طرح سے اقدامات کیے ہیں اسی طرح چیف منسٹر آسام سے متعلق بھی از خود نوٹس لی جائے گی

متعلقہ خبریں

Back to top button