جنرل نیوز

نوافل اور ذکر الہٰی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج۔”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسم اجراء‘ ایس اے ہدیٰ وڈاکٹر قطب الدین کا خطاب

حیدرآباد ۔ جناب سید انوار الہدیٰ آئی پی ایس سابق ڈی جی پی نے کہا کہ دلوں کا سکون اللہ ہی کے ذکر میں ہے اور یہ سب سے اعظم ترین نسخہ ہے جب بھی کوئی مصیبت آئے دو رکعت نفل نماز پڑھیں اور اللہ ہی سے رجوع ہوں امریکہ میں لوگ کئی امراض بالخصوص نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں سرپرست اپنے بچوں کی محبت سے محروم ہیں اسکول سے فارغ ہوتے ہی بچے آزاد ہو جاتے ہیں اپنے ماں باپ کی فکر بھی نہیں کرتے آج کا دور فیس بک و انسٹاگرام کا دور ہو گیا ہے ہمارے ہزاروں فالورز ہیں لیکن ہمارے مسائل، ہماری پریشانیوں کو سننے اور ہمیں دلاسہ دینے والا کوئی نہیں انہوں نے کوویڈ کے دور کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ دور گزرا ہے جب جنہیں ہم اپنے کہتے تھے وہ بھی کوویڈ سے متاثرہ لوگوں سے دور ہو گئے کوویڈ سے متاثرہ لوگ جب انتقال کر گئے انہیں کاندھا دینے کے لیے بمشکل چار لوگ بھی نظر نہیں آرہے تھے

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع کے انٹرویوز پر مشتمل شایع کتاب "انسانی نفسیات کی گرہیں ” (مولف علیز ینجف) کی رسم اجرا انجام دینے کے بعدتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاؤنڈری حیدرآباد میں منعقد ہوئی سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے جناب سید انوار الہدی نے کہا کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں آخرت کی تیاری کریں ایمان کی کمزوری کے نتیجے میں مسائل پیدا ہوتے ہیں آدمی جب زندگی کے اخری منزلوں میں ہوتا ہے تو یہ سونچتا ہے کہ بچپن کیسا گزرا اور پھر یہیں سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے انہوں نے ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان غیر ضروری طور پر توہمات کا شکار ہو جاتا ہے انسان کو ہمیشہ توہمات کے دائرے سے دور رہنا چاہیے جناب انوار الہدی نے کہا کہ بعض لوگ بیوی کو یا شوہر کو یا اپنے بچوں کو کھو دینے کے بعد ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں سے ہماری ہمدردی ان کی زندگی میں امید کی کرن بن جاتی ہے انہوں نے کہا کہ بعض والدین اپنے بچوں کو نفسیاتی امراض کے علاج کا ڈاکٹر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے کہ اس کورس کی تکمیل کے بعد امریکہ میں بہت زیادہ آمدنی کے مواقع ہوتے ہیں

 

لیکن ڈاکٹر محمد الدین قطب الدین نے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت نفسیاتی امراض میں مبتلا لوگوں کی بہترین کونسلنگ کرتے ہوئے انہیں پرسکون زندگی گزارنے کی راہیں فراہم کی ہیں۔ڈاکٹر محمدقطب الدین ابو شجاع نے کہا کہ نفسیاتی امراض سے دوررہنے کے لیے اسلام کے بنیادی باتوں پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے ہم ہر دن محبت بانٹتے رہیں ہم خوش رہیں اور ہر ایک کو خوش رکھیں،سلام میں پہل کریں، کم کھائیں، زیادہ سوچیں،کھانے کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ بھی بے حد ضروری ہے انہوں نے کہا کہ دل میں سادگی ہو‌اور دماغ میں شانتی ہو تو روحانی ارتقا ممکن ہے اور پھر ہمیں کوئی تعویذ کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی امریکہ میں بہت ساری سہولیات ہونے کے باوجود لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں انہوں نے عالمی باکسر محمد علی کلے کے ساتھ گزارے ہوئے اپنے 28 سالہ تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت نفیس انسان تھے ان کے دل میں انسانیت کا درد تھا سیاہ فام لوگوں کی خدمت کا ان میں بہت احساس تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات سے متعلق تفصیلات سے آگاہی کے بعد محمد علی کلے کی دنیا ہی بدل گئی سیاہ فام لوگوں کی محبت کے ساتھ ساتھ ان کے دل میں گوروں سے بھی محبت پیدا ہو گئی گویا ان کی کایا پلٹ گئی انہوں نے کہا کہ کئی لوگ نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں انہیں چاہیے کہ وہ فضول باتوں سے اپنے اپ کو دور رکھیں قوم کی روح کو جگانے کے لیے ہم بھی اپنا وقت دیں غیر مسلم بھائیوں پر توجہ دیں ان تک حضور کا پیام پہنچائیں

 

ہمیشہ مثبت سوچیں لوگوں سے متعلق منفی سوچ کو ختم کریں اگر ہم نے غیر ضروری مسائل سے خود کو دور رکھا اور دوسروں کے دکھ درد کو بھی سمجھنا شروع کیا تو نفسیاتی مسائل سے ہم بہت حد تک چھٹکارا پا سکتے ہیں تقریب کی کاروائی چیف ایڈیٹر گواہ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز اور ڈاکٹر خالد شہباز نے کاروائی چلائی۔ڈاکٹر شجاعت علی سابق آئی ائی ایس ایس نے کہا کہ ڈاکٹر محمد قطب الدین کی شخصیت معمولی نہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ذہنی تناؤ کینسر اور ہارٹ اٹیک سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے ذہنی تناؤ کے شکار مریض کو ہم صحت کی امید دلائیں ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر لوگ ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں دوست احباب اور خود افراد خاندان وظیفہ یاب لوگوں سے ملاقات کرنا یا ان سے گفتگو کرنا ضروری نہیں سمجھتے ایسے میں انسان ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر ایک کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئیں جب ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی اور محبت سے پیش آئے گا تو ذہنی تناؤ کے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر محمد قطب الدین سے اپنی دیرینہ رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد قطب الدین میں ملت کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے قوم کے لیے ان کے انسو ٹپکتے ہیں ان کی انکھیں قوم کی بد حالی اور پریشانیوں پر نم ہو جاتی ہیں ڈاکٹر قطب الدین ابو شجاع کے انٹرویوز پر مشتمل یہ کتاب ایک میڈیکل ڈکشنری کی حیثیت رکھتی ہے اس کتاب کے مطالعہ کے بعد جو افراد وہم اور شک جیسے امراض میں مبتلا رہتے ہیں ان کے یہ امراض کے خاتمے میں بہت نافع ہے۔

 

ڈاکٹر تبریز حسین تاج نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر محمد قطب الدین نے اپنے مضامین کے ذریعے نفسیاتی امراض میں مبتلا لوگوں کے دلوں سے خوف و ہراس کو ختم کیا ہے اور مثبت سوچ اور فکر پیدا کی ہے حیدرآباد کے اخبارات ہی نہیں بلکہ قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف اخبارات میں مختلف زبانوں میں ڈاکٹر محمد قطب الدین کے مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ سماجی جہد کار محترمہ رفیعہ نوشین نے کہا کہ کتاب ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب ایک فکری امانت ہے اور عوام کے دلوں کی حقیقی ترجمان ہے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بر7 میں سے ایک شخص ذہنی تناؤ کا شکار ہے ذہنی تناؤ کے شکار افراد کو اس وقت ہمارے حوصلے اور امیدوں کی بڑی ضرورت ہے۔

 

جناب مرزا عبدالقیوم ندوی اورنگ آباد نے کہا کہ تنہائی کا درد و کرب بڑا ہی سخت ہوتا ہے ڈاکٹر محمد قطب الدین وقت کے قطب مینار ہیں جو انہوں نے اپنی اس کتاب کی اشاعت کے ذریعے قوم و ملت کے اہم مسئلے پر رہنمائی کی ہے یہ کتاب تمام توہمات کو ختم کرتے ہوئے پرسکون زندگی گزارنے کا راستہ بتاتی ہے انہوں نے لوگوں سے خواہش کی کہ یہ کتاب اپنے خاندان والوں کو تحفہ دیں۔ ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی نے کہا کہ ماہر امراض نفسیات لوگوں کی زندگی کے مختلف مسائل کو سمجھتے ہیں آج زندگی کے ہر شعبے میں ماہر امراض نفسیات کی رائے کو اہمیت دی جا رہی ہے انہوں نے اس کتاب کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کے مطالعہ کی ہر ایک سے خواہش کی۔

 

ڈاکٹر محمود صدیقی ڈین مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کہا کہ بہت سی بیماریوں کا اغاز سوچ و نفسیات سے ہوتا ہے اس پر توجہ نہ دینے سے جسمانی مسائل پیدا ہوتے ہیں انہوں نے بہت ہی اہم نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہم کو کسی بھی محفل میں کام کرنے والوں کی فردا فردا ستائش کرنی چاہیے کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی محفل کے انعقاد میں بعض لوگ بہت سرگرم رول ادا کرتے ہیں ان کا جب نام نہیں لیا جاتا ہے تو ان کے دل میں خیال اتا ہے کہ اظہار تشکر میں ان کا نام تک نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گھر ہو یا دفتر ہر جگہ ہم سب ایک دوسرے سے پیار و محبت سے پیش آئیں شوہر بیوی سے بیوی شوہر سے اور عہدیدار اپنے ماتحتین سے خوش اخلاقی سے جب پیش اتے ہیں تو ایک خوشگوار کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

 

اس موقع پر مولانا سید رفعت علی نقشبندی و قادری کے علاوہ جناب مشتاق ملک، سینئر صحافی جناب کے این واصف، جناب جے ایس افتخار، ڈاکٹر انیس منظور احمد، جناب سید افتخار ہاشمی، جناب سید ظہور الدین صدر نشین سکندرآباد کو اپریٹو بینک،محمد حسام الدین ریاض،جناب محمد عبدالرشید جماعت اسلامی، ڈاکٹر اظہر انصاری، ڈاکٹر ناظم علی،مجاہد صدیقی، شیخ کلیم العمودی،محمد فاروق علی اور دیگر معززین شہر کی بڑی تعداد موجود تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button