شبِ برات اور سیاسی گفتگو سے اجتناب


از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
توپران ضلع میدک تلنگانہ
اسلام نے بعض اوقات، ایام اور لیالی کو غیر معمولی فضیلت عطا فرمائی ہے تاکہ بندۂ مومن ان اوقات میں دنیا کے ہنگاموں سے کٹ کر اپنے خالقِ حقیقی سے رشتہ مضبوط کرے۔ انہی مبارک اوقات میں شعبان المعظم کی پندرہویں شب، جسے شبِ برات کہا جاتا ہے، نہایت عظیم المرتبت اور جلیل القدر رات ہے۔ یہ شب درحقیقت مغفرت، رحمت، تقسیمِ فیصلات، رجوع الی اللہ اور باطنی انقلاب کی رات ہے، نہ کہ دنیاوی مناقشات، سیاسی مباحث اور فکری انتشار کی۔نبی کریم ﷺ نے اس رات کی عظمت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:«يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ»
ترجمہ: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات اپنی مخلوق کی طرف خصوصی نظرِ رحمت فرماتا ہے اور تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔ (حوالہ: صحیح ابنِ حبان، حدیث: 5665؛ شعب الایمان، بیہقی)یہ حدیث اس حقیقت کو منکشف کرتی ہے کہ شبِ برات کا بنیادی تقاضا دلوں کی صفائی اور باہمی کدورتوں سے اجتناب ہے، جبکہ سیاسی گفتگو عموماً کینہ، تعصب اور اشتعال کو جنم دیتی ہے۔عبادت کا جامع اور ہمہ گیر تصور اسلام کا امتیازی وصف ہے۔ عبادت محض ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ دل کی کیفیت، زبان کی طہارت اور فکر کی یکسوئی بھی اس میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔ (حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 6136؛ صحیح مسلم، حدیث: 47)
شبِ برات میں سیاسی گفتگو نہ خیر کے زمرے میں آتی ہے اور نہ خاموشی کے، بلکہ اکثر اوقات یہ لایعنی، اشتعال انگیز اور دل آزاری کا سبب بنتی ہے، جو اس حدیث کے منافی ہے۔سیاسی گفتگو بذاتِ خود ہر وقت ممنوع نہیں، مگر اس کا ہر موقع پر استعمال شریعت کی حکمت کے خلاف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فتنوں کے زمانے میں زبان کو قابو میں رکھنے کی خصوصی تلقین فرمائی:«سَتَكُونُ فِتَنٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ»
ترجمہ: عنقریب فتنے آئیں گے، ان میں بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ (حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 3601؛ صحیح مسلم، حدیث: 2886)
اکابرِ امت نے ان نصوص کی روشنی میں یہی منہج اختیار کیا کہ فضیلت والی راتوں کو فتنہ انگیز امور سے مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے۔ امام غزالیؒ احیاء العلوم علوم میں لکھتے ہیں کہ جس مجلس میں دنیا کی کشمکش غالب آ جائے، وہاں قلبی نورانیت سلب ہو جاتی ہے۔شبِ برات اتحادِ امت، درگزر اور عفو و صفح کی رات ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
«تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ»
ترجمہ: پیر اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ہر اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے جو شرک نہ کرتا ہو، سوائے اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو۔ (حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2565)جب عام دنوں میں کینہ مغفرت سے مانع ہے تو شبِ برات جیسی عظیم رات میں سیاسی نفرت کس قدر محرومی کا سبب بن سکتی ہے، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ حجۃ اللہ البالغہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ عبادت کے مخصوص اوقات میں دلوں کا اجتماع اور فکری سکون برقرار رکھنا مقاصدِ شریعت میں سے ہے۔ سیاسی گفتگو چونکہ انتشارِ قلب اور تفریقِ جماعت کا ذریعہ ہے، اس لیے اس رات اس سے اجتناب عین حکمت ہے۔ تربیت کے باب میں بھی یہ پہلو نہایت اہم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ (حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 893؛ صحیح مسلم، حدیث: 1829)اگر بزرگ شبِ برات جیسی رات میں سیاسی بحثوں میں مشغول ہوں گے تو نوجوانوں کے دلوں سے ان راتوں کی حرمت ختم ہو جائے گی۔
شب برات اور زبان کا غلط استعمال
رسولِ اکرم ﷺ نے فتنوں کے زمانے میں مومن کو جس چیز کی سب سے زیادہ تلقین فرمائی، وہ ضبطِ لسان ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
«إِذَا كَانَتِ الْفِتَنُ فَالْزَمُوا بُيُوتَكُمْ وَأَمْسِكُوا أَلْسِنَتَكُمْ»
ترجمہ: جب فتنے ظاہر ہوں تو اپنے گھروں کو لازم پکڑ لو اور اپنی زبانوں کو روک لو۔ (حوالہ: مسند احمد، حدیث: 19612)
یہ حدیث اس امر پر صریح دلالت کرتی ہے کہ فتنہ انگیز ماحول میں غیر ضروری گفتگو سے اجتناب عینِ تقویٰ ہے۔ شبِ برات چونکہ نزولِ رحمت اور دفعِ بلا کی رات ہے، اس لیے اس میں سیاسی گفتگو جو فتنوں کو ہوا دیتی ہے، سخت ناپسندیدہ قرار پاتی ہے۔
سیاسی گفتگو اور غیبت و بہتان کا خطرہ
سیاسی مجالس اور مباحث میں غیبت، بہتان، الزام تراشی اور بدگمانی عام ہو جاتی ہے، جبکہ یہ تمام امور شریعت میں کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا»
ترجمہ: تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ (حوالہ: سورۃ الحجرات: 12)
نبی کریم ﷺ نے غیبت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ»
ترجمہ: تمہارا اپنے بھائی کا وہ ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے، غیبت ہے۔ (حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2589)
سیاسی گفتگو میں مخالفین کا ذکر عموماً اسی دائرے میں آتا ہے، اس لیے شبِ برات جیسی مقدس رات میں اس سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ غیبت مغفرت سے محرومی کا سبب بنتی ہے۔
شبِ برات اور قبولیتِ دعا کا باہمی تعلق
یہ رات دعاؤں کی قبولیت کی بھی رات ہے، لیکن دل کی سختی اور کینہ دعا کی راہ میں حجاب بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تُرْفَعُ أَعْمَالُ مُتَهَاجِرَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا»
ترجمہ: دو آپس میں ناراض لوگوں کے اعمال اس وقت تک اوپر نہیں اٹھائے جاتے جب تک وہ صلح نہ کر لیں۔ (حوالہ: سنن ابی داود، حدیث: 4915)
جب عام دنوں میں یہ کیفیت ہے تو شبِ برات میں سیاسی اختلافات کو زندہ رکھنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ اہلِ بصیرت بخوبی لگا سکتے ہیں۔
سلف صالحین کا طرزِ عمل
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:
«مَا أَنْتُمْ بِأَكْثَرَ صَلَاةً مِنْ قَوْمٍ كَانُوا أَقَلَّ مِنْكُمْ كَلَامًا»
ترجمہ: تم ان لوگوں سے زیادہ نماز پڑھنے والے نہیں ہو، مگر وہ تم سے کہیں کم بولنے والے تھے۔ (حوالہ: الزہد، امام احمد)
یہی وہ منہج تھا جس پر سلف صالحین شبِ برات اور دیگر مبارک راتوں میں عمل پیرا رہتے تھے۔ وہ زبان کو دنیاوی، سیاسی اور اختلافی گفتگو سے روک کر ذکر، فکر اور گریہ و زاری میں مشغول رہتے تھے۔
خلاصہ کلام
ان تمام نصوصِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ اور آثارِ سلف کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ شبِ برات کو سیاسی گفتگو، اختلافی مباحث اور فتنہ انگیز کلام سے محفوظ رکھنا شریعت کا تقاضا، عقل کا فیصلہ اور حکمتِ دین کا خلاصہ ہے۔ یہ رات مغفرت، عفو و درگزر، اصلاحِ نفس اور قربِ الٰہی کے لیے ہے۔ جو شخص اس رات اپنی زبان کو روکے، دل کو صاف کرے اور فکر کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھے، وہی اس عظیم رات کی حقیقی برکات سے بہرہ ور ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ برات کے آداب کی مکمل رعایت کرنے اور اس کی نورانیت سے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔



