مہاراشٹر میں ’’آئرن لیڈی 2.0‘‘ کی شروعات۔این سی پی لیڈر سلیم سارنگ نے سنیتراپوار کو دورِحاضر کی”خاتونِ آہن”قراردیا

ممبئی: مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے اچانک اور افسوسناک انتقال کے بعد ان کی اہلیہ سنیترہ وہنی کی جانب سے نائب وزیراعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے کو ریاستی سیاست میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ریاستی نائب صدر سلیم سارنگ نے اس پیش رفت کو ’’آئرن لیڈی 2.0‘‘ کی شروعات سے تعبیر دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مشکل حالات میں قیادت کی سنجیدہ مثال ہے۔
این سی پی لیڈر سلیم سارنگ نے کہاکہ اجیت پوار کے انتقال کے بعد سنیترہ کا نائب وزیراعلیٰ بننا قیادت کا کڑا امتحان ہے۔سلیم سارنگ نے جاری ایک تفصیلی پریس بیان میں کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حقیقی قیادت کا امتحان ذاتی صدمے، سماجی توقعات اور عوامی ذمہ داریوں کے درمیان لیے گئے فیصلوں میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سنیترہ وہنی نے ذاتی غم کے باوجود نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ قبول کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ جذبات کے بجائے فرض اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنیترہ وہنی سیاست میں نئی نہیں ہیں۔ انہیں اپنے خاندانی پس منظر سے سیاسی تربیت حاصل ہوئی ہے اور برسوں تک اجیت پوار کے قریبی رفیقِ حیات کی حیثیت سے انہوں نے اقتدار، انتظامیہ، سیاسی بحرانوں کے نظم و نسق اور عوامی رابطے کو قریب سے دیکھا ہے۔ پارٹی امور، حکومتی فیصلوں اور ان کے اثرات سے وہ بخوبی واقف رہی ہیں، جس کا فائدہ انہیں اس نئی ذمہ داری کی انجام دہی میں ملے گا۔
پریس بیان میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے سلیّم سارنگ نے کہا کہ جس طرح اندرا گاندھی کو اپنے ابتدائی دور میں شدید تنقید اور شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ان کے فیصلوں نے ناقدین کو خاموش کر دیا، اسی طرح سنیترہ وہنی کے بارے میں کی جانے والی موجودہ تنقید بھی وقتی ہے اور آنے والے وقت میں ان کی کارکردگی ہی اس کا جواب دے گی۔
سلیّم سارنگ کے مطابق نائب وزیراعلیٰ کا منصب محض ایک سیاسی عہدہ نہیں بلکہ ریاستی انتظامیہ میں تسلسل، حکومتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کا مرکز ہوتا ہے۔ اجیت پوار کی سیاسی و انتظامی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے پارٹی کے اندر توازن برقرار رکھنا، بیوروکریسی سے موثر رابطہ قائم رکھنا اور عوام کے اعتماد کو مستحکم کرنا سنیترہ وہنی کے سامنے بڑے چیلنج ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں خواتین کی قیادت کی ایک مضبوط روایت رہی ہے اور سنیترہ وہنی کا اس روایت میں شامل ہونا اس بات کا پیغام ہے کہ مشکل حالات میں بھی عوامی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق سنیترہ وہنی ریاست میں سیاسی استحکام اور انتظامی تسلسل فراہم کرنے کی کوشش کریں گی۔
سلیم سارنگ نے کہا کہ ’’آئرن لیڈی‘‘ محض ایک لقب نہیں بلکہ فیصلہ کن صلاحیت، حوصلے اور دور اندیش قیادت کی علامت ہے۔ ان کے مطابق سنیترہ وہنی کے سامنے راستہ آسان نہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قیادت انہی کٹھن راستوں سے گزر کر تشکیل پاتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سنیترہ وہنی پارٹی اور حکومت دونوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیں گی۔



