مضامین

رمضان المبارک کی تیاری، اور آفات سے حفاظت

از قلم مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

توپران ضلع میدک تلنگانہ

Mufti

رمضان المبارک کوئی اچانک آنے والا مہینہ نہیں بلکہ یہ ایک عظیم دینی موسم، روحانی تربیت کا مکمل نصاب اور اصلاحِ نفس کا سنہرا موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو صرف بھوک اور پیاس کے لیے نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، تقویٰ اور اعمال صالحہ کی تربیت کے لیے فرض فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرہ: 183)

 

تقویٰ وہ راسخ کیفیت ہے جو اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ مسلسل محنت، محاسبہ اور پہلے سے تیار کردہ ماحول کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی لیے شریعت نے رمضان سے پہلے تیاری پر زور دیا ہے اور یہ منہج نبی کریم ﷺ، صحابہؓ، تابعین اور اکابرِ امت کا رہا ہے۔

 

باب اوّل: رمضان سے پہلے رمضان کی تیاری

سنتِ نبوی ﷺ میں رمضان کی تیاری

رسول اللہ ﷺ رمضان کی آمد سے پہلے شعبان کے مہینے میں نفلی روزوں کی کثرت فرماتے تاکہ نفس اور امت عبادت کی عادی بن جائے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اتنے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا (صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث: 1937؛ صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث: 1153)۔

 

حضرت اسامہ بن زیدؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ شعبان میں اتنے روزے رکھتے ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہو جاتے ہیں، حالانکہ اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش ہوں (سنن نسائی، کتاب الصیام، حدیث: 2350؛ مسند احمد، حدیث: 19354)۔

 

متقدمین کا منہج

حضرت معلیٰ بن فضلؒ فرماتے ہیں کہ سلف صالحین چھ مہینے رمضان کے آنے کی دعا کرتے اور چھ مہینے اس کی قبولیت کی دعا کرتے تھے (لطائف المعارف، ابن رجب، جلد 1، ص 45)۔ حضرت علیؓ رمضان کے قریب یہ دعا کثرت سے کرتے: اے اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچا دے، رمضان کو ہمارے لیے سلامتی والا بنا دے اور ہماری عبادت قبول فرما (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 2، ص 301)۔

 

تابعین فرماتے تھے کہ جو نفس گیارہ مہینے آزاد رہا ہو وہ اچانک رمضان میں مطیع نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے وہ رمضان سے پہلے کم کھانے، کم سونے، کم بولنے اور ذکر و تلاوت کی مشق شروع کر دیتے تھے۔ امام زہریؒ رمضان کے قریب اپنے دروس محدود کر دیتے اور فرمایا: رمضان قرآن کا مہینہ ہے، مناظروں کا نہیں (سیر اعلام النبلاء، جلد 4، ص 212)۔ مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ لکھتے ہیں کہ اکابر رمضان سے پہلے زبان، نظر اور دل کا محاسبہ کرتے تاکہ رمضان اصلاح کا مہینہ بنے، محض رسم کا نہیں (فضائلِ اعمال)۔

 

*فطری مرحلہ: ہر بڑے کام سے پہلے تیاری کی ضرورت*

انسانی زندگی کا کوئی بھی بڑا کام بغیر تیاری کے انجام نہیں پاتا کھیتی کی مثال: کسان جب کھیتی کا ارادہ کرتا ہے تو بیج بونے سے کئی ہفتے پہلے زمین کو ہموار کرتا ہے، جھاڑ جھنکار اور کانٹے نکالتا ہے، پانی کے راستے بناتا ہے اور کھاد کا انتظام کرتا ہے۔ اگر وہ یہ سب مراحل نظر انداز کر دے اور اچانک بیج ڈال دے تو فصل برباد ہو جاتی ہے۔ بعینہٖ رمضان کی کھیتی بھی ہے: دل کی زمین کو حسد، کینہ، غفلت اور لغویات سے صاف کیے بغیر عبادت کے بیج ثمر آور نہیں ہوتے۔ اس لیے رمضان سے پہلے دل کی اصلاح، وقت کی تقسیم اور عبادت کی مشق ناگزیر ہے۔

 

اسی طرح شادی جیسا اہم مرحلہ مہینوں کی تیاری مانگتا ہے۔ تاریخ طے ہوتی ہے، مالی وسائل جمع کیے جاتے ہیں، لباس، دعوت اور رہائش کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نکاح کے دن ہی سب کچھ سوچ لیں گے تو یہ غیر معقول سمجھا جاتا ہے۔ رمضان جو پوری زندگی کے نکاحِ بندگی کی تجدید ہے، اس کے لیے بھی پہلے سے ذہنی، روحانی اور عملی تیاری ضروری ہے، ورنہ یہ مہینہ بھی بے ترتیبی اور غفلت میں گزر جاتا ہے۔

 

اسی طرح طالب علم امتحان سے ایک رات پہلے کتاب کھولے تو کامیابی ممکن نہیں۔ وہ مہینوں پہلے نصاب دیکھتا ہے، وقت کا شیڈول بناتا ہے اور مسلسل محنت کرتا ہے۔ رمضان بھی ایک عظیم امتحان ہے جس میں صبر، تقویٰ اور ضبط نفس کو پرکھا جاتا ہے۔ جو شخص شعبان میں ہی نیند، کھانے اور موبائل کے اوقات درست نہیں کرتا، وہ رمضان میں یکسوئی حاصل نہیں کر پاتا۔

 

تاجر بھی موسم اور منڈی کو دیکھ کر پہلے سے مال خریدتا ہے، سرمایہ لگاتا ہے اور نفع کے مواقع کو ضائع نہیں کرتا۔ رمضان نیکیوں کا سب سے بڑا موسم ہے، جس میں نفع کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ اس موسم کے لیے پہلے سے عبادت کا سرمایہ، وقت کی ترتیب اور اعمال کی فہرست تیار کی جائے، تاکہ یہ مہینہ غفلت میں ضائع نہ ہو.مسافر سفر سے پہلے راستہ دیکھا جاتا ہے، زادِ راہ باندھا جاتا ہے اور سواری کی تیاری کی جاتی ہے۔ بغیر تیاری کے سفر مشقت اور نقصان کا سبب بنتا ہے۔ رمضان ایک روحانی سفر ہے جو جنت کی طرف لے جاتا ہے، اس کے لیے صبر، علم، اعتدال اور اختلافی بحثوں سے اجتناب کا زادِ راہ ضروری ہے۔

 

مکان بنانے والا پہلے نقشہ تیار کرتا ہے، اخراجات کا اندازہ لگاتا ہے، مزدور اور سامان طے کرتا ہے۔ اگر یہ تیاری نہ ہو تو تعمیر ادھوری رہ جاتی ہے۔ رمضان میں بھی سحر، افطار، تراویح، تلاوت اور آرام کے اوقات کا نقشہ پہلے سے بنانا چاہیے تاکہ عبادت میں توازن اور دوام پیدا ہو۔

 

*غیر ضروری امور کو ترک کرنا اور اس کی منصوبہ بندی کرنا*

ہم نے اگر رمضان سے پہلے موبائل، سوشل میڈیا اور کھیل کود کے اوقات قابو میں نہ لائے تو رمضان میں بھی یہی مشغلے اس کا وقت نگل لیتے ہیں۔ صرف نیک پیغامات شیئر کر دینا عبادت نہیں، بلکہ خود عمل کرنا، وقت نکالنا اور نفس کو نظم کا پابند بنانا اصل تیاری ہے سحری میں افطار میں اعتدال اختیار کریں، تراویح کے لیے وقت مختص کریں، اور دن بھر کے غیر ضروری لغویات سے پرہیز کریں گیمنگ ریلز کا دیکھنا بلاگ وغیرہ بنانا سب اس میں شامل ہیں

 

اگر ان امور متروکوں سے کامل اجتناب ہوا تو اس طریقہ سے رمضان میں ہر لمحہ عبادت، تقویٰ اور روحانی تربیت کے لیے استعمال ہوگا، اور گناہوں سے حفاظت ہوگی ورنہ بیسیون اور رمضانوں میں سے یہ ایک رمضان بھی گزر جائے گا

*دنیاوی کاموں سے موازنہ*

انسان دنیا میں اہم کاموں کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے:

اسی طرح رمضان میں بھی عبادت، سحری، افطار، تراویح اور ذکر و تلاوت کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی، دل کی صفائی اور جسم و وقت کی تیاری ضروری ہے

 

*باب دوم: رمضان المبارک میں آفات سے حفاظت*

 

رمضان المبارک جہاں اصلاحِ نفس، تقویٰ اور قربِ الٰہی کا عظیم موقع ہے، وہیں یہ مہینہ آفات، لغزشوں اور محرومیوں کا بھی ہے، اگر بندہ ہوشیار نہ رہےایک بزرگ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ رمضان پاتے ہیں مگر رمضان ان تک نہیں پہنچ پاتا، اس کی بنیادی وجہ یہی آفات ہیں جو عبادت کی روح کو کھا جاتی ہیں۔

 

*1۔ زبان کی آفت اور فضول کلام*

 

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں (صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث: 1903)۔ اس ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ زبان، آنکھ، کان اور دل کا بھی ہے۔

 

ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، پس روزہ دار فحش کلامی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اور اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے تو کہے: میں روزہ دار ہوں (صحیح بخاری، حدیث: 1894؛ صحیح مسلم، حدیث: 1151)۔

 

امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ زبان کی حفاظت کے بغیر روزہ محض صورت رہ جاتا ہے، حقیقت باقی نہیں رہتی (احیاء علوم الدین)۔ حضرت حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے کہ روزہ دار کی خاموشی بھی عبادت ہے، بشرطیکہ وہ گناہ سے خاموش ہو۔

 

*2۔ نظر کی آفت اور دل کی خرابی*

 

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا (سورۃ النور: 30)۔ رمضان میں یہ حکم اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ نظر دل کا دروازہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے (طبرانی)۔

 

حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے تھے کہ نظر کی حفاظت روزے کے کمال میں سے ہے۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں کہ جس نے نگاہ کی حفاظت نہ کی اس کا دل رمضان میں بھی سیاہ رہتا ہے (اصلاح الرسوم)۔

 

*3۔ پیٹ کی آفت: افطار و سحر میں بے اعتدالی*

 

نبی کریم ﷺ کا معمول سادہ افطار تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی نے پیٹ سے زیادہ کوئی برتن نہیں بھرا (ترمذی، حدیث: 2380)۔ رمضان میں افطار کو تہوار بنا لینا، کثرتِ طعام اور غفلت عبادت کی روح کو ختم کر دیتی ہے۔

 

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرماتے تھے کہ پیٹ بھرنا دل کو سخت اور عبادت کو بھاری بنا دیتا ہے۔ اکابر لکھتے ہیں کہ افطار میں اعتدال اور سحر میں سہولت روزے کی جان ہے۔

 

*4۔ وقت کی آفت: لغویات اور موبائل*

 

رمضان کے قیمتی اوقات موبائل، کھیل کود، غیر ضروری ویڈیوز اور بحثوں میں ضائع کرنا آج کی سب سے بڑی آفت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں: صحت اور فراغت (صحیح بخاری، حدیث: 6412)۔

 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو فارغ ہو مگر نیکی نہ کرے۔ مولانا یوسف صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ رمضان کے لمحات اگر ضائع ہو گئے تو سال بھر کی اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔

 

*5۔ اختلافی اور فروعی مسائل میں الجھنا*

 

رمضان میں تراویح آٹھ یا بیس، افطار کا لمحہ، سحری کا آخری وقت—ان مسائل میں جھگڑنا اصل مقصد سے غفلت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے پاس واضح شریعت چھوڑ کر جا رہا ہوں، اس میں ہلاکت اختلاف سے ہے (مسند احمد)۔

 

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فروعی اختلافات کے نقصانات پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے کہ ان میں شدت اختیار کرنا دلوں کی قساوت، باہمی نفرت اور روحانیت کے زوال کا سبب بنتا ہے، اور شریعت کا مقصود اس کے برخلاف دلوں کا جوڑ اور سکونِ قلب ہے۔

(الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف، شاہ ولی اللہ دہلویؒ)

نیز آپؒ نے امت کے انتشار سے بچنے اور مقاصدِ شریعت کے تحفظ کے لیے ایسے اختلافات میں وسعت اور اعتدال کی تعلیم دی ہے۔

(حجۃ اللہ البالغۃ، جلد اوّل، مباحث اختلاف الامۃ)

 

6۔ ریاکاری اور دکھاوے کی آفت

 

نبی ﷺ نے سب سے زیادہ جس چیز کا خوف دلایا وہ چھوٹا شرک یعنی ریا ہے (مسند احمد)۔ رمضان میں عبادت کی نمائش، سوشل میڈیا پر عبادت کا اظہار، نیکیوں کو دکھاوا بنا دینا اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔

 

حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے تھے کہ ریا عبادت کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو خاموش عبادت رمضان کی سب سے محفوظ عبادت ہے۔آج کے دور میں یہ بات عوام ہو گئی ہے تہجد کی ویڈیو بن رہی ہے افطار اور سحر کی ویڈیو بن رہی ہے تقسیم زکوۃ کی ویڈیو بن رہی ہے یہ سب چیزیں اعمال کے اثر کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے

 

*7۔ دعا سے غفلت*

 

رمضان دعا کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی (ابن ماجہ، حدیث: 1753)۔ مگر افسوس کہ لوگ اس وقت کو کھانے اور موبائل میں گزار دیتے ہیں۔

 

حضرت ابنِ رجبؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص افطار کے وقت دعا سے محروم رہا وہ رمضان کے بڑے خزانے سے محروم ہو گیا (لطائف المعارف)۔

 

خلاصہ کلام

رمضان کی آفات سے حفاظت کا خلاصہ یہ ہے کہ زبان، نظر، پیٹ، وقت اور نیت کی حفاظت کی جائے، اختلافات اور لغویات سے بچا جائے، اور دعا و اخلاص کو مضبوط کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر رمضان رحمت بنتا ہے، ورنہ یہی مہینہ محرومی کا سبب بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button