اربن سلم بستیوں میں عوامی صحت کا سنگین بحران۔نوجوانوں کو ہارٹ، برین اسٹروکس کے واقعات میں اضافہ۔ایچ ایچ ایف کا سروے

حیدرآباد۔17/فروری۔حیدرآباد کو اسمارٹ سٹی بنانے کے خواب کے ساتھ ترقی کی رفتار تو تیز ہو رہی ہے، مگر اسی شہر کے اربن سلمس اور کم آمدنی والی بستیوں میں ایک خاموش مگر سنگین صحت بحران بھی جنم لے رہا ہے۔ چمکتی سڑکوں اور بلند عمارتوں کے سائے میں ہزاروں خاندان بیماری اور علاج کے بڑھتے اخراجات سے جوجھ رہے ہیں، جہاں صحت کا مسئلہ صرف جسمانی نہیں بلکہ معاشی بھی بن چکا ہے۔
تازہ سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، طرزِ زندگی میں تبدیلی اور علاج کے اخراجات نے ہزاروں خاندانوں کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔جناب مجتبیٰ حسن عسکری ڈائریکٹر ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن نے آج میڈیا پلس آڈیٹوریم میں Helping Hand Foundation کی سالانہ اربن ہیلتھ رپورٹ 2026پیش کی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر کی پسماندہ بستیوں میں بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور غریب خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
150 سے زائد شہری اور مضافاتی علاقوں میں کیے گئے جائزے سے پتہ چلا کہ 35 فیصد لوگوں کے لیے سستی طبی سہولیات تک رسائی سب سے بڑا مسئلہ ہے، جبکہ 51 فیصد افراد علاج کے لیے ٹرانسپورٹ خرچ بچانے کی خاطر پیدل ہاسپٹل جانا پسند کرتے ہیں۔سروے میں تقریباً 1500 گھرانوں سے معلومات حاصل کی گئیں۔ کئی علاقوں میں معمولی بیماری کے علاج پر بھی خاندانوں کو ہر وزٹ پر 500 سے 1000 روپے تک خرچ کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی مالی حالت متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 35 سے 40 فیصد گھرانوں میں ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کے مریض موجود ہیں۔ ہر تین میں سے ایک بالغ فرداو بی سی ٹی کا شکار ہے اور بہت سے افراد کو اپنی بیماری کا علم بھی نہیں۔ نوجوانوں میں بھی شوگر اور بلڈ پریشر کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نوجوان خواتین میں ہارمون سے متعلق مسائل جیسے پی سی او ایس اور ماہواری کی بے قاعدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوان مردوں میں منہ کے کینسر کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جس کی بڑی وجہ گٹکا اور بغیر دھوئیں والے تمباکو کا استعمال ہے۔
دل، گردوں اور جگر کی بیماریوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ایچ ایچ ایف کے مطابق یہ مسائل ناقص غذا، فاسٹ فوڈ کے بڑھتے استعمال، جسمانی سرگرمی کی کمی، نیند کی خرابی اور بروقت علاج نہ کروانے کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ایچ ایچ ایف، SEED-USA اور AMPI-USA کے تعاون سے شہر میں 20 کمیونٹی ہیلتھ سینٹر چلا رہا ہے، جہاں مفت طبی مشورہ، خواتین اور بچوں کی نگہداشت، شوگر اور بلڈ پریشر کا علاج اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ سال 2025 میں تقریباً 5 لاکھ 88 ہزار سے زائد مریضوں نے ان مراکز سے مفت علاج حاصل کیا، جن میں 65 فیصد خواتین تھیں۔رپورٹ کے مطابق ان خدمات سے اب تک غریب خاندانوں کو تقریباً 100 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ 89 فیصد مستفیدین کا کہنا ہے کہ مفت علاج سے ان کے گھریلو اخراجات میں کمی آئی، جبکہ 81 فیصد لوگوں نے بتایا کہ انہیں علاج کے لیے قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔
مجتبیٰ حسن عسکری نے کہا کہ اربن سلمس میں سستی اور قریبی طبی سہولیات فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ریفرل نظام اور کمیونٹی سطح پر آگاہی سے نہ صرف صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ غریب خاندان قرض اور مالی پریشانی سے بھی بچ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہری بستیوں میں محلہ سطح پر صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ بیماریوں کے بڑھتے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔



