جنرل نیوز

بلدیاتی انتخابات فرقہ پرستی کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہیں: بیرسٹر اسدالدین اویسی عادل آباد میں مجلس اتحادالمسلمین کا عظیم الشان انتخابی اجلاس، 11 فروری کو پتنگ کے نشان پر ووٹ ڈالنے کی اپیل

عادل آباد سے خضر احمد یافعی اور عمیم شریف کی رپورٹ

عادل آباد۔4/فروری(اردو لیکس)بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر مجلس اتحادالمسلمین کے زیرِ اہتمام عادل آباد کے ڈائیڈ کالج گراؤنڈ میں منعقدہ عظیم الشان انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس اتحادالمسلمین کے صدر و رکنِ پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے عوام سے پُرزور اپیل کی کہ وہ 11 فروری کو اپنے حقِ رائے دہی کا بھرپور استعمال کریں اور مجلس اتحادالمسلمین کے تمام امیدواروں کو کامیاب بنائیں

 

۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بلدیاتی انتخابات محض کونسلرس کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ فرقہ پرستی، نفرت، ناانصافی اور عوام دشمن سیاست کے خلاف ایک عوامی فیصلہ ہیں۔اپنے خطاب کے آغاز میں بیرسٹر اویسی نے اجلاس میں شریک ہزاروں افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عادل آباد کے باشعور عوام نے ہر دور میں جمہوریت، انصاف اور بھائی چارے کی شاندار مثال قائم کی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مجلس اتحادالمسلمین نے عادل آباد بلدیہ انتخابات میں 19 امیدوار میدان میں اتارے ہیں جو مختلف وارڈس میں عوامی مسائل کے حل اور مظلوم و محروم طبقات کی موثر نمائندگی کے لئے کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر عوام ووٹ ڈالنے سے گریز کریں گے اور یہ سوچیں گے کہ ایک ووٹ سے کیا فرق پڑے گا تو آنے والی نسلیں انہیں معاف نہیں کریں گی، کیونکہ جمہوریت میں خاموشی ظلم کی تائید کے مترادف ہوتی ہے۔ انہوں نے عوام کو تاکید کی کہ وہ اپنے ووٹ کو ضائع نہ کریں اور متحد ہوکر مجلس کے انتخابی نشان پتنگ پر مہر لگائیں، تاکہ فرقہ پرستی، بلڈوزر کی سیاست اور کمزوروں کو کچلنے والی سوچ کو شکست دی جا سکے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مقامی بی جے پی رکنِ اسمبلی کی جانب سے فٹ پاتھ تاجروں کو بے دخل کئے جانے کے اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ انہوں نے فٹ پاتھ تاجروں، ڈھیلا بنڈی لگانے والوں اور مزدور طبقہ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجلس کے منتخب نمائندے ان طبقات کو ان کا قانونی حق دلائیں گے اور ان کے روزگار کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنائیں گے۔

 

انہوں نے قریشی برادری کے دیرینہ مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سلاٹر ہاؤس کا مسئلہ برسوں سے حل طلب ہے، جسے جدید سہولتوں کے ساتھ شہر کے قریب مناسب مقام پر قائم کرنے کیلئے مجلس سنجیدہ اور عملی کوشش کرے گی، تاکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے ریلوے انڈر برج، ریلوے گیٹ، حج ہاؤز، شادی خانوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ عادل آباد کے عوام کے روزمرہ مسائل ہیں، جنہیں سابقہ حکمرانوں نے برسراقتدار رہنے کے باوجود مسلسل نظرانداز کیا۔ مجلس اتحادالمسلمین پارلیمنٹ، اسمبلی اور بلدیاتی سطح پر ان تمام مسائل کو پوری قوت کے ساتھ اٹھائے گی

 

۔ اس موقع پر بیرسٹر اویسی نے سابق وزیر اور سابق بلدیہ چیئرمین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود عادل آباد کی ترقی کے لئے کیا کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں ملک میں روزگار، اعتماد اور ترقی کے بجائے خوف، نفرت اور بے یقینی کو فروغ دیا گیا ہے۔ نوجوان روزگار اور عزت مانگ رہے ہیں، مگر انہیں مذہب اور تاریخ کے نام پر گمراہ کیا جا رہا ہے، جو ملک کے مستقبل کیلئے خطرناک رجحان ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ آئینِ ہند ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے، مگر بعض ریاستوں میں لوگوں کو ان کی شناخت، زبان اور مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو آئین اور جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔ آخر میں انہوں نے ہندو، مسلم، دلت، آدیواسی اور تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اتحاد، انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے مجلس اتحادالمسلمین کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 فروری کو پولنگ بوتھ پر پتنگ کے انتخابی نشان پر مہر لگانا ہی عادل آباد کے عوام کی اصل آواز اور اصل طاقت ہوگی۔

 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی حلقہ یاقوت پورہ و ضلع انچارج جعفر حسین معراج نے کہا کہ عادل آباد میں مجلس اتحادالمسلمین ہی واحد سیاسی جماعت ہے جو فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کی نااہلی اور غلط پالیسیوں کے باعث ہی فرقہ پرست عناصر کو مضبوطی ملی ہے، مگر مجلس اتحادالمسلمین عوامی طاقت کے بل پر انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کو متحد رکھیں اور مجلس امیدواروں کو کامیاب بنا کر شہر میں مجلس کا چیئرمین منتخب کریں۔ کارپوریٹر مرزا سلیم بیگ اور ٹاؤن صدر نذیر احمد نے بھی خطاب کرتے ہوئے مجلس کی بلدیاتی کارکردگی اور عوامی خدمات پر روشنی ڈالی۔

 

اجلاس میں کارپوریٹر سلیم بیگ، شفاعت صاحب، واسق الدین، سید عنایت چشتی، نعمت اللہ، محمد روحیت، بابو شاہ، ڈاکٹر سلیم، عدنان علی، عتیق آٹو، محمد توفیق، کشور، ضمیر، محمد شکیل، محمد سبحان، محمد ذکریا، ناگ سین کے علاوہ دیگر مجلسی قائدین موجود تھے۔

 

اس عظیم الشان اجلاس میں ہزاروں کی تعداد میں مجلسی کارکنان، حامیان اور شہریوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی نظامت مجلس کے حیدرآباد کارپوریٹر مرزا سلیم بیگ نے انجام دی۔ اجلاس میں سابق وزیر کی مبینہ نااہلی کو اجاگر کرتے ہوئے آنے والے بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحادالمسلمین کی طاقت میں مزید اضافہ کا دعویٰ کیا گیا۔ اجلاس مکمل طور پر کامیاب رہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button