’ایم ایس ڈگری کالج فارویمن‘ کے گریجویشن ڈے ’جشنِ کامیابی‘ کا انعقاد ۔ سال 2025 میں کامیاب 320 طالبات میں اسناد کی تقسیم

حیدرآباد: 19فروری 2026(پریس نوٹ) حیدرآباد کے تعلیمی افق پر نمایاں مقام رکھنے والی ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے ’ایم ایس ڈگری کالج فارویمن کے زیرِ اہتمام بھارتیہ ودیا بھون میں دو روزہ کانووکیشن بعنوان ’جشنِ کامیابی‘ منعقد ہوا۔اس موقع پر325 طالبات میں اسناد کی تقسیم کے ساتھ ساتھ انہیں تہنیت بھی پیش کی گئی۔
یہ پُروقار تقریب محض اسناد کی تقسیم تک محدود نہیں تھی بلکہ طالبات کے تعلیمی سفر کے ایک اہم سنگِ میل اور ان کی مستقبل کی کامیابیوں کے عزم کی عکاسی کرتی نظرآئی۔ اس موقع پر موجود ممتاز علمی و سماجی شخصیات نے طالبات کی غیر معمولی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے ان کی برسوں کی محنت اور اساتذہ کی بہترین تربیت کا ثمر قرار دیا۔ تقریب کے دوران فارغ التحصیل طالبات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی حاصل کردہ تعلیم کے ذریعے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملت اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنا بھرپوررول اداکریں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرپرسن نزہت خان نے طالبات کے نرسری سے گریجویشن تک کے 15 سالہ طویل سفر کو بے حد جذباتی انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کردار سازی کی مشقت کو "کسان اور بیج” کے استعارے سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایس نے ان طالبات کے جوہرِ قابل کو نکھارنے میں برسوں صبر و استقامت سے کام لیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ ان فارغ التحصیل طالبات کو محض 325 طلبہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ 325 نسلوں کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نیر فروزاں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے سحر اور انسانی عقل کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ہمیں "مصنوعی طور پر جاہل” بنا رہا ہے۔ انہوں نے زندگی کی ریاضی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اگر انسان 100 سال کی زندگی پائے، تو بچپن اور نیند نکال کر اس کے پاس عملی طور پر صرف 11,000 فعال دن بچتے ہیں۔ انہوں نے لکڑہارے کی کہانی کے ذریعے "لمحوں کے احتساب” کی اہمیت بتائی اور کہا کہ ایک مضبوط عورت ہی ایک مضبوط خاندان کی ضامن ہوتی ہے۔
معروف سماجی کارکن روبینہ نفیس نے ڈگری کو "خالی پلاٹ” قرار دیا جس پر اب صلاحیتوں کی کاشتکاری کرنا طالبات کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ملکی افرادی قوت میں مسلم خواتین کی شراکت دو فیصد سے بھی کم ہے، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے خواتین کی معاشی خود مختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بینک اکاؤنٹ ہونا صرف رقم کا حصول نہیں بلکہ گھر کے فیصلوں میں اپنی رائے منوانے کا آغاز ہے۔ انہوں نے طالبات کو آئی اے ایس (IAS)، پارلیمنٹ اور کارپوریٹ بورڈ رومز میں اپنی جگہ بنانے کی ترغیب دی۔
ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی نے واضح کیا کہ تعلیم کا اصل مقصد سوشل میڈیا کی "خاموش غلامی” سے نجات اور محض "پیروکار” بننے کے بجائے معاشرے کی تعمیر میں "معاون” کا کردار ادا کرنا ہے۔ مجموعی طورپرایم ایس ڈگری کالج کی طالبات نے اس تقریب کو ایک اپنے لئے”یومِ تبدیلی” قراردیاگیا ۔ یاد رہے کہ ’ایم ایس ڈگری کالج فارویمن‘کے چار مراکز ٹولی چوکی، آصف نگر، ملک پیٹ اور شاہ علی بنڈہ میں واقع روایتی تعلیم کے ساتھ عملی ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ یہاں ڈگری کے ساتھ ساتھ سرٹیفائیڈ ٹیچر ٹریننگ، آئی ای ایل ٹی ایس (IELTS)، فیشن ڈیزائننگ، مہندی اور انٹیریئر ڈیزائننگ جیسے انٹیگریٹڈ کورسز کرائے جاتے ہیں۔
جبکہ طالبات کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بیکنگ، کوکنگ، ڈپلومہ ان چائلڈ سائیکالوجی اور شریعہ کمپلائنس کے تحت پری میریٹل کورس بھی دستیاب ہے۔ یہ پروگرامز طالبات کو معاشی طور پر خود مختار بنانے اور انہیں جدید دور کے پیشہ ورانہ تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔



