جنرل نیوز

حیدرآباد میں ‘استقبالِ ماہِ رمضان’ کے عنوان سے عظیم الشان اجتماع: قرآن، تقویٰ اور عصری چیلنجز پر روشنی

رپورٹ: نمائندہ خصوصی

حیدرآباد، 17 فروری 2026: حیدرآباد کی زرخیز سماجی و مذہبی فضا میں ‘استقبالِ ماہِ رمضان’ کے عنوان سے منعقدہ عظیم الشان اجتماع محض ایک روایتی تقریب نہیں، بلکہ ملی بیداری اور فکری نمو کا ایک تزویراتی سنگِ میل ثابت ہوا۔ تنظیمِ جعفری کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس پروگرام نے بین المسالک ہم آہنگی اور دورِ حاضر کے لادینی و استعماری چیلنجز کے خلاف ایک فکری ڈھال فراہم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ تقریب میں تلاوت کلام الہی کا وظیفہ جناب محمد منیر احمد صاحب قاری بین المللی و جناب صاحبزادہ قاری سید مدثر حسین صاحب نے انجام دیے، اور حمد باری تعالی و نعت پاک جناب یوسف خان و اعجاز شرفی حمیدی صاحب نے پیش کیا

 

تقریر اور خطاب کے سلسلے میں جناب مفتی معراج الدین ابرار صاحب (مدیر مدرسہ انوار الہدی) کے ساتھ ساتھ حافظ عبدالرحمن صاحب اور امام جمعہ مسجد میر محمد مومن مولانا اقا منور صاحب، امام جماعت مسجد امام صادق علیہ السلام مولانا مرتضی نقوی صاحب، اور مدريت اعلی روزنامہ صدائے حسینی جناب سید جعفر حسین صاحب اور ایران سے تشریف لائے ممتاز عالمِ دین مولانا آغا محمد حسن ابراہیمی صاحب، سینیئر جنرلسٹ جناب باقر حسین صاحب و مولانا حافظ جعفر رضوی و سیکرٹری جنرل تنظیم جعفری حیدراباد سید علی نقی موسوی صاحب، اور مقامی علماءِ کرام و دانشوروں نے شرکت کی، جنہوں نے قرآن، تقویٰ اور عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں کا احاطہ کیا۔

 

قرآنِ حکیم: انسانیت کا منشورِ عالمگیر اور ابدی ضابطہ

تقریب کے آغاز میں مقررین نے قرآنِ کریم کو محض ایک مقدس کتاب کے بجائے ‘منشورِ حیات’ (Universal Manifesto) کے طور پر پیش کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ قرآن کی ہدایت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ‘ہدیٰ للناس’ ہے، جو پوری بشریت کے لیے صراطِ مستقیم متعین کرتی ہے۔ سید جعفر رضوی صاحب نے ایک بصیرت افروز مثال پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جس طرح ہر مینوفیکچرر (تیار کنندہ) اپنی مصنوعات کے ساتھ ایک معلوماتی کتابچہ (Manual) فراہم کرتا ہے تاکہ وہ پروڈکٹ بہترین کارکردگی دکھا سکے، اسی طرح کائنات کے خالق نے انسان کی فکری و عملی اصلاح کے لیے قرآن جیسا ضابطہ اخلاق نازل فرمایا۔ تقریب میں اس نکتے پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ قرآن کا 23 سالہ عرصہِ نزول دراصل انسانی شعور کی بتدریج آبیاری کا عمل تھا۔ رمضان اور قرآن کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ اس ماہ کی فضیلت کا اصل سبب ہی نزولِ قرآن ہے، جو انسان کو ‘کمالِ بندگی’ تک پہنچانے کا واحد ذریعہ ہے۔

 

‘برکت’ کا فلسفہ اور ‘تقویٰ’ کی بلند ترین منزل

اجتماع میں ‘برکت’ کے علمی اور لغوی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ مولانا منور علی صاحب نے لفظ ‘برکت’ کی جڑوں کو عربی صحرائی ثقافت سے جوڑتے ہوئے ‘بِرکہ’ (صحرا میں پانی کا وہ ذخیرہ جو طویل عرصے تک پیاس بجھائے) کی مثال دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ برکت صرف مقدار کی زیادتی نہیں بلکہ یہ چھ بنیادی ستونوں کا مجموعہ ہے:

ارکان برکت علمی و عملی تعبیر

1 کثرت وسائل میں فراوانی اور وسعت

2 ثبات حق اور نیکی پر قائم رہنا

3 دوام روحانی و مادی فیض کا تسلسل

4 استحکام عقیدے اور عمل میں پختگی

5 رشد و نمو فکری اور اخلاقی ترقی

6 خیر عمل کا نفع بخش اور بابرکت ہونا

 

جناب مرتضی نقوی صاحب نے اشارہ کرتے ہوئے کہا:

تقویٰ کے باب میں ایک اہم نکتہ ‘ورع’ کا پیش کیا گیا۔ علماء نے واضح کیا کہ عام تقویٰ صرف گناہوں سے بچنا ہے، لیکن ‘ورع’ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں گناہ کا خیال تک پیدا نہ ہو۔ اسی روحانی پاکیزگی کو جدید سائنسی تناظر میں جوڑتے ہوئے امریکی محققین کی اس تحقیق کا حوالہ دیا گیا جس کے مطابق رمضان کے روزے انسانی جسم کو کینسر جیسے مہلک امراض سے محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی احکامات کی آفاقیت انسانی روح اور بدن دونوں کی ضامن ہے۔

 

اخلاصِ عمل: صدقہ اور ہدیہ کے مابین فرق

 

اور جناب مفتی معراج الدین ابرار صاحب نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ریاکاری اور نمائش پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ‘صدقہ’ اور ‘ہدیہ’ کے درمیان باریک فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ صدقہ صرف اللہ کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا اس میں لینے والے کی تشہیر کرنا توہینِ انسانیت ہے۔

 

انہوں نے رمضان میں راشن کی تقسیم کے دوران فوٹو گرافی اور سوشل میڈیا پر نمائش کو ‘ریاکاری’ قرار دیتے ہوئے حضرت فاطمہ زہراؑ کی سیرتِ طیبہ کا حوالہ دیا، جو سائل کو درہم دینے سے پہلے اسے خوشبو لگاتی تھیں کیونکہ ان کا ایقان تھا کہ یہ درہم سائل کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں پہنچتا ہے۔ ‘دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں کو پتہ نہ چلے’ کا قرآنی اصول ہی وہ اساس ہے جس پر ایک باوقار اسلامی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

 

حب الوطنی اور عالمی استعمار کے خلاف آوازِ حق

 

تقریب کے آخری حصے میں سیاسی اور عالمی چیلنجز زیرِ بحث آئے۔ چیف ایڈیٹر ‘صداے حسینی’ سید جعفر حسین نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کو ہر شہری کا بنیادی ‘آئینی حق’ قرار دیا۔ انہوں نے ‘وندے ماترم’ جیسے ترانوں کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسلمان ‘مادرِ وطن سے محبت’ (حبِ وطن) کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن ‘وطن کی پوجا’ (وطن پرستی) توحید کے منافی ہے، کیونکہ عبادت صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔

 

عالمی تناظر میں فور ٹی وی کے تجزیہ کار سید باقر حسین نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت اور ایران پر عالمی استعماری دباؤ کا ذکر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ رمضان کا حقیقی تقاضا ‘حق گوئی’ ہے، اور امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ فروعی اختلافات بالائے طاق رکھ کر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے۔

 

اختتامیہ: روحانی سفر کی تکمیل

 

اجتماع کا اختتام ماہِ رمضان کی تیاریوں کے عملی منصوبے پر ہوا۔ تمام مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ وہ اس ماہ کے تینوں عشروں (رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی) کی برکتوں کو سمیٹنے کے لیے چار چیزوں کی کثرت کریں: کلمہ طیبہ، استغفار، جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ۔

 

پروگرام کے اختتام پر ایک رقت آمیز دعا کی گئی جس میں ملتِ اسلامیہ کی سر بلندی، فلسطین و مقبوضہ علاقوں کی آزادی اور ظہورِ امامِ زمانہؑ کے لیے خصوصی التجا کی گئی۔ یہ اجتماع حیدرآباد کے مسلمانوں کے لیے ایک فکری مینارِ نور ثابت ہوا، جو انہیں محض ظاہری عبادات سے نکال کر حقیقی بیداری کی سمت لے جانے کا محرک بنے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button