کانگریس حکومت کے سرمایہ کاری کے حصول کے دعوے جھوٹے اور من گھڑت

کانگریس حکومت کے سرمایہ کاری کے حصول کے دعوے جھوٹے اور من گھڑت
*متعدد کمپنیوں کی مستند ویب سائٹ اور سرگرمیوں کا واضح ریکارڈ نہیں*
*حیدرآباد میں آتشزدگی اور جرائم کے واقعات میں اضافہ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی خاموشی افسوسناک*
*تلگو گھرانے کی بہو نرملا سے تلنگانہ کو بجٹ میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا*
*بی آر ایس اپنی آمرانہ سوچ تبدیل نہ کرے گی تو کوئی اسے بچا نہیں سکے گا*
*فون ٹیپنگ معاملہ میں جلد اور شفاف تحقیقات ناگزیر۔*
*امیدوار کی اہلیت کے بجائے صرف لیبل پر ووٹ مانگنا آمرانہ اور شاہانہ سوچ کی علامت*
*کلواکنٹلہ کویتا کی پریس کانفرنس*
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ جاگروتی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت جس سرمایہ کاری کے حصول کے دعوے کر رہی ہے وہ تمام کے تمام جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کروڑ روپئے کے ایم او یوز جن کمپنیوں کے ساتھ کئے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے،
ان میں سے کئی کمپنیوں کی نہ تو کوئی مستند ویب سائٹ موجود ہے اور نہ ہی ان کی سرگرمیوں کا کوئی واضح ریکارڈ سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران کئی ایسی کمپنیوں کی حقیقت سامنے آئی ہے جن کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ان فیک ایم او یوز کے خلاف تلنگانہ کے نوجوانوں کو ہیش ٹیگ “کانگریس فیک ایم او یوز” کے نام سے ایک مضبوط تحریک شروع کرنی چاہئے تاکہ عوام کے سامنے سچ آ سکے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حیدرآباد شہر میں مسلسل آتشزدگی کے واقعات اور جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر وزیر اعلیٰ اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔
شہر میں رونما ہونے والے کئی آتشزدگی کے واقعات میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، اس کے باوجود وزیر اعلیٰ کی جانب سے نہ تعزیت پیش کی گئی اور نہ ہی سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کلواکنٹلہ کویتا نے حیدرآباد میں خواتین کے تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کیا اورکہا کہ گزشتہ ایک سال میں 69 قتل اور 176 اقدام قتل کے واقعات پیش آئے ہیں، ساتھ ہی گن کلچر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسائز کانسٹیبل سومیا پر حملہ اور دیگر سنگین واقعات پر وزیر اعلیٰ کی خاموشی قابل افسوس ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایکسائز اور فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے عملے کو ہتھیار فراہم کئے جائیں۔
صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ کے ٹی آر کی جانب سے یہ کہنا کہ امیدوار اچھا ہو یا برا، صرف کے سی آر کو دیکھ کر ووٹ دیا جائے، دراصل آمرانہ اور شاہانہ طرز فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ کلواکنٹلہ کویتا نے واضح کیا کہ ووٹ ذات، مذہب، رشتہ داری یا پیسے کی بنیاد پر نہیں بلکہ امیدوار کی اہلیت، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبہ کو دیکھ کر دیا جانا چاہئے
۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسے امیدواروں کو منتخب کریں جو مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ وہ جو صرف پیسے مانگنے کے عادی ہوں۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے بعض مقامات پر آل انڈیا فارورڈ بلاک پارٹی کے امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں اور یہ تمام اچھے اور قابل امیدوار ہیں،
اس لئے عوام انہیں ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔ انہوں نے مرکزی بجٹ پر شدید تنقید کی اورکہا کہ بی جے پی نے ایک بار پھر تلنگانہ کے عوام کو بری طرح دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تلگو گھرانے کی بہو ہیں، مگر تلنگانہ کو اس بجٹ میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کے لئے 53 لاکھ کروڑ روپئے کے کل بجٹ میں ایک فیصد بھی مختص نہیں کیا گیا
، جو سراسر ناانصافی ہے۔ تقسیم ریاست کے وعدے بارہ برس گزرنے کے باوجود آج بھی التوا کا شکار ہیں۔ ریاستی حکومت نے 47 نکات پر مرکز سے مطالبات کئے، مگر ایک بھی منظور نہیں کیا گیا۔ اربن ڈیولپمنٹ، ریجنل رنگ روڈ، میٹرو مرحلہ دوم، آئی آئی ایم، نوودیہ، کیندریہ ودیالیہ، بیارم اسٹیل فیکٹری اور کوچ فیکٹری جیسے وعدوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا
۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کشن ریڈی یہ کہہ کر ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میٹرو مرحلہ اول کی رپورٹ نہ دینے کی وجہ سے فنڈز نہیں دیئے گئے، گویا تلنگانہ کے عوام کو کچھ معلوم ہی نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب تک بجٹ میں رقم مختص ہی نہ ہو تو رپورٹ دینے کا جواز کہاں بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی تیس مرتبہ دہلی جا کر وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں، مگر اس کے باوجود تلنگانہ کے لئے تیس ہزار کروڑ روپئے بھی نہیں لا سکے، جو وفاقی نظام کے بالکل منافی ہے
۔انہوں نے سرمایہ کاری کے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ میڈیا ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے ایک لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس کمپنی کی کل مارکیٹ ویلیو ہی تیس ہزار کروڑ کے قریب ہے۔
اسی طرح دیگر کئی کمپنیوں کے بارے میں بھی کہا گیا۔ ان کا کوئی وجود ہی نہیں یا وہ محض ایم او یوز کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی ان تمام کمپنیوں کی تفصیلات سوشیل میڈیا پر جاری کرے گی تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر واقعی سرمایہ کاری آئی ہے تو حکومت واضح کرے کہ کتنی سرمایہ کاری آئی، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا اور مستقبل میں کتنی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگروتی آئندہ بھی مختلف عوامی مسائل پر حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی اور 20 فروری کے بعد جنم باٹا پروگرام کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔آخر میں انہوں نے فون ٹیپنگ کیس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں شفاف اور جلد تحقیقات ہونی چاہئے۔
.
انہوں نے کہا کہ جب انہیں ای ڈی اور سی بی آئی کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ پیش ہوئیں، اسی طرح قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے اس معاملہ میں میچ فکسنگ کی ہے
، اسی لئے تحقیقات کو طول دیا جا رہا ہے۔ اگر کانگریس کی واقعی نیت صاف ہوتی تو دو برسوں سے یہ کیس آگے کیوں نہیں بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی آر ایس اپنی شاہانہ اور آمرانہ سوچ نہیں بدلے گی تو کوئی بھی اسے بچا نہیں سکے گا۔



