تلنگانہ

  جہد کاروں کو اراضی کی عدم فراہمی کیخلاف 12 فروری کو آتما گورو سبھا: کے کویتا

بی سی تحفظات کیخلاف عرضی داخل کرنے والے مادھو ریڈی کو بی آر ایس ٹکٹ کی فراہمی تشویشناک

*بی آر ایس اور کانگریس نے عوام کو مایوس کیا۔ بی جے پی کی بات کرنا ہی فضول ہے*

جہد کاروں کو اراضی کی عدم فراہمی کیخلاف 12 فروری کو آتما گورو سبھا: کے کویتا

 

 

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ بی سی ریزرویشن کو روکنے کے لئے عدالت میں عرضی داخل کرنے والے بی مادھو ریڈی کو بی آر ایس کی جانب سے میونسپل انتخابات میں ٹکٹ کی فراہمی انتہائی تشویشناک اور قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، روزگار اور سیاست میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن دلانے کے لئے تلنگانہ جاگروتی سمیت تمام بی سی تنظیموں نے طویل جدوجہد کی۔ حکومت پر دباؤ ڈالا اور آخر کار 42 فیصد ریزرویشن کا بل سامنے آیا، مگر اس کے خلاف مادھو ریڈی اور ایک اور شخص نے عدالت میں عرضی داخل کی۔

کلواکنٹلہ کویتا نے سوال کیا کہ ایسے شخص کو بی آر ایس نے ٹکٹ کیوں دیا؟ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ بی سی ریزرویشن کے خلاف یہ عرضی بی آر ایس کی ایما پر دائر کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ مادھو ریڈی، ہریش راؤ کے قریبی ہیں اور یہ عرضی ان کے شخصی وکیل کے ذریعہ دائر کروائی گئی تھی۔ اس وقت یہ سمجھا گیا کہ اس کے پیچھے صرف ہریش راؤ ہیں، مگر اب بی آر ایس کی جانب سے ٹکٹ دیئے جانے سے واضح ہو گیا ہے کہ اس کے پیچھے پوری پارٹی کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 56 فیصد آبادی پر مشتمل پسماندہ طبقات کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے شخص کو ٹکٹ دے کر بی آر ایس نے بی سی مخالف ہونے پر اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔ بی آر ایس پسماندہ طبقات کے معاملہ میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی، پارٹی سطح پر کبھی باقاعدہ میٹنگ تک نہیں کی گئی، صرف بی سی عوامی نمائندہ فورم کے نام پر رسمی اجلاس منعقدکئے گئے۔ ذات پات پر مبنی مردم شماری کے معاملہ میں بھی پہلے کنفیوژن پیدا کیا گیا اور بعد میں مطالبہ کیا گیا جبکہ بی سی ریزرویشن کے مسئلہ پر جب عوام سڑکوں پر آئے تب جا کر بی آر ایس نے میٹنگس کیں۔کویتا نے کہا کہ مادھو ریڈی کو لیڈر بنانے میں خود تلنگانہ جاگروتی کا کردار رہا ہے۔ 2010 تک وہ جاگروتی کے ساتھ تھے، بعد میں بی آر ایس میں شامل ہو گئے۔ جاگروتی بیس سالہ تنظیم ہے جس نے کئی قائدین تیار کئے ہیں، مگر مادھو ریڈی نے بعد میں بی آر ایس کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی آر ایس واضح کرے کہ ایسے شخص کو ٹکٹ کیوں دیا گیا جو بی سی ریزرویشن کے خلاف کھڑا رہا ہے۔انہوں نے کانگریس کے طرزِ عمل پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس سے منتخب ایم ایل اے گاندھی کو کانگریس نے نظام آباد میونسپل انتخابات کا انچارج مقرر کیا ہے، حالانکہ وہ بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور انہیں پی اے سی چیئرمین کا عہدہ بھی حاصل ہوا۔ اسی طرح اسپیکر کی جانب سے بی آر ایس ایم ایل اے قرار دیئے گئے پرکاش گوڑ اور ٹی وینکٹ راؤ کو بھی کانگریس نے میونسپل انتخابات میں انچارج بنایا، جو عوامی فیصلہ کی کھلی توہین ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اگر راہل گاندھی واقعی آئین پر یقین رکھتے ہیں تو گاندھی کو فوراً انچارج کے عہدے سے ہٹایا جائے اور اسپیکر کو چاہئے کہ وہ اب بھی گاندھی کے خلاف نااہلی کی کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پسماندہ طبقات کے لئے سالانہ 20 ہزار کروڑ روپئے کے بجٹ کا وعدہ کیا تھا، مگر گزشتہ دو بجٹ ملا کر سات ہزار کروڑ روپئے بھی مختص نہیں کئے ۔ آنے والے بجٹ اجلاس میں بی سی سب پلان اور کانگریس کے وعدوں پر سنجیدگی سے عمل ہونا چاہئے، کیونکہ اس کے بعد صرف ایک بجٹ بچے گا اور پھر انتخابی بجٹ آئے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے جہدکاروں کو دھوکہ دیا، اسی لئے جہد کاروں نے کانگریس کو ووٹ دیا، مگر کانگریس بھی انہیں انصاف فراہم نہیں کر رہی ہے۔ جہد کاروں کو زمین دینے کے وعدے پر عمل نہ ہونے کے خلاف جاگروتی نے کریم نگر میں بھوپوراٹم جدوجہد کی۔ اسی سلسلہ میں 12 تاریخ کو آر ٹی سی کلیان منڈپم میں تلنگانہ جہد کاروں کی آتما گورو سبھا منعقد کی جا رہی ہے، جس میں جہد کاروں، شہداء کے اہلِ خانہ اور تلنگانہ کے عوام سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں، مگر عوام کو یہ دیکھنا چاہئے کہ پارٹیاں کیسے برتاؤ کر رہی ہیں۔ کانگریس اور بی آر ایس نے کس طرح عوام کو مایوس کیا، یہ سب نے دیکھا، جبکہ بی جے پی پر بات کرنا ہی فضول ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی بھلائی کے مقصد سے تلنگانہ جاگروتی ’شیر‘ کے نشان پر مقابلہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے سی پی ایم، نیو ڈیموکریسی اور دیگر سوال اٹھانے والے آزاد امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ تحریک کے ایک صفحہ میں اگر سب کا ذکر ہو تو کے سی آر کی جدوجہد ایک مکمل کتاب ہے، جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیاسی طور پر کے سی آر کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتی ہیں، مگر تلنگانہ میں شائستہ اور باوقار سیاست کی حامی ہیں۔ تنقید کی بھی ایک حد ہوتی ہے، مگر وزیر اعلیٰ نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے ایک پوری برادری کو نشانہ بنایا، جو کسی کو بھی قبول نہیں۔

 

فون ٹیپنگ کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایک چھوٹی مچھلی کو پکڑ کر بڑی مچھلیوں کو چھوڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کیس کو ٹی وی سیریئل کی طرح طول دیا جا رہا ہے، جبکہ اسے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں بدلنے پر افسران کو نشانہ بنانے کے بجائے اصولی سیاست ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button