نارائن پیٹ بلدیہ انتخابات: سیاسی میدان گرم، آزاد امیدواروں کی انٹری سے مقابلہ دلچسپ
نارائن پیٹ: یکم فروری (اردو لیکس) نارائن پیٹ میں بلدیہ انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی فضاء کافی گرم ہو چکی ہے۔
اسکرونٹی کے بعد الیکشن کمیشن نے فائنل لسٹ جاری کی ہے، جس میں کانگریس کے (20) بی جے پی کے (24) بی آر ایس کے (24) مجلس اتحاد المسلمین کے (2) کے علاوہ (20) آزاد امیدوار بلدیہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔۔
شہر کے مختلف محلّوں میں امیدواروں کی جانب سے پرجوش مہمات، کارنر میٹنگز، گھر گھر رابطہ اور عوامی مسائل پر گفتگو کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنی پوری طاقت جھونک رہے ہیں۔
ان انتخابات میں کانگریس پارٹی، بی جے پی، بی آر ایس اور ایم آئی ایم کے علاوہ آزاد امیدوار بھی میدان میں اتر آئے ہیں، وہیں تلنگانہ سے دور تلگو دیشم پارٹی نے بھی اپنے امیدوار کو کھڑا کیا ہے، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔ ہر جماعت ترقیاتی وعدوں، بنیادی سہولتوں اور مقامی مسائل کے حل کو اپنی مہم کا محور بنا رہی ہے۔
دوسری جانب کانگریس پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد اندرونی ناراضگی بھی کھل کر سامنے آئی ہے۔ کچھ سینئر قائدین اور سرگرم کارکنوں کو ٹکٹ نہ ملنے پر وہ باغی امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں اتر گئے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بغاوت کانگریس کے ووٹ بینک کو متاثر کر سکتی ہے۔ کیا آزاد امیدوار پارٹی کے امیدواروں کے ووٹ بینک کی کٹوتی کرسکتے ہیں،
مجموعی طور پر نارائن پیٹ بلدیہ انتخابات نہ صرف سیاسی جماعتوں کی طاقت کا امتحان ہیں بلکہ عوام کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔ آنے والے دنوں میں انتخابی مہم مزید تیز ہونے اور سیاسی جوش و خروش میں اضافے کی توقع ہے۔
نارائن پیٹ کی عوام کا فیصلہ کس پارٹی کو اکثریت میں تبدیل کرسکتا ہے اور کس پارٹی کو چیرمین کی کرسی تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ عوام کی سوچ پر ممکن ہے۔۔۔



