جنرل نیوز

ریاستوں کی تقسیم اور زمین پر کھینچی لکیروں سے قلبی رشتے تقسیم نہیں ہوتے۔ حیدرآباد اور کڑپہ کا ادبی رشتہ قدیم اور مستحکم

شعری مجموعہ" سر چشمہِ عشق " اور کتاب "درِبابِ علم "کی رسم اجرا -جناب محمود شاہد کا خطاب-شعری محفل کا انعقاد

حیدرآباد 13 فروری( پریس نوٹ) جناب محمود شاہد ایڈیٹر “افسانہ نما” و سی ای او وسیلہ ٹی وی نے کہا کہ اگرچہ کے متحدہ ریاست آندھرا پردیش منقسم ہو گئی ہے لیکن زمینوں کی تقسیم سے دل تقسیم نہیں ہوتے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم سے قبل بھی ہماری زندگی پر حیدرآباد کے اثرات ہی رہے ہیں ہمارا رشتہ حیدرآباد سے قدیم اورمستحکم ہے۔

 

 

حیدرآباد کے بعد کڑپہ دوسرا بڑا ادبی مرکز مانا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ افسانہ نما کے زیر اہتمام جناب غوث خان عارف کے شعر ی مجموعے “سر چشہِ عشق ” اور محترمہ نکہت فاطمہ کی کےاب در باب علم”( تالیف) کی رسم اجرا سے خطاب کرتے ہوئے زمریس بینکوٹ ہال وجے نگر کالونی حیدرآباد میں کیا۔

 

 

تقریب کی صدارت شاعر خلیج جناب جلیل نظامی نے کی جناب محمود شاہد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سعید شہیدی،او ج یعقوبی، مخدوم محی الدین ،علی احمد جلیلی، عبدالقادربے ہوش محبوب نگری کڑپہ آتے رہے ہیں اس طرح سے دیگر مزیدکئی نامور شعرا سے ہمارا ادبی و تہذیبی رشتہ مستحکم سے مستحکم ہوتا گیا انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں عام آدمی مشاعروں سے دور ہو گیا ہے جو کہ افسوسناک ہے اس کا سب سے بڑا سبب یہ معلوم ہوتا ہے

 

 

کہ شعر برادری خود روامی رابطے سے دور ہو گئی ہے محفلوں میں صرف شعرا کرام نظر آتے ہیں عام آدمی سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے جو اپنے اپ کو ترقی یافتہ سمجھتے ہیں وہ بھی ادبی فضا سے دور ہیں ایسے ماحول میں اردو زبان کو پروان چڑھانے کے لیے ہم سب کو متحدہ طور پر آگے آنا ہے انہوں نے کہا کہ ادب زندگی کا لازمی حصہ ہے۔

 

 

انہوں نے اردو زبان کی اہمیت اور افادیت کو ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی ہماری کسی ریاست کی ایوان اسمبلی ہو یا پھر پارلیمنٹ اجلاس میں قائدین کو اظہار کا جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے معافی الظمیر کا اظہار اردو زبان میں ہی ظاہر کرتے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب سید فضل اللہ عاقب انسٹکٹر “کیر نیوٹریشن سنٹر نے کہا کہ ادب کو عام آدمی تک پہنچانے کی ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اختراعی صلاحیت کی کمی ہے

 

 

ہم معاشرے تک ہی محدود ہیں بچوں کو پیٹ کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ نیز ہم نے ہر چیز کو چلانا سیکھا ہے لیکن بنانا نہیں سیکھا۔ اس پروگرام کے اسپانسر جناب عبدالقدیر ڈائریکٹر کیر نیوٹریشن سنٹر نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ آج اپنے آپ ہی کو بھول گئے ہیں یعنی لوگوں کے پاس اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے ہی وقت نہیں ہے زندگی کے سفر میں اپنے جسم کی دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چہل قدمی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے صحت مند اور تغذیہ بخش غذاسے ہی صحت کی برقراری ممکن ہے۔ ہلکی پھلکی غذا وقت پر کھائیں اور وقت پر آرام کریں۔

 

 

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی صحت پر تھوڑی بھی توجہ دیتے ہیں تو ہم ہر قسم کی بیماری سے محفوظ رہتے ہوئے اسپتالوں کےبڑے بڑے اخراجات بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے سماج میں شوگر ،بی پی، جوڑوں کا درد عام ہوتا جا رہا ہے اس کے لیے چہل قدمی بے حد ضروری ہے جو لوگ روزانہ باقاعدہ ورزش کرتے ہیں وہ ہمیشہ تندرست اور توانا رہتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کم کھائیں صحت سے رہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ حیدرآباد شوگر کے مریضوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت پر توجہ دیں اور حقیقت یہ ہے کہ صحت کی قدر و قیمت وہی جانتا ہے

 

 

جو کہ کسی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہم کسی مرض میں مبتلا ہونے سے قبل ہی اپنی صحت پر مکمل توجہ دیں تو پھر کئی ایک مسائل سے ہم کو چھٹکارا مل سکتا ہے۔ اس موقع پر شاعر خلیج جناب جلیل نظامی نے جناب غوث عارف کی کتاب اور محترمہ محترمہ نکہت فاطمہ زوجہ جناب مظہر الزماں خان کی کتاب در باب علم (تالیف) کی رسم اجرا انجام دی اس موقع پر آرکیٹکٹ عبدالرحمن سلیم کے علاوہ ڈاکٹر محمد نعمان سابق صدر نشین آندھراپردیش اردو اکیڈمی، ڈاکٹر سعید نواز، نے بحیثیت مہمانان اعزازی شرکت کی۔

 

 

شعری نشست کا آغاز جناب رفیق جگر کے کلام سے ہوا۔ ناظم مشاعرہ نجیب احمد نجیب کے علاوہ جناب سیف نظامی، عبدالرحمن سلیم، جناب شکیل حیدر کانپوری، جناب سید نوید جعفری، جناب ایوب تشنہ، جناب معین الدین احمر، محترمہ صبیحہ تبسم ،محترمہ ممتاز سلطانہ نے کلام سنایا۔جناب لطیف الدین لطیف نے مزاحیہ کلام سناتے ہوئے محفل کو زعفران زار کر دیا۔ اس نے موقع پر سینیئر صحافی جناب کے این واصف نے جلیل نظامی کی شال پوشی کی جناب سیف نظامی نے جناب سعید نواز اور جناب آرکٹیکٹ عبدالرحمن سلیم کی شال پوشی کی جناب معین الدین نے منظور وقار اور جناب نجیب احمد نے جناب عبدالقدیر کی شال پوشی کی۔ جناب کے این‌ واصف نے معروف ناول نگار مظہر الزماں خاں پرخاکہ بعنوان “یہ انداز گفتگو کیا ہے” پیش کیا۔

 

 

اس محفل میں جناب منظور وقار( گلبرگہ)، جرنلسٹ جناب تجمل علی خان، باسط ابومعاذ، جناب محمد حسام الدین ریاض، جناب انتصار علوی،محمد قیصر صدر تنظیم ہم ہندوستانی، محمد صادق علی اور دوسروں نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button