ایجوکیشن

تعلیم اور تحقیق کےشعبہ میں کافی سہولیات – زندگی کے ہر شعبہ میں کامیابی کیلئے منصوبہ بندی ضروری 

انوارالعلوم کالج کا کانوکیشن- طلبہ کو مبارکباد- ڈاکٹر اوصاف سعید سابق معتمد خارجہ حکومت ہند, پروفیسر ششی کانت، پروفیسر احمد بیگ کا خطاب

حیدرآباد 14 فبروری (اردو لیکس) ڈاکٹر اوصاف سعید ایف ایس و سابق معتمد خارجہ حکومت ہند نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم کے حصول اور تحقیق کے شعبہ میں آج بہت ساری سہولیات حاصل ہیں جبکہ پہلے اتنی سہولیات نہیں تھیں زندگی کے کسی بھی شعبے میں شاندار کامیابی کے لیے منصوبہ بندی بے حد ضروری ہے .

 

 

منصوبہ بندی کے بغیر ہم اپنی ترقی کے نشانہ کو نہیں پا سکتے میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ اللہ کے فضل وکرم اور والدین کی دعاؤں اور اپنے اساتذہ کی قدر و منزلت کا نتیجہ ہے ڈاکٹر اوصاف سعیدنے انوار العلوم کالج ملے پلی حیدرآباد میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلباء کے کانوکیشن کی عظیم الشان تقریب سے مخاطب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا یہ تقریب سیکرٹری انوار العلوم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس نواب محبوب عالم خان صاحب اور جوائنٹ سیکرٹری نواب مجاہد عالم خاں صاحب کی زیر سرپرستی منعقد ہوئی جس میں بی اے، بی کام، بی ایس سی، بی بی اے ،بی بی ایم، ایم اے ،ایم ایس سی اور ایم‌ کام تکمیل کرنے والے طلبہ و طالبات کو سرٹیفکیٹس دیے گئے.

 

 

تقریب کا آغاز ڈاکٹر ابوبکر کی قراءت کلام پاک سے ہوا ڈاکٹر اوصاف سعید نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی اور فخر حاصل ہے کہ وہ بھی انوار العلوم کالج کے طالب علم رہ چکے ہیں انہوں نے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسس میں کامیاب تمام طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد دی اور انوار العلوم کالج کی شاندار تعلیمی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ا انوار العلوم کالج خاص طور سے طلباء کی تعلیمی ترقی میں اہم رول ادا کر رہا ہے یہاں کے فارغین قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا اور اپنے کالج انوار العلوم کا نام روشن کر رہے ہیں.

 

 

انہوں نے کہا کہ سینٹ جارجس گرامر اسکول عابڈس حیدرآباد سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی.. اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے انہوں نے طلبہ و طالبات کو اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنے کی تلقین کی انہوں نے بتایا کہ ہمارے تعلیمی دور میں جب ہمیں تعطیلات ہوا کرتی تھی ہمارے والدین ٹائپ رائٹنگ سیکھنے پر زور دیا کرتے تھے جب ہم ٹائپ رائٹنگ میں مہارت حاصل کر چکے ہوتے تو پھر ہمیں شارٹ ہینڈ سیکھنے پر زور دیا جاتا تھا انہوں نے بتایا کہ شارٹ ہینڈ اور ٹائپ رائیٹنگ سکھانے والوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ایک منٹ میں 120 الفاظ ٹائپ کریں تو آپ ایک آئی ایس افیسر کے پاس سیکرٹری کا پوسٹ حاصل کر سکتے ہیں

 

 

اس انسٹرکٹر کے خیالات سننے کے بعد مجھے خیال ایا کہ میں خود بھی ایک آئی ایس یا ائی پی ایس آفیسر بنوں گا انہوں نے کہا کہ میں نے کونسل جنرل شکاگو کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں انہوں نے طلبہ کو منصوبہ بندی کی طرف بھرپور توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی سے منصوبہ بندی کریں کہ آئندہ پانچ سال میں ہم کیا بننا چاہتے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ ملک و قوم کی خوب خدمت کریں انہوں نے طلبہ سے کہا کہ آنے والے 10 سالوں بعد بھی جب آپ دوبارہ اس کالج کو آئیں تو سارے اساتذہ آپ پر فخر کریں میں آپ تمام کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں کہ کامیابیاں زندگی بھر آپ کے قدم چومیں انہوں نے مزید کہا کہ سابق میں ہمیں ایم ایس سی میں بھی داخلے کے لیے انٹرنس لکھنا پڑتا تھا اور انٹرنس امتحان میں میں نے اول پوزیشن حاصل کی تھی میں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی کیا ہے طلبہ و طالبات کو ڈاکٹر اوصاف سعید نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب زندگی گزارنے کے مختلف انداز بتائے

 

 

اور والدین اور اساتذہ کی قدر و منزلت کرنے کی بھی تلقین کی پروفیسر کے ششی کانت کنٹرولر آف ایگزامنیشن عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ آج کا دور مسابقتی دور ہے طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی علمی مہارتوں میں اضافہ کریں انہوں نے کہا کہ پہلے زمانے میں تعلیم محدود ہوا کرتی تھی لیکن موجودہ دور میں تعلیم کے میدان میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے انہوں نے انوارالعلوم کالج کے نظم و اور طلباء کی تعلیمی صلاحیتوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس کانوکیشن میں شرکت میرے لیے ایک اعزاز ہے انہوں نے انوارالعلوم کالج انتظامیہ کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہیں اس یادگار موقع پر مدعو کیا گیا ہے پروفیسر کے ششی کانت نے مزید کہا کہ وہ طلبہ جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرونی ممالک چلے گئے ہوں وہ اپنے وطن ہندوستان واپس ا کر بھی اپنے ملک کی خدمت کریں انہوں نے کہا کہ امریکہ کی معیشت کو بہتر بنانے میں ہندوستانیوں کا بہت اہم رول رہا ہے

 

 

پروفیسر احمد بیگ ڈائریکٹر اف انوار العلوم ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز نے کامیابی حاصل کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ جو بھی کام کریں اس میں مہارت حاصل کریں طلبہ کو چاہیے کہ اپنے میں مستقل مزاجی پیدا کریں انہوں نے تھامس ایڈسن کی مثال دی کہ اس نے برقی ایجاد کرنے کے لیے ایک ہزار مرتبہ کوشش کی اور اس کے بعد اسے کامیابی حاصل ہوئی انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناکامی کو ایک تجربے کے طور پر لیا جائے آپ کی مہارت سے زیادہ قوت ارادی سے کامیابی ملتی ہے گریجویشن پوسٹ گریجویشن کی کامیابی آپ کی زندگی میں آپ کو اگے بڑھنے کی سیڑھی ہے آپ تمام کی کامیابی نہ صرف اپ کی کامیابی ہے بلکہ یہ آپ کے والدین اور اساتذہ کی بھی کامیابی ہے انہوں نے کہا کہ” ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی” کہ مصداق اگر طلبہ تعلیم کے ساتھ ایماندارانہ تجارت کریں تو وہ اپنی معیشت کو بھی بہتر طور پر سدھار سکتے ہیں انہوں نے اس سلسلے میں انوارالعلوم کالج کے سابق طالب علم پستہ ہاؤس کے مالک جناب ایم اے مجید کی مثال دی کہ جناب ایم اےمجید اسی کالج کے طالب علم رہ چکے ہیں

 

 

اور انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تجارت میں خوب نام کمایا ہے انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنی سوچ و فکر بلند رکھیں شہ نشین پر چیف ایڈیٹر ہفت روزہ "گواہ” ڈاکٹر فاضل حسین پرویز بھی موجود تھے جناب محمد عبدالرزاق پرنسپل انوارالعلوم کالج نے کالج کی تعلیمی ثقافتی اور پلیسمنٹ پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کی اور طلبہ و طالبات کو حلف بھی دلایاجناب شیخ شفیق الرحمن نائب پرنسپل اور کنٹرولر آف ایگزامنیشن انوار العلوم کالج نے کامیاب طلبہ طالبات پر زور دیا کہ وہ مسلسل محنت اور جستجوکے ساتھ آگے بڑھتے رہیں. اور نہ صرف اپنا بلکہ اپنے والدین، اساتذہ، کالج اور ملک کا نام روشن کریں.. پروفیسر میمن حاجی سجاد کھیل اور ثقافتی سرگرمیوں کے کنوینر بھی موجود تھے اس کے علاوہ تقریب کی کاروائی استقبالیہ کمیٹی کی کنوینر ندیم فاطمہ انصاری صدر شعبہ بائیو ٹیکنالوجی نے چلائی ڈاکٹر میجر سید صدیق حسن این سی سی آفیسر، ڈاکٹر عبدالمغنی صدیقی صدر شعبہ اردو ،ڈاکٹر یاسمین بانو اسوسی ایٹ پروفیسر کامرس، محترمہ نسرین سلطانہ صدر شعبہ کامرس ،ڈاکٹر محمد سراج باشاہ صدر شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن، محترمہ محی فاطمہ (صبیحہ تبسم) صدر شعبہ ہندی ،محمد عکیم الدین فزیکل ڈائریکٹر

 

 

ڈاکٹر ماجد محی الدین صدر شعبے مائیکرو بائیولوجی، ڈاکٹر انجم فاطمہ صدر شعبہ عربی ،محترمہ ملیحہ افشاں صدر شعبہ حیوانات، محترمہ نازیہ محمدی صدر شعبہ نیوٹریشن اور ڈیٹکس، جناب محمد تجمل علی امتحانی شعبہ نے شرکت کی صدر شعبہ تاریخ مسٹر فیلیکس کے شکریہ پر اس شاندار تقریب کا اختتام عمل میں آیا.

متعلقہ خبریں

Back to top button