کتاب “معمولاتِ شبِ برات” کی رسمِ اجرا — شبِ برات عبادت، توبہ اور دعا کی رات ہے مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

کتاب “معمولاتِ شبِ برات” کی رسمِ اجرا — شبِ برات عبادت، توبہ اور دعا کی رات ہے
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، یکم فروری (پریس ریلیز):
اسلامی تقویم میں بعض راتیں ایسی ہیں جو اپنی روحانی عظمت، ربانی انوار اور بے پایاں رحمتوں کے باعث اہلِ ایمان کے دلوں میں خاص مقام رکھتی ہیں۔ انہی مقدس راتوں میں شبِ برات بھی شامل ہے، جو اللہ تعالیٰ کی خاص تجلیات، مغفرت، بخشش اور قبولیتِ دعا کی رات کہلاتی ہے۔ یہ وہ مبارک ساعتیں ہیں جن میں بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرکے اپنے گناہوں سے توبہ کرتا اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کا عزم کرتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
خطیب و امام مسجد، تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد نے
اپنی تصنیف کردہ کتاب “معمولاتِ شبِ برات” کی رسمِ اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے فرمایا کہ 15 شعبان وہ بابرکت رات ہے جس میں عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا کرنا مستحب ہے، اور یہی سلفِ صالحین کا معمول رہا ہے۔ اس رات کو غفلت میں گزارنے کے بجائے خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا مؤمن کی شان ہے۔
مولانا نے شبِ برات کے خصوصی اعمال و وظائف پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ:
اس شب عبادت کی نیت سے غسل کرکے دو رکعت نفل تحیۃ الوضو ادا کی جائے۔
ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک مرتبہ اور سورۃ اخلاص تین مرتبہ پڑھی جائے۔
نمازِ مغرب کے بعد ہی عبادت میں مشغول ہوجانا چاہیے تاکہ نامۂ اعمال کی ابتداء نیکی سے ہو۔
غروبِ آفتاب سے قبل 40 مرتبہ “لا حول ولا قوۃ الا باللہ” پڑھنے کی ترغیب دی گئی۔
اس رات 2، 2 رکعت کرکے نفل نمازیں ادا کی جائیں، بالخصوص صلوٰۃ التسبیح کا اہتمام کیا جائے اور سورۃ یٰسین کی تلاوت کی جائے۔
دعا، توبہ اور استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ مضبوط کیا جائے، اپنے لیے، والدین کے لیے، مرحومین اور امتِ مسلمہ کے حق میں خصوصی دعائیں کی جائیں۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اس موقع پر نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شبِ برات کو کھیل کود، فضول مشاغل اور غیر ضروری سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے عبادت، ذکر اور دعا میں گزاریں، کیونکہ یہی راتیں انسان کی تقدیر سنوارنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شبِ برات کی حقیقی قدر پہچاننے، اس کی برکتوں سے فیضیاب ہونے اور اپنی زندگیوں کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



