جنرل نیوز

نئی ادبی تنظیم” عالمی اردو محور، ریاض” کے لوگو کی رونمائی اور محفلِ شعر کا انعقاد 

ریاض ۔ (پریس نوٹ)  ریاض، سعودی عرب میں ہند و پاک سے وابستہ محبانِ اردو کی مختلف ادبی تنظیمیں ہیں جو گاہے بہ گاہے ادبی نشست اور مشاعرے کا اہتمام کرتی رہتی ہیں۔ تاہم طویل عرصے سے یہ شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا کہ ایک ایسی خالص ادبی تنظیم ہو جو اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم اور محوری کردار ادا کرے اور نئی نسل میں ادبی ذوق کی آبیاری کرے۔

 

 

اس کی محفلوں میں فن پر اور شعر کی خوبیوں اور خامیوں پر گفتگو کی جائے اور اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر سالانہ عالمی مشاعرے کا انعقاد بھی ہو۔ چنانچہ اسی مقصد سے جمعہ کے روز میزبان دربار ریسٹورنٹ، ریاض میں نئی ادبی تنظیم "عالمی اردو محور” کے نام کا اعلان ہوا اور اس کے “لوگو” کی رونمائی کی گئی۔ منصور قاسمی کے مطابق اس موقع پر ایک پروقار اور شاندار شعری نشست بھی منعقد کی گئی جس میں شہر کے نامور علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی

 

مشاعرے کی صدارت کہنہ مشق شاعر ظفر محمود ظفر نے فرمائی؛ جب کہ نظامت کے فرائض معروف ناظم مشاعرہ اور خوبصورت لب و لہجہ کے شاعر حسان عارفی نے انجام دیے- مہمان خصوصی کی حیثیت سے الشفاء میڈیکل کے روح رواں اور فعال سماجی جہد کار ڈاکٹر ادریس سلیم خان گور شریک ہوئے- مہمانان اعزازی کی مسند پر محمد ابرار حسین، سابق صدر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، محمد غفران، سابق صدر اولڈ بوائز ایسوسی ایشن جامعہ ملیہ اسلامیہ اور معروف علمی شخصیت ڈاکٹر شوکت پرویز جلوہ افروز ہوئے- تقریب کا آغاز منصور قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعت شریف پڑھنے کی سعادت عبدالرحمن راشد کے حصے میں آئی- خطبہ استقبالیہ اور افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے اس نئی تنظیم کے محرک اور روح رواں افتخار راغب نے تنظیم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ

 

گزشتہ سال 10 ستمبر اور 8 نومبر اور 7 جنوری 2026 کو تین غیر رسمی نشستیں منعقد ہوئیں جن کی مقبولیت و افادیت کو دیکھتے ہوئے اور ایک خالص ادبی تنظیم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہلم خیال احباب کے مشورے سے "عالمی اردو مِحور، ریاض” کے نام سے ایک نئی ادبی تشکیل دی جارہی ہے۔ عالمی اردو محور کا بنیادی مقصد دیگر ادبی تنظیموں سے ہم آہنگی و تعاون کے ساتھ اردو زبان و ادب کا فروغ، صاف ستھرا اور خالص ادب کی پیشکش، تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور نئے لکھنے والوں کو مثبت پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جس کے بعد عالمی اردو محور کے “لوگو” کی رسم رونمائی بھی کی گئی۔

 

اس کے بعد باضابطہ مشاعرے کا آغاز ہوا جس میں صدرِ محفل ظفر محمود ظفر، افتخار راغبؔ، شجاع الزماں خان شاد، سلیم کاوش، سہیل اقبال، حسان عارفی، ضیا عرشی علیگ، سراج عالم زخمی، عبد الاول، منصور قاسمی، سعید اختر اعظمی اور عبد الرحمٰن راشد نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ فرمایا۔  مہمان اعزازی جناب ابرار حسین نے کہا کہ ریاض میں شعر و شاعری اور قوالی کا سلسلہ چلتا رہا ہے؛ لیکن مستحکم طور پر اس طرح کی کوئی ادبی تنظیم نہیں تھی، امید ہے کہ اس سے مستقبل میں ہماری اردو زبان کا تحفظ اور فروغ ہوگا۔ آپ نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

 

مہمان اعزازی غفران صاحب نے فرمایا کہ عالمی اردو محور کا پلیٹ فارم دیکھ کر خوشی ہوئی اس سے اردو زبان کو فروغ ملے گا نیز جامعہ کے فارغین ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ملیں گے۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر ادریس نے کہا کہ ادب کے حوالے سے آپ لوگوں نے اس تنظیم کا قیام کر کے اچھا پلیٹ فارم مہیا کرایا ہے- ڈاکٹر شوکت پرویز نے فرمایا کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ سیکھنے کو ملتا ہے- انہوں نے شاعری کے حوالے سے کہا مزید کہا کہ شاعری الہامی شے ہے، پرندوں میں جو ڈسپلین اڑتے وقت ہوتا ہے اسی ڈسپلن کی نمائندگی شاعر بھی اپنی شاعری میں کرتا ہے – آپ نے اپنے مخصوص علمی و ادبی انداز تمام شعرا کے کلام کی خوبیوں پر بھی روشنی ڈالی اور خوشی کا اظہار کیا۔

 

صدرِ محفل ظفر محمود ظفر صاحب نے بھی اپنے صدارتی خطبے میں تنظیم کی افادیت پر روشنی ڈالی اور اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

مشاعرے میں پیش کئے گئے منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں!

 

تیری تعبیر کوئی کیا جانے

اک دوانے کا جیسے خواب ہے تو

ظفر محمود ظفر

 

خوف آتا ہے بلندی کی طرف چڑھتے ہوئے

گل کا مرجھانا ہی رہ جاتا ہے کِھل جانے کے بعد

افتخار راغب

 

تلاش در کی ہے مجھ کو نہ نامہ بر کی ہے

یہ پیش رفت کسی آخری سفر کی ہے

شجاع الزماں شاد

 

میں تری ذات کو تشبیہ نہیں دے سکتا

میں کسی اور حوالے سے تجھے کیوں دیکھوں

سلیم کاوش

 

ترے نثار مجھے تو نے مڑ کے دیکھ لیا

میں چاہتا ہوں ذرا یہ کرم دوبارہ ہو

سہیل اقبال

 

تراش دیتا میں ہجرت کا خاردار درخت

وطن کی خاک کو رنگ و جمال دیتا میں

حسان عارفی

 

زندگی جس نے گزاری نہ ہو مانند سفر

اک مسافر ہے وہ، جو رخت سفر بھول گیا

ضیاء عرشی علیگ

 

فرقت میں تیری ہو گئے یعقوب ، بہت خوب

یاد آنے لگے حضرت ایوب، بہت خوب

سراج عالم زخمی

 

پھر کوئی آواز اٹھے لے کے نورِ انقلاب

جہل کے ایوان میں بانگ درا روشن کرے

عبد الاول سنگرام پوری

 

کہاں سمجھو گے تم میری حقیقت

لفافے کی طرح موڑا گیا ہوں

منصور قاسمی

 

فرصت کسے کہ لیتا پھرے سب کی خیریت

آکر کے پوچھ لیتے تمھی میرا حال شیخ

سعید اختر اعظمی

 

بے چینیاں ہیں اب بھی غمِ روزگار کی

یہ اور بات کانٹوں کا بستر بدل گیا

عبدالرحمن راشد

 

خوش فکر شاعر ضیاء عرشی علیگ کی میزبانی میں منعقد اس محفل کا اختتام ان ہی کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا ۔

اس نشست میں شعراء کے علاوہ جن نمایاں شخصیات نے شرکت کیں ان میں ڈاکٹر اشرف ، محمد سیف الدین، فاروق الدین اور شفیق احمد کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button