بلدی انتخابات کے نتائج محض ٹریلر پکچر ابھی باقی ہے, : کویتا,

بلدی انتخابات کے نتائج محض ٹریلر پکچر ابھی باقی ہے
*فارورڈ بلاک کے ہمراہ متحدہ طور پر مقابلہ اور 40 سیٹوں کا حصول*
*وعدوں کی عدم تکمیل کے باوجود کانگریس زائد نشستیں جیتنے میں کامیاب*
*متبادل کی عدم موجودگی کے باعث عوام نے حکمران جماعت کو ووٹ دیا*
*بی آر ایس اپنا محاسبہ کرے۔کے کویتا کی پریس کانفرنس*
تلنگانہ جاگروتی کے مرکزی دفتر بنجارہ ہلز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ حالیہ میونسپل انتخابات محض ایک ٹریلر ہیں، اصل سیاسی منظرنامہ ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ اس موقع پر آل انڈیا فارورڈ بلاک کے اسٹیٹ کنوینر امباٹی جوجی ریڈی اور ایچ ایم ایس کے جنرل سکریٹری ریاض احمد بھی موجود تھے
۔کویتا نے کہا کہ کانگریس عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کئے بغیر ہی زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی جبکہ بی آر ایس کئی مقامات پر تین اور چار سیٹوں تک سمٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے دیکھا کہ متبادل کی عدم موجودگی میں کانگریس کو ووٹ دیا گیا، لیکن اب نئی طرز کی سیاست کے لئے فضا تیار ہو رہی ہے اور تلنگانہ جاگروتی کو عوامی تائید حاصل ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیاسی جماعت میں تبدیل ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور وقت کم ہونے کے باوجود کارکنوں کے اصرار پر آل انڈیا فارورڈ بلاک کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا۔ عوام نے انہیں 40 مقامات پر کامیاب کیا۔ سرکاری طور پر 33 سیٹیں رہیں کیونکہ سات مقامات پر بی فارم کے کچھ مسائل رہے تاہم ان ساتوں نشستوں پر جاگروتی کے امیدوار ہی کامیاب ہوئے۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر کانگریس قیادت لالچ دے کر منتخب نمائندوں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے لئے یہ انتخاب سخت ناکام ثابت ہوا ہے۔ماضی میں 90 فیصد بلدیات جیتنے والی جماعت اب صرف 16 تک محدود ہو گئی ہے، اس لئے انہیں خود احتسابی کرنی چاہئے کہ عوام کی محبت کیوں کھو دی۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی وہ نئی سیاسی پارٹی بنانے کی بات کرتی ہیں، بی آر ایس قائدین شور مچانا شروع کر دیتے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ صرف ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے۔ کویتا نے کہا کہ اگر غرور کم نہ کیا گیا اور عوام کے بیچ نہیں گئے تو نتائج اسی طرح آتے رہیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شمالی تلنگانہ میں بی جے پی اور بی آر ایس ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور یہ آئندہ اتحاد کا پہلا قدم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی پی آئی کے مانگے بغیر حمایت کا اعلان کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر جب اسی جماعت کے رہنما کالیشورم معاملہ پر کے سی آر پر الزامات لگا چکے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کی تائید کی جا رہی ہے تو کیا ان الزامات کو تسلیم کیا جا رہا ہے
؟کویتا نے کہا کہ کانگریس اپوزیشن میں تھی تب کے نتائج سے بی آر ایس اپنا موازنہ کر رہی ہے، لیکن اگر اپنے اقتدار کے دور سے موازنہ کریں تو واضح ہوگا کہ انہیں بھاری نقصان ہوا ہے۔ کانگریس کی خامیوں کو اجاگر کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے ہی حکمران جماعت کو زیادہ سیٹیں ملیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کانگریس اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے لئے آنے والے بجٹ میں مناسب فنڈس مختص کرے۔ کسانوں کو بونس دینے کا وعدہ پورا کیا جائے اور عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے۔



