حضورآباد کے بی آر ایس رکن اسمبلی کوشک ریڈی کے اشتعال انگیز بیان کی شدید مذمت محمد جمال شریف ایڈووکیٹ کا سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ

حضورآباد کے بی آر ایس رکن اسمبلی کوشک ریڈی کے اشتعال انگیز بیان کی شدید مذمت
محمد جمال شریف ایڈووکیٹ کا سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ
جنگاؤں، یکم فروری (پریس نوٹ):
تلنگانہ پردیش کانگریس مائنارٹی سیل کے نائب چیئرمین محمد جمال شریف ایڈووکیٹ نے حضورآباد کے بی آر ایس رکنِ اسمبلی پاڈی کوشک ریڈی کے اشتعال انگیز، غیر شائستہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے کی جانب سے گلی کے غنڈوں جیسی زبان استعمال کرنا نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہے بلکہ پورے سماج، بالخصوص اقلیتوں کے وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔
اتوار کے روز جنگاؤں کے گرنی گڈہ علاقے میں پاڈی کوشک ریڈی کا علامتی پتلا نذرِ آتش کرتے ہوئے محمد جمال شریف ایڈووکیٹ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ مذکورہ ایم ایل اے نے کریم نگر کے کمشنر آف پولیس غوث عالم آئی پی ایس کے خلاف نازیبا، توہین آمیز اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی، جس سے نہ صرف ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار کی عزتِ نفس مجروح ہوئی بلکہ ریاست کے مسلم سماج کے جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاڈی کوشک ریڈی نے دانستہ طور پر تلنگانہ کے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے نفرت انگیز بیانات دیئے، جو آئینِ ہند اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ محمد جمال شریف نے مزید کہا کہ کوشک ریڈی کے غیر مہذب اور اشتعال انگیز بیان سے بی آر ایس پارٹی کی ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی آر ایس اس بیان کی حامی نہ ہوتی تو پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ، ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ یا سینئر قائد ہریش راؤ اس بیان کی کھلے طور پر مذمت کرتے اور متعلقہ رکنِ اسمبلی کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لاتے، لیکن پارٹی قائدین کی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بی آر ایس کا اجتماعی نظریہ بھی ہے۔
محمد جمال شریف ایڈووکیٹ نے ریاستی حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ ایسے غیر ذمہ دار اور نفرت پھیلانے والے ایم ایل اے کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے اور عبرتناک سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی عوامی نمائندہ اس طرح کی غیر مہذب اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
اس احتجاجی مظاہرے میں محمد بابا، معین، انصار، عبدالمنان، ٹپو، غوث، میاں بھائی اور دیگر افراد موجود تھے۔



