کے کویتا کی مقتولہ وکیل سواپنا کے افراد خاندان سے ملاقات

کے کویتا کی مقتولہ وکیل سواپنا کے افراد خاندان سے ملاقات
پولیس بروقت کارروائی کرتی تو یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش نہ آتا
معاملہ کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کی جائے۔ ملزمین کو جلد سزا دلانے پر زور
گروکلس کی حالت بھی ابتر۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اپنی تمام وزارتوں پر توجہ دیں
صدرتلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے معین آباد منڈل کے کیتھی ریڈی پلی گاؤں میں مقتولہ وکیل سواپنا کے افراد خاندان سے ملاقات کی، انہیں پرسہ دیا اور حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ معین آباد کے کیتھی ریڈی پلی گاؤں میں وکیل سواپنا کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ سواپنا جو پیشہ سے وکیل تھیں جلد ہی شادی کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں
مگر اس سے پہلے ہی اپنے ہی خاندان کے افراد کے ہاتھوں قتل ہو جانا ناقابل برداشت سانحہ ہے۔ کویتا نے کہا کہ سواپنا نے متعدد مرتبہ شکایات درج کروائیں، اس کے باوجود پولیس نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اگر شکایت کے وقت ہی پولیس نے کارروائی کی ہوتی تو یہ دلخراش واقعہ پیش نہ آتا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ بار بار شکایت کے باوجود پولیس نے کارروائی کیوں نہیں کی، اس کی وضاحت عوام کے سامنے کی جانی چاہئے
۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سے محض چند قدم کے فاصلہ پر اس نوعیت کا واقعہ پیش آنا اس بات کی علامت ہے کہ پولیس کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ حیدرآباد میں بھی خواتین کے خلاف جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور بندوق دکھا کر رقم لوٹنے جیسے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ اس صورتحال پر حکومت کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے اور پولیس کو سخت ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔ کویتا نے کہا کہ مقتولہ سواپنا ایک وکیل تھیں۔ وکلاء کے تحفظ کے لئے ایڈوکیٹ پروٹیکشن ایکٹ میں ترمیم کی کوشش کی گئی، مگر گزشتہ دو برسوں سے یہ بل التوا کا شکار ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ اسمبلی اجلاس میں اس بل کو منظور کیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی فوری ردعمل ظاہر کریں، معاملہ کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کی جائے اور تین ماہ کے اندر ملزمین کو سزا دلانے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ چار ملزمین میں سے ایک کے خلاف پہلے ہی قتل کی کوشش کا مقدمہ درج ہے اور اگر مجرموں کو بروقت سزا نہ ملی تو جرائم پیشہ عناصر میں خوف باقی نہیں رہے گا۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ سواپنا کے خاندان میں دو بزرگ افراد موجود ہیں اور تلنگانہ جاگروتی ان کے خاندان کے ساتھ کھڑی رہے گی
۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال حیدرآباد میں آتشزدگی کے واقعات میں 22 افراد جاں بحق ہوئے، مگر وزیر اعلیٰ نے ایک بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات نہیں کی چونکہ میونسپل، داخلہ اور تعلیم سمیت کئی محکمہ وزیراعلیٰ کے پاس ہیں، اس کے باوجود ان پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی ہے،
جس کے نتیجہ میں حیدرآباد میں جرائم میں شدید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گروکل اسکولوں میں بھی طلبہ غیر محفوظ ہو چکے ہیں اور سانپ کے کاٹنے سے طلبہ کی اموات ہو رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ اپنی وزارتوں پر سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لئے موثر اقدامات کریں۔



